صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
90. باب ما يجوز من الشعر والرجز والحداء وما يكره منه:
باب: شعر، رجز اور حدی خوانی کا جائز ہونا۔
حدیث نمبر: 6145
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِكْمَةً".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ کو ابوبکر بن عبدالرحمٰن نے خبر دی، انہیں مروان بن حکم نے خبر دی، انہیں عبدالرحمٰن بن اسود بن عبد یغوث نے خبر دی، انہیں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بعض شعروں میں دانائی ہوتی ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 6145]
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ لَحِكْمَةً» ”کچھ اشعار بہت حکمت بھرے ہوتے ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 6145]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5146
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: جَاءَ رَجُلَانِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَخَطَبَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا".
ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے زید بن اسلم نے کہا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ دو آدمی مدینہ کے مشرق کی طرف سے آئے، وہ مسلمان ہو گئے اور خطبہ دیا، نہایت فصیح و بلیغ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ بعض تقریر جادو کی اثر کرتی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 5146]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ”دو آدمی مشرق کی جانب سے آئے اور ان دونوں نے (مؤثر) خطبہ پڑھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بعض بیان جادو اثر ہوتے ہیں۔“” [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 5146]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة