صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. باب آنية الفضة:
باب: چاندی کے برتن میں پینا حرام ہے۔
حدیث نمبر: 5633
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ حُذَيْفَةَ وَذَكَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَشْرَبُوا فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، وَلَا تَلْبَسُوا الْحَرِيرَ وَالدِّيبَاجَ، فَإِنَّهَا لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَكُمْ فِي الْآخِرَةِ".
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا، ان سے ابن عون نے بیان کیا، ان سے مجاہد نے اور ان سے ابن ابی لیلیٰ نے بیان کیا کہ ہم حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلے پھر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ سونے اور چاندی کے پیالہ میں نہ پیا کرو اور نہ ریشم و دیبا پہنا کرو کیونکہ یہ چیزیں ان کے لیے دینا میں ہیں اور تمہارے لیے آخرت میں ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأشربة/حدیث: 5633]
حضرت ابولیلیٰ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ باہر نکلے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”سونے اور چاندی کے برتنوں میں نہ کھاؤ پیو، نیز ریشم اور دیبا بھی نہ پہنو، کیونکہ یہ چیزیں ان (کفار) کے لیے دنیا میں ہیں اور تمہارے لیے آخرت میں ہوں گی۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأشربة/حدیث: 5633]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3571
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ زَرِيرٍ، سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"فِي مَسِيرٍ فَأَدْلَجُوا لَيْلَتَهُمْ حَتَّى إِذَا كَانَ وَجْهُ الصُّبْحِ عَرَّسُوا، فَغَلَبَتْهُمْ أَعْيُنُهُمْ حَتَّى ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ فَكَانَ أَوَّلَ مَنِ اسْتَيْقَظَ مِنْ مَنَامِهِ أَبُو بَكْرٍ، وَكَانَ لَا يُوقَظُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَنَامِهِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ فَاسْتَيْقَظَ عُمَرُ فَقَعَدَ أَبُو بَكْرٍ عِنْدَ رَأْسِهِ فَجَعَلَ يُكَبِّرُ، وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ حَتَّى اسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَ وَصَلَّى بِنَا الْغَدَاةَ فَاعْتَزَلَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ لَمْ يُصَلِّ مَعَنَا فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ: يَا فُلَانُ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَنَا، قَالَ: أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَيَمَّمَ بِالصَّعِيدِ، ثُمَّ صَلَّى وَجَعَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَكُوبٍ بَيْنَ يَدَيْهِ وَقَدْ عَطِشْنَا عَطَشًا شَدِيدًا، فَبَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ إِذَا نَحْنُ بِامْرَأَةٍ سَادِلَةٍ رِجْلَيْهَا بَيْنَ مَزَادَتَيْنِ، فَقُلْنَا لَهَا: أَيْنَ الْمَاءُ، فَقَالَتْ: إِنَّهُ لَا مَاءَ، فَقُلْنَا: كَمْ بَيْنَ أَهْلِكِ وَبَيْنَ الْمَاءِ، قَالَتْ: يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ، فَقُلْنَا: انْطَلِقِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: وَمَا رَسُولُ اللَّهِ فَلَمْ نُمَلِّكْهَا مِنْ أَمْرِهَا حَتَّى اسْتَقْبَلْنَا بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثَتْهُ بِمِثْلِ الَّذِي حَدَّثَتْنَا غَيْرَ أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ، أَنَّهَا مُؤْتِمَةٌ فَأَمَرَ بِمَزَادَتَيْهَا فَمَسَحَ فِي الْعَزْلَاوَيْنِ فَشَرِبْنَا عِطَاشًا أَرْبَعِينَ رَجُلًا حَتَّى رَوِينَا فَمَلَأْنَا كُلَّ قِرْبَةٍ مَعَنَا وَإِدَاوَةٍ غَيْرَ، أَنَّهُ لَمْ نَسْقِ بَعِيرًا وَهِيَ تَكَادُ تَنِضُّ مِنَ الْمِلْءِ ثُمَّ، قَالَ: هَاتُوا مَا عِنْدَكُمْ فَجُمِعَ لَهَا مِنَ الْكِسَرِ وَالتَّمْرِ حَتَّى أَتَتْ أَهْلَهَا، قَالَتْ: لَقِيتُ أَسْحَرَ النَّاسِ أَوْ هُوَ نَبِيٌّ كَمَا زَعَمُوا فَهَدَى اللَّهُ ذَاكَ الصِّرْمَ بِتِلْكَ الْمَرْأَةِ فَأَسْلَمَتْ وَأَسْلَمُوا".
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے سلم بن زریر نے بیان کیا، انہوں نے ابورجاء سے سنا کہ ہم سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، رات بھر سب لوگ چلتے رہے جب صبح کا وقت قریب ہوا تو پڑاؤ کیا (چونکہ ہم تھکے ہوئے تھے) اس لیے سب لوگ اتنی گہری نیند سو گئے کہ سورج پوری طرح نکل آیا۔ سب سے پہلے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جاگے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو، جب آپ سوتے ہوتے تو جگاتے نہیں تھے تاآنکہ آپ خود ہی جاگتے، پھر عمر رضی اللہ عنہ بھی جاگ گئے۔ آخر ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے سر مبارک کے قریب بیٹھ گئے اور بلند آواز سے اللہ اکبر کہنے لگے۔ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی جاگ گئے اور وہاں سے کوچ کا حکم دے دیا۔ (پھر کچھ فاصلے پر تشریف لائے) اور یہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اترے اور آپ نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی۔ ایک شخص ہم سے دور کونے میں بیٹھا رہا۔ اس نے ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: اے فلاں! ہمارے ساتھ نماز پڑھنے سے تجھے کس چیز نے روکا؟ اس نے عرض کیا کہ مجھے غسل کی حاجت ہو گئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ پاک مٹی سے تیمم کر لو (پھر اس نے بھی تیمم کے بعد) نماز پڑھی۔ عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چند سواروں کے ساتھ آگے بھیج دیا۔ (تاکہ پانی تلاش کریں کیونکہ) ہمیں سخت پیاس لگی ہوئی تھی، اب ہم اسی حالت میں چل رہے تھے کہ ہمیں ایک عورت ملی جو دو مشکوں کے درمیان (سواری پر) اپنے پاؤں لٹکائے ہوئے جا رہی تھی۔ ہم نے اس سے کہا کہ پانی کہاں ملتا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ یہاں پانی نہیں ہے۔ ہم نے اس سے پوچھا کہ تمہارے گھر سے پانی کتنے فاصلے پر ہے؟ اس نے جواب دیا کہ ایک دن ایک رات کا فاصلہ ہے، ہم نے اس سے کہا کہ اچھا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں چلو، وہ بولی رسول اللہ کے کیا معنی ہیں؟ عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، آخر ہم اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے، اس نے آپ سے بھی وہی کہا جو ہم سے کہہ چکی تھی۔ ہاں اتنا اور کہا کہ وہ یتیم بچوں کی ماں ہے (اس لیے واجب الرحم ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اس کے دونوں مشکیزوں کو اتارا گیا اور آپ نے ان کے دہانوں پر دست مبارک پھیرا۔ ہم چالیس پیاسے آدمیوں نے اس میں سے خوب سیراب ہو کر پیا اور اپنے تمام مشکیزے اور بالٹیاں بھی بھر لیں صرف ہم نے اونٹوں کو پانی نہیں پلایا، اس کے باوجود اس کی مشکیں پانی سے اتنی بھری ہوئی تھیں کہ معلوم ہوتا تھا ابھی بہہ پڑیں گی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کچھ تمہارے پاس ہے (کھانے کی چیزوں میں سے) میرے پاس لاؤ۔ چنانچہ اس عورت کے لیے روٹی کے ٹکڑے اور کھجوریں لا کر جمع کر دیں گئیں۔ پھر جب وہ اپنے قبیلے میں آئی تو اپنے آدمیوں سے اس نے کہا کہ آج میں سب سے بڑے جادوگر سے مل کر آئی ہوں یا پھر جیسا کہ (اس کے ماننے والے) لوگ کہتے ہیں، وہ واقعی نبی ہے۔ آخر اللہ تعالیٰ نے اس کے قبیلے کو اسی عورت کی وجہ سے ہدایت دی، وہ خود بھی اسلام لائی اور تمام قبیلے والوں نے بھی اسلام قبول کر لیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأشربة/حدیث: 3571]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک سفر میں تھے۔ لوگ رات بھر چلتے رہے، جب صبح کا وقت قریب ہوا تو آرام کے لیے ٹھہرے۔ نیند کی وجہ سے ان کی آنکھوں نے ان پر غلبہ کر لیا، حتیٰ کہ سورج پوری طرح نکل آیا۔ سب سے پہلے نیند سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نیند سے بیدار نہیں کیا جاتا تھا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود ہی جاگ پڑتے۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے۔ بالآخر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے پاس بیٹھ کر بہ آواز بلند «اَللّٰہُ اَکْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہنا شروع کر دیا یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے۔ پھر (وہاں سے چلے اور) ایک مقام پر پڑاؤ کیا اور ہمیں صبح کی نماز پڑھائی۔ ایک شخص ہم سے دور ایک کونے میں بیٹھا رہا اور اس نے ہمارے ساتھ نماز نہ پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے فراغت کے بعد فرمایا: ”اے فلاں! ہمارے ساتھ نماز پڑھنے سے تجھے کس چیز نے روکا؟“ اس نے عرض کیا: مجھے جنابت لاحق ہو گئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پاک مٹی سے تیمم کرنے کا حکم دیا تو اس نے نماز پڑھی۔ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چند سواروں کے ہمراہ آگے بھیج دیا (تاکہ ہم پانی تلاش کریں)۔ ہم بہت زیادہ پیاسے تھے۔ اس دوران میں ہم کیا دیکھتے ہیں کہ ایک عورت دو بڑی مشکوں کے درمیان اپنے پاؤں لٹکائے ہوئے ہے۔ ہم نے اسے کہا: پانی کہاں ہے؟ اس نے جواب دیا کہ یہاں پانی نہیں ہے۔ ہم نے دوبارہ پوچھا کہ تیرے گھر اور پانی کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ اس نے کہا کہ ایک دن اور ایک رات کا سفر ہے۔ ہم نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے کہا تو اس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہوتا ہے؟ بہرحال ہم نے اس کی کوئی پیش نہ چلنے دی اور اسے چلنے پر مجبور کر دیا یہاں تک کہ ہم اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے آئے۔ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہی گفتگو کی جو ہم سے کی تھی، البتہ اتنی بات مزید بتائی کہ وہ یتیم بچوں کی ماں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دونوں مشکوں کو کھولنے کا حکم دیا اور ان کے دہانوں پر دستِ مبارک پھیرا۔ ہم چالیس پیاسے آدمیوں نے ان سے خوب سیر ہو کر پانی پیا اور ہمارے پاس جتنے مشکیزے اور برتن تھے سب بھر لیے لیکن اس سے اپنے اونٹوں کو پانی نہ پلایا۔ اس کے باوجود اس کی مشکیں اس قدر پانی سے بھری معلوم ہوتی تھیں کہ پھٹنے کے قریب تھیں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کچھ تمہارے پاس ہے اسے میرے پاس لاؤ۔“ چنانچہ اس عورت کے لیے روٹی کے ٹکڑے اور کھجوریں لا کر جمع کر دی گئیں۔ جب وہ اپنے قبیلے کے پاس گئی تو کہنے لگی: آج میں سب سے بڑے جادوگر کے پاس سے آئی ہوں یا وہ واقعی نبی ہے جیسا کہ اس کے پیروکار کہتے ہیں، بہرحال اللہ تعالیٰ نے اس عورت کے باعث اس گاؤں کے رہنے والوں کو ہدایت دی، چنانچہ وہ خود بھی مسلمان ہو گئی اور تمام قبیلے والوں نے بھی اسلام قبول کر لیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأشربة/حدیث: 3571]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5426
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سَيْفُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا، يَقُولُ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى، أَنَّهُمْ كَانُوا عِنْدَ حُذَيْفَةَ فَاسْتَسْقَى، فَسَقَاهُ مَجُوسِيٌّ فَلَمَّا وَضَعَ الْقَدَحَ فِي يَدِهِ رَمَاهُ بِهِ، وَقَالَ: لَوْلَا أَنِّي نَهَيْتُهُ غَيْرَ مَرَّةٍ وَلَا مَرَّتَيْنِ، كَأَنَّهُ يَقُولُ: لَمْ أَفْعَلْ هَذَا وَلَكِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا تَلْبَسُوا الْحَرِيرَ وَلَا الدِّيبَاجَ، وَلَا تَشْرَبُوا فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، وَلَا تَأْكُلُوا فِي صِحَافِهَا، فَإِنَّهَا لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَنَا فِي الْآخِرَةِ".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سیف بن ابی سلیمان نے، کہا کہ میں نے مجاہد سے سنا، کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے بیان کیا کہ یہ لوگ حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں موجود تھے۔ انہوں نے پانی مانگا تو ایک مجوسی نے ان کو پانی (چاندی کے پیالے میں) لا کر دیا۔ جب اس نے پیالہ ان کے ہاتھ میں دیا تو انہوں نے پیالہ کو اس پر پھینک کر مارا اور کہا اگر میں نے اسے بارہا اس سے منع نہ کیا ہوتا (کہ چاندی سونے کے برتن میں مجھے کچھ نہ دیا کرو) آگے وہ یہ فرمانا چاہتے تھے کہ تو میں اس سے یہ معاملہ نہ کرتا لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ریشم و دیبا نہ پہنو اور نہ سونے چاندی کے برتن میں کچھ پیو اور نہ ان کی پلیٹوں میں کچھ کھاؤ کیونکہ یہ چیزیں ان (کفار کے لیے) دنیا میں ہیں اور ہمارے لیے آخرت میں ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأشربة/حدیث: 5426]
حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ لوگ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں موجود تھے، انہوں نے پانی مانگا تو ایک مجوسی نے ان کو پانی لا کر دیا۔ جب اس نے پیالہ ان کے ہاتھ میں دیا تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے پیالہ اس پر پھینک مارا اور فرمایا: ”اگر میں نے اسے ایک یا دو بار منع نہ کیا ہوتا تو میں اس سے یہ معاملہ نہ کرتا لیکن میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ریشم اور دیباج نہ پہنو اور نہ سونے چاندی کے برتنوں ہی میں کچھ پیو اور نہ ان کی پلیٹوں میں کچھ کھاؤ کیونکہ یہ چیزیں دنیا میں ان (کافروں) کے لیے اور ہمارے لیے آخرت میں ہیں۔““ [صحيح البخاري/كتاب الأشربة/حدیث: 5426]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5828
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ النَّهْدِيَّ: أَتَانَا كِتَابُ عُمَرَ وَنَحْنُ مَعَ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ بِأَذْرَبِيجَانَ" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْحَرِيرِ، إِلَّا هَكَذَا، وَأَشَارَ بِإِصْبَعَيْهِ اللَّتَيْنِ تَلِيَانِ الْإِبْهَامَ"، قَالَ: فِيمَا عَلِمْنَا أَنَّهُ يَعْنِي الْأَعْلَامَ.
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، کہا ہم سے قتادہ نے، کہا کہ میں نے ابوعثمان نہدی سے سنا کہ ہمارے پاس عمر رضی اللہ عنہ کا مکتوب (خط) آیا ہم اس وقت عتبہ بن فرقد رضی اللہ عنہ کے ساتھ آذر بائیجان میں تھے (اس میں لکھا تھا) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم کے استعمال سے (مردوں کو) منع کیا ہے سوا اتنے کے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھے کے قریب کی اپنی دونوں انگلیوں کے اشارے سے اس کی مقدار بتائی۔ ابوعثمان نہدی نے بیان کیا کہ ہماری سمجھ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد اس سے (کپڑے وغیرہ ریشم کے) پھول بوٹے بنانے سے تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأشربة/حدیث: 5828]
حضرت ابو عثمان نہدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ”ہمارے پاس حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ایک مکتوب آیا جبکہ ہم آذربائیجان میں حضرت عتبہ بن فرقد رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھے، اس میں تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے مگر اتنی مقدار میں استعمال کر سکتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے اپنی دو انگلیوں سے اشارہ فرمایا جو انگوٹھے سے متصل ہیں۔“ راوی نے کہا: ”ہماری سمجھ کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سے مراد ریشم سے پھول بوٹے بنانے سے تھی۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأشربة/حدیث: 5828]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5829
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيْنَا عُمَرُ وَنَحْنُ بِأَذْرَبِيجَانَ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ إِلَّا هَكَذَا، وَصَفَّ لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِصْبَعَيْهِ وَرَفَعَ زُهَيْرٌ الْوُسْطَى وَالسَّبابةَ".
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، ان سے عاصم نے بیان، ان سے ابوعثمان نے بیان کیا کہ ہمیں عمر رضی اللہ عنہ نے لکھا اس وقت ہم آذر بائیجان میں تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم پہننے سے منع فرمایا تھا سوا اتنے کے اور اس کی وضاحت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو انگلیوں کے اشارے سے کی تھی۔ زہیر (راوی حدیث) نے بیچ کی اور شہادت کی انگلیاں اٹھا کر بتایا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأشربة/حدیث: 5829]
حضرت ابوعثمان نہدی رحمہ اللہ سے ہی روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہمیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے خط لکھا جبکہ ہم آذربائیجان میں تھے کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم پہننے سے منع فرمایا ہے مگر اتنی مقدار جائز ہے“۔ اس مقدار کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کر کے بیان فرمایا؛ زہیر (راوی) نے درمیان والی اور شہادت کی انگلی اٹھا کر مقدار بتائی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأشربة/حدیث: 5829]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5830
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ: كُنَّا مَعَ عُتْبَةَ فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يُلْبَسُ الْحَرِيرُ فِي الدُّنْيَا إِلَّا لَمْ يُلْبَسْ فِي الْآخِرَةِ مِنْهُ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے تیمی نے بیان کیا اور ان سے ابوعثمان نے بیان کیا کہ ہم عتبہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں لکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دنیا میں ریشم جو شخص بھی پہنے گا اسے آخرت میں نہیں پہنایا جائے گا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأشربة/حدیث: 5830]
حضرت ابو عثمان نہدی رحمہ اللہ سے ایک روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم عتبہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، انہیں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خط لکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے دنیا میں ریشم پہنا اسے آخرت میں نہیں پہنایا جائے گا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأشربة/حدیث: 5830]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5832
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ شُعْبَةُ: فَقُلْتُ: أَعَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ شَدِيدًا: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا فَلَنْ يَلْبَسَهُ فِي الْآخِرَةِ"
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا، کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، شعبہ نے بیان کیا کہ اس پر میں نے پوچھا کیا یہ روایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے؟ عبدالعزیز نے بیان کیا کہ قطعاً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو مرد ریشمی لباس دنیا میں پہنے گا وہ آخرت میں اسے ہرگز نہیں پہن سکے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأشربة/حدیث: 5832]
حضرت شعبہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے عبدالعزیز بن صہیب رحمہ اللہ سے پوچھا: کیا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ریشم کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ تو انہوں نے سخت غصے سے فرمایا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا: ”جو مرد ریشمی لباس دنیا میں پہنے گا وہ آخرت میں اسے ہرگز نہیں پہن سکے گا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأشربة/حدیث: 5832]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5833
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ، يَخْطُبُ، يَقُولُ: قَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الْآخِرَةِ".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ثابت نے بیان کیا کہ میں نے ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جس مرد نے دنیا میں ریشم پہنا وہ آخرت میں اسے نہیں پہن سکے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأشربة/حدیث: 5833]
حضرت ثابت رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں نے ابن زبیر رضی اللہ عنہ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی دنیا میں ریشم پہنے گا وہ اسے آخرت میں نہیں پہنے گا۔““ [صحيح البخاري/كتاب الأشربة/حدیث: 5833]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5834
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي ذِبْيَانَ خَلِيفَةَ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الْآخِرَةِ"، وَقَالَ أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ، قَالَتْ مُعَاذَةُ: أَخْبَرَتْنِي أُمُّ عَمْرٍو بِنْتُ عَبْدِ اللَّهِ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، سَمِعَ عُمَرَ، سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
ہم سے علی بن جعد نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں ابوذہبان خلیفہ بن کعب نے، کہا کہ میں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے سنا، کہا کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس مرد نے دنیا میں ریشم پہنا وہ اسے آخرت میں نہیں پہن سکے گا۔ اور ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، ان سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے یزید نے کہ معاذ نے بیان کیا کہ مجھے ام عمرو بنت عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأشربة/حدیث: 5834]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس مرد نے دنیا میں ریشم پہنا وہ اسے آخرت میں نہیں پہن سکے گا۔“ ام عمرو بنت عبداللہ کہتی ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأشربة/حدیث: 5834]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5837
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" نَهَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَشْرَبَ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، وَأَنْ نَأْكُلَ فِيهَا، وَعَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ وَأَنْ نَجْلِسَ عَلَيْهِ".
ہم سے علی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ان کے والد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابن ابی نجیح سے سنا، انہوں نے مجاہد سے، انہوں نے ابن ابی لیلیٰ سے اور ان سے حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سونے اور چاندی کے برتن میں پینے اور کھانے سے منع فرمایا تھا اور ریشم اور دیباج پہننے اور اس پر بیٹھنے سے منع فرمایا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأشربة/حدیث: 5837]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ”سونے چاندی کے برتنوں میں کھانے پینے سے منع فرمایا ہے، نیز ریشم اور دیبا پہننے اور ان پر بیٹھنے سے بھی منع کیا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأشربة/حدیث: 5837]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة