صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. باب من برك على ركبتيه عند الإمام أو المحدث:
باب: اس شخص کے بارے میں جو امام یا محدث کے سامنے دو زانو (ہو کر ادب کے ساتھ) بیٹھے۔
حدیث نمبر: 93
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ، فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُذَافَةَ، فَقَالَ: مَنْ أَبِي؟ فَقَالَ: أَبُوكَ حُذَافَةُ، ثُمَّ أَكْثَرَ أَنْ يَقُولَ سَلُونِي، فَبَرَكَ عُمَرُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، فَقَالَ: رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيًّا"، فَسَكَتَ.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہیں شعیب نے زہری سے خبر دی، انہیں انس بن مالک نے بتلایا کہ (ایک دن) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلے تو عبداللہ بن حذافہ کھڑے ہو کر پوچھنے لگے کہ یا رسول اللہ! میرا باپ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حذافہ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باربار فرمایا کہ مجھ سے پوچھو، تو عمر رضی اللہ عنہ نے دو زانو ہو کر عرض کیا کہ ہم اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر راضی ہیں (اور یہ جملہ) تین مرتبہ (دہرایا) پھر (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 93]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو حضرت عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہما نے کھڑے ہو کر سوال کیا: میرے والد کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے والد حذافہ ہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار فرمایا: ”مجھ سے دریافت کرو۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ دوزانو بیٹھ گئے اور کہنے لگے: ہم اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر خوش ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 93]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 92
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَشْيَاءَ كَرِهَهَا، فَلَمَّا أُكْثِرَ عَلَيْهِ غَضِبَ، ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ:" سَلُونِي عَمَّا شِئْتُمْ، قَالَ رَجُلٌ: مَنْ أَبِي؟ قَالَ: أَبُوكَ حُذَافَةُ، فَقَامَ آخَرُ، فَقَالَ: مَنْ أَبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ: أَبُوكَ سَالِمٌ مَوْلَى شَيْبَةَ، فَلَمَّا رَأَى عُمَرُ مَا فِي وَجْهِهِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَتُوبُ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، ان سے ابواسامہ نے برید کے واسطے سے بیان کیا، وہ ابوبردہ سے اور وہ ابوموسیٰ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ ایسی باتیں دریافت کی گئیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو برا معلوم ہوا اور جب (اس قسم کے سوالات کی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بہت زیادتی کی گئی تو آپ کو غصہ آ گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا (اچھا اب) مجھ سے جو چاہو پوچھو۔ تو ایک شخص نے دریافت کیا کہ میرا باپ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تیرا باپ حذافہ ہے۔ پھر دوسرا آدمی کھڑا ہوا اور اس نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! میرا باپ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تیرا باپ سالم شیبہ کا آزاد کردہ غلام ہے۔ آخر عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کے چہرہ مبارک کا حال دیکھا تو عرض کیا یا رسول اللہ! ہم (ان باتوں کے دریافت کرنے سے جو آپ کو ناگوار ہوں) اللہ سے توبہ کرتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 92]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے چند ایسی باتیں پوچھی گئیں جو آپ کے مزاج کے خلاف تھیں، جب اس قسم کے سوالات کی آپ کے سامنے تکرار کی گئی تو آپ کو غصہ آ گیا، پھر لوگوں سے فرمایا: ”اچھا جو چاہو مجھ سے پوچھو۔“ اس پر ایک شخص نے عرض کیا: میرا باپ کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ”تیرا باپ حذافہ ہے۔“ پھر دوسرے شخص نے کھڑے ہو کر کہا: یا رسول اللہ! میرا باپ کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ”تیرا باپ سالم ہے جو شیبہ کا غلام ہے۔“ پھر جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کے چہرہ مبارک پر آثارِ غضب دیکھے تو کہنے لگے: یا رسول اللہ! ہم اللہ عزوجل کی بارگاہ میں توبہ کرتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 92]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 540
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ حِينَ زَاغَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى الظُّهْرَ، فَقَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَذَكَرَ السَّاعَةَ، فَذَكَرَ أَنَّ فِيهَا أُمُورًا عِظَامًا، ثُمَّ قَالَ: مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَسْأَلَ عَنْ شَيْءٍ فَلْيَسْأَلْ، فَلَا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ إِلَّا أَخْبَرْتُكُمْ مَا دُمْتُ فِي مَقَامِي هَذَا، فَأَكْثَرَ النَّاسُ فِي الْبُكَاءِ، وَأَكْثَرَ أَنْ يَقُولَ: سَلُونِي، فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُذَافَةَ السَّهْمِيُّ، فَقَالَ: مَنْ أَبِي؟ قَالَ: أَبُوكَ حُذَافَةُ، ثُمَّ أَكْثَرَ أَنْ يَقُولَ: سَلُونِي، فَبَرَكَ عُمَرُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، فَقَالَ: رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا، فَسَكَتَ ثُمَّ قَالَ: عُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ آنِفًا فِي عُرْضِ هَذَا الْحَائِطِ، فَلَمْ أَرَ كَالْخَيْرِ وَالشَّرِّ".
ہم سے ابوالیمان حکم بن نافع نے بیان کیا، کہا ہم سے شعیب نے زہری کی روایت سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ جب سورج ڈھلا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حجرہ سے باہر تشریف لائے اور ظہر کی نماز پڑھی۔ پھر منبر پر تشریف لائے۔ اور قیامت کا ذکر فرمایا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت میں بڑے عظیم امور پیش آئیں گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کسی کو کچھ پوچھنا ہو تو پوچھ لے۔ کیونکہ جب تک میں اس جگہ پر ہوں تم مجھ سے جو بھی پوچھو گے۔ میں اس کا جواب ضرور دوں گا۔ لوگ بہت زیادہ رونے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم برابر فرماتے جاتے تھے کہ جو کچھ پوچھنا ہو پوچھو۔ عبداللہ بن حذافہ سہمی کھڑے ہوئے اور دریافت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے باپ کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے باپ حذافہ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اب بھی برابر فرما رہے تھے کہ پوچھو کیا پوچھتے ہو۔ اتنے میں عمر رضی اللہ عنہ ادب سے گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور انہوں نے فرمایا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے مالک ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے نبی ہونے سے راضی اور خوش ہیں۔ (پس اس گستاخی سے ہم باز آتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جا اور بے جا سوالات کریں) اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابھی ابھی میرے سامنے جنت اور جہنم اس دیوار کے کونے میں پیش کی گئی تھی۔ پس میں نے نہ ایسی کوئی عمدہ چیز دیکھی (جیسی جنت تھی) اور نہ کوئی ایسی بری چیز دیکھی (جیسی دوزخ تھی)۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 540]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورج ڈھلنے پر تشریف لائے، ظہر کی نماز ادا فرمائی، پھر منبر پر کھڑے ہوئے، قیامت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اس میں بڑے بڑے حوادث ہوں گے۔ پھر فرمایا: ”اگر کوئی شخص کسی چیز کی بابت کوئی سوال کرنا چاہتا ہے تو دریافت کرے۔ جب تک میں اس مقام پر ہوں مجھ سے جو بات دریافت کرو گے میں تمہیں اس کے متعلق بتاؤں گا۔“ لوگ بکثرت گریہ کرنے لگے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم بار بار یہ فرماتے: ”مجھ سے پوچھو۔“ اس دوران میں حضرت عبداللہ بن حذافہ سہمی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور دریافت کیا: میرا باپ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا باپ حذافہ ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ سے پوچھو۔“ آخر کار حضرت عمر رضی اللہ عنہ (ادب سے) کھڑے ہوئے، دوزانو بیٹھ کر عرض کرنے لگے: ہم اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر راضی ہیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔ پھر فرمایا: ”ابھی ابھی دیوار کے اس کنارے سے میرے سامنے جنت اور دوزخ کو پیش کیا گیا تو میں نے جنت کی طرح بہتر اور جہنم کی طرح بدتر کوئی چیز نہیں دیکھی۔“ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 540]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 749
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: صَلَّى لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ رَقَا الْمِنْبَرَ فَأَشَارَ بِيَدَيْهِ قِبَلَ قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ، ثُمَّ قَالَ:" لَقَدْ رَأَيْتُ الْآنَ مُنْذُ صَلَّيْتُ لَكُمُ الصَّلَاةَ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ مُمَثَّلَتَيْنِ فِي قِبْلَةِ هَذَا الْجِدَارِ، فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ ثَلَاثًا".
ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ہلال بن علی نے بیان کیا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے۔ آپ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو نماز پڑھائی۔ پھر منبر پر تشریف لائے اور اپنے ہاتھ سے قبلہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ ابھی جب میں نماز پڑھا رہا تھا تو جنت اور دوزخ کو اس دیوار پر دیکھا۔ اس کی تصویریں اس دیوار میں قبلہ کی طرف نمودار ہوئیں تو میں نے آج کی طرح خیر اور شر کبھی نہیں دیکھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قول مذکور تین بار فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 749]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، اس کے بعد منبر پر تشریف لائے اور اپنے دونوں ہاتھوں سے مسجد کے قبلے کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: ”میں نے ابھی جبکہ تمہیں نماز پڑھا رہا تھا جنت اور دوزخ کو دیکھا، ان دونوں کی اس دیوار کے قبلے میں تصویریں بنا دی گئی تھیں، میں نے آج کے دن جیسا کوئی دن نہیں دیکھا جس میں خیر اور شر دونوں جمع ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا تین مرتبہ فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 749]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4621
حَدَّثَنَا مُنْذِرُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَارُودِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطْبَةً مَا سَمِعْتُ مِثْلَهَا قَطُّ، قَالَ:" لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا"، قَالَ: فَغَطَّى أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وُجُوهَهُمْ لَهُمْ خَنِينٌ، فَقَالَ رَجُلٌ: مَنْ أَبِي؟ قَالَ: فُلَانٌ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ، لا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ سورة المائدة آية 101. رَوَاهُ النَّضْرُ، وَرَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ شُعْبَةَ.
ہم سے منذر بن ولید بن عبدالرحمٰن جارودی نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن انس نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا خطبہ دیا کہ میں نے ویسا خطبہ کبھی نہیں سنا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کچھ میں جانتا ہوں اگر تمہیں بھی معلوم ہوتا تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے اپنے چہرے چھپا لیے، باوجود ضبط کے ان کے رونے کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ ایک صحابی نے اس موقع پر پوچھا: میرے والد کون ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فلاں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «لا تسألوا عن أشياء إن تبد لكم تسؤكم» کہ ”ایسی باتیں مت پوچھو کہ اگر تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں ناگوار گزریں۔“ اس کی روایت نضر اور روح بن عبادہ نے شعبہ سے کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 4621]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا۔ انہوں نے کہا: ”میں نے اس جیسا خطبہ کبھی نہیں سنا تھا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو حقائق میں جانتا ہوں اگر وہ تمہیں معلوم ہو جائیں تو تم ہنسو کم اور روؤ زیادہ۔“ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم نے اپنے چہرے ڈھانپ لیے اور ان کے رونے کی آواز آنے لگی۔ اس موقع پر ایک آدمی نے پوچھا: ”میرے والد کون ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا والد فلاں شخص ہے۔“ اس وقت یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: ﴿لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ﴾ ”تم ایسی باتیں مت پوچھو، اگر تم پر وہ ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں ناگوار گزریں۔“ [سورة المائدة: 101] اس حدیث کو نضر اور روح بن عبادہ نے حضرت شعبہ رحمہ اللہ سے بیان کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 4621]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4622
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجُوَيْرِيَةِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" كَانَ قَوْمٌ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتِهْزَاءً، فَيَقُولُ الرَّجُل: مَنْ أَبِي؟ وَيَقُولُ الرَّجُلُ: تَضِلُّ نَاقَتُهُ، أَيْنَ نَاقَتِي؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِمْ هَذِهِ الْآيَةَ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ سورة المائدة آية 101 حَتَّى فَرَغَ مِنَ الْآيَةِ كُلِّهَا".
ہم سے فضل بن سہل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالنضر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوخیثمہ نے بیان کیا، ان سے ابوجویریہ نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ بعض لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مذاقاً سوالات کیا کرتے تھے۔ کوئی شخص یوں پوچھتا کہ میرا باپ کون ہے؟ کسی کی اگر اونٹنی گم ہو جاتی تو وہ یہ پوچھتے کہ میری اونٹنی کہاں ہو گی؟ ایسے ہی لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «يا أيها الذين آمنوا لا تسألوا عن أشياء إن تبد لكم تسؤكم» کہ ”اے ایمان والو! ایسی باتیں مت پوچھو کہ اگر تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں ناگوار گزرے۔“ یہاں تک کہ پوری آیت پڑھ کر سنائی۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 4622]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مذاق کے طور پر سوالات کرتے تھے۔ کوئی آدمی کہتا: ”میرا باپ کون ہے؟“ کوئی دوسرا پوچھتا: ”میری اونٹنی گم ہو گئی ہے وہ کہاں ہے؟“ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیتِ کریمہ نازل فرمائی: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِن تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ﴾ [سورة المائدة: 101] ”اے ایمان والو! تم ایسی باتیں مت پوچھو کہ اگر وہ تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں ناگواری ہو گی۔“” [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 4622]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6362
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَحْفَوْهُ الْمَسْأَلَةَ، فَغَضِبَ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَقَالَ:" لَا تَسْأَلُونِي الْيَوْمَ عَنْ شَيْءٍ إِلَّا بَيَّنْتُهُ لَكُمْ"، فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ يَمِينًا وَشِمَالًا، فَإِذَا كُلُّ رَجُلٍ لَافٌّ رَأْسَهُ فِي ثَوْبِهِ يَبْكِي، فَإِذَا رَجُلٌ كَانَ إِذَا لَاحَى الرِّجَالَ يُدْعَى لِغَيْرِ أَبِيهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَبِي؟ قَالَ: حُذَافَةُ، ثُمَّ أَنْشَأَ عُمَرُ، فَقَالَ: رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسُولًا، نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْفِتَنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا رَأَيْتُ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ كَالْيَوْمِ قَطُّ، إِنَّهُ صُوِّرَتْ لِي الْجَنَّةُ وَالنَّارُ حَتَّى رَأَيْتُهُمَا وَرَاءَ الْحَائِطِ"، وَكَانَ قَتَادَةُ يَذْكُرُ عِنْدَ هَذَا الْحَدِيثِ هَذِهِ الْآيَةَ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ سورة المائدة آية 101.
ہم سے حفص بن عمر حوضی نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام دستوائی نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات کئے اور جب بہت زیادہ کئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ناگواری ہوئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ممبر پر تشریف لائے اور فرمایا کہ آج تم مجھ سے جو بات پوچھو گے میں بتاؤں گا۔ اس وقت میں نے دائیں بائیں دیکھا تو تمام صحابہ سر اپنے کپڑوں میں لپیٹے ہوئے رو رہے تھے، ایک صاحب جن کا اگر کسی سے جھگڑا ہوتا تو انہیں ان کے باپ کے سوا کسی اور کی طرف (طعنہ کے طور پر) منسوب کیا جاتا تھا۔ انہوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! میرے باپ کون ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حذافہ۔ اس کے بعد عمر رضی اللہ عنہ اٹھے اور عرض کیا ہم اللہ سے راضی ہیں کہ ہمارا رب ہے، اسلام سے کہ وہ دین ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ وہ سچے رسول ہیں، ہم فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، آج کی طرح خیر و شر کے معاملہ میں میں نے کوئی دن نہیں دیکھا، میرے سامنے جنت اور دوزخ کی تصویر لائی گئی اور میں نے انہیں دیوار کے اوپر دیکھا۔ قتادہ اس حدیث کو بیان کرتے وقت (سورۃ المائدہ کی) اس آیت کا ذکر کیا کرتے تھے «يا أيها الذين آمنوا لا تسألوا عن أشياء إن تبد لكم تسؤكم» ”اے ایمان والو! ایسی چیزوں کے متعلق نہ سوال کرو کہ اگر تمہارے سامنے ان کا جواب ظاہر ہو جائے تو تم کو برا لگے۔“ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 6362]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات کیے گئے۔ جب معاملہ مبالغے کی حد تک پہنچ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں آگئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور فرمایا: ”آج تم مجھ سے جو بات بھی پوچھو گے میں وضاحت سے بیان کروں گا۔“ اس وقت میں نے دائیں بائیں دیکھا تو تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنے سر کپڑوں میں لپیٹے ہوئے رو رہے تھے۔ اس دوران میں ایک آدمی کھڑا ہوا جس کا اگر کسی سے جھگڑا ہو جاتا تو وہ اسے غیر باپ کی طرف منسوب کر دیتا تھا، اس نے کہا: ”اللہ کے رسول! میرا باپ کون ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا باپ حذافہ ہے۔“ اس صورت حال کو دیکھ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ اٹھے اور عرض کرنے لگے: ”ہم اللہ کے رب ہونے پر راضی ہیں، اسلام کے دین ہونے پر خوش ہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر شادماں ہیں، نیز فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے خیر و شر (کے معاملے) میں آج تک کے دن کی طرح کبھی (کوئی دن) نہیں دیکھا۔ میرے سامنے جنت اور دوزخ کی تصویر لائی گئی یہاں تک کہ میں نے ان دونوں کو اس دیوار کے پیچھے دیکھا۔“ حضرت قتادہ رحمہ اللہ اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد اس آیت کا ذکر کیا کرتے تھے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِن تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ﴾ [سورة المائدة: 101] ”اے ایمان والو! ایسی اشیاء کے متعلق سوال نہ کیا کرو اگر تمہارے سامنے ان کا جواب ظاہر ہو جائے تو تمہیں ناگوار گزرے۔“ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 6362]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6486
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن انس نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر تمہیں وہ معلوم ہوتا جو میں جانتا ہوں تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ۔“ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 6486]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہیں معلوم ہو جائے جو میں جانتا ہوں تو تم بہت کم ہنستے اور روتے زیادہ۔“ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 6486]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7089
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَأَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَحْفَوْهُ بِالْمَسْأَلَةِ،" فَصَعِدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ الْمِنْبَرَ، فَقَالَ: لَا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ إِلَّا بَيَّنْتُ لَكُمْ، فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ يَمِينًا وَشِمَالًا، فَإِذَا كُلُّ رَجُلٍ لَافٌّ رَأْسَهُ فِي ثَوْبِهِ يَبْكِي، فَأَنْشَأَ رَجُلٌ كَانَ إِذَا لَاحَى يُدْعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَنْ أَبِي، فَقَالَ: أَبُوكَ حُذَافَةُ، ثُمَّ أَنْشَأَ عُمَرُ، فَقَالَ: رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا، نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ سُوءِ الْفِتَنِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا رَأَيْتُ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ كَالْيَوْمِ قَطُّ، إِنَّهُ صُوِّرَتْ لِي الْجَنَّةُ وَالنَّارُ حَتَّى رَأَيْتُهُمَا دُونَ الْحَائِطِ، فَكَانَ قَتَادَةُ يَذْكُرُ هَذَا الْحَدِيثَ عِنْدَ هَذِهِ الْآيَةِ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ سورة المائدة آية 101.
ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے سوالات کئے آخر جب لوگ باربار سوال کرنے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر ایک دن چڑھے اور فرمایا کہ آج تم مجھ سے جو سوال بھی کرو گے میں تمہیں اس کا جواب دوں گا۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں دائیں بائیں دیکھنے لگا تو ہر شخص کا سر اس کے کپڑے میں چھپا ہوا تھا اور وہ رو رہا تھا۔ آخر ایک شخص نے خاموشی توڑی۔ اس کا جب کسی سے جھگڑا ہوتا تو انہیں ان کے باپ کے سوا دوسرے باپ کی طرف پکارا جاتا۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! میرے والد کون ہیں؟ فرمایا تمہارے والد حذافہ ہیں۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ سامنے آئے اور عرض کیا ہم اللہ سے کہ وہ رب ہے، اسلام سے کہ وہ دین ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ وہ رسول ہیں راضی ہیں اور آزمائش کی برائی سے ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے خیر و شر آج جیسا دیکھا، کبھی نہیں دیکھا تھا۔ میرے سامنے جنت و دوزخ کی صورت پیش کی گئی اور میں نے انہیں دیوار کے قریب دیکھا۔ قتادہ نے بیان کیا کہ یہ بات اس آیت کے ساتھ ذکر کی جاتی ہے «يا أيها الذين آمنوا لا تسألوا عن أشياء إن تبد لكم تسؤكم» کہ ”اے لوگو! جو ایمان لائے ہو ایسی چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو اگر وہ ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں بری معلوم ہوں۔“ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 7089]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات کیے اور جب سوالات کرنے میں مبالغے سے کام لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن منبر پر تشریف فرما ہوئے اور فرمایا: ”آج تم مجھ سے جو سوال بھی کرو گے میں تمہیں اس کا جواب دوں گا۔“ پھر میں دائیں بائیں دیکھنے لگا تو ہر شخص اپنا سر اپنے کپڑے میں لپیٹ کر رو رہا تھا۔ آخر ایک شخص نے خاموشی توڑ دی، اس کا جب کسی سے جھگڑا ہوتا تو اسے اس کے باپ کے علاوہ کسی دوسرے شخص کی طرف منسوب کیا جاتا تھا۔ اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میرا والد کون ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا والد حذافہ ہے۔“ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: «رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وسلم رَسُولًا» ”ہم اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر راضی ہیں۔“ «نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ سُوءِ الْفِتَنِ» ”ہم برے فتنوں سے پناہ مانگتے ہیں۔“ تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے خیر و شر جو آج دیکھا ہے، اس جیسا کبھی نہ دیکھا تھا۔ میرے سامنے جنت اور دوزخ کی صورت کو پیش کیا گیا یہاں تک کہ میں نے ان دونوں کو دیوار کے قریب دیکھا۔“ حضرت قتادہ رحمہ اللہ نے کہا: یہ حدیث درج ذیل آیت کے ساتھ ذکر کی جاتی ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِن تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ﴾ [سورة المائدة: 101] ”اے ایمان والو! ایسی چیزوں کے متعلق سوال نہ کرو اگر وہ تمہارے لیے ظاہر کردی جائیں تو تمہیں بری لگیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 7089]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7090
وَقَالَ عَبَّاسٌ النَّرْسِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُمْ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا، وَقَالَ: كُلُّ رَجُلٍ لَافًّا رَأْسَهُ فِي ثَوْبِهِ يَبْكِي، وَقَالَ: عَائِذًا بِاللَّهِ مِنْ سُوءِ الْفِتَنِ، أَوْ قَالَ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ سَوْءَى الْفِتَنِ.
اور عباس النرسی نے بیان کیا، ان سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے سعید نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث بیان کی اور انس رضی اللہ عنہ نے کہا ہر شخص کپڑے میں اپنا سر لپیٹے ہوئے رو رہا تھا اور فتنے سے اللہ کی پناہ مانگ رہا تھا یا یوں کہہ رہا تھا کہ میں اللہ سے فتنہ کی برائی سے پناہ مانگتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 7090]
حضرت انس رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حدیث بیان کی تو ہر شخص اپنے کپڑے میں سر لپیٹے رو رہا تھا اور فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگ رہا تھا یا یوں کہہ رہا تھا: ”میں فتنوں کی برائی سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔“ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 7090]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7091
وقَالَ لِي خَلِيفَةُ،حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، وَمُعْتَمِرٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُمْ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا، وَقَالَ: عَائِذًا بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ الْفِتَنِ.
اور مجھ سے خلیفہ بن خیاط نے بیان کیا، ان سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے سعید و معتمر کے والد نے قتادہ سے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا پھر یہی حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کی، اس میں بجائے «سوء» کے «شر» کا لفظ ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 7091]
حضرت انس رضی اللہ عنہ ہی سے ایک اور روایت ہے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث نقل کی، اس میں ”فتنوں کی برائی“ کے بجائے ”فتنوں کے شر“ کا لفظ ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 7091]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7291
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَشْيَاءَ كَرِهَهَا فَلَمَّا أَكْثَرُوا عَلَيْهِ الْمَسْأَلَةَ غَضِبَ، وَقَالَ: سَلُونِي، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَبِي؟، قَالَ: أَبُوكَ حُذَافَةُ، ثُمَّ قَامَ آخَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَبِي؟، فَقَالَ: أَبُوكَ سَالِمٌ مَوْلَى شَيْبَةَ، فَلَمَّا رَأَى عُمَرُ مَا بِوَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْغَضَبِ، قَالَ: إِنَّا نَتُوبُ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
ہم سے یوسف بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ حماد بن اسامہ نے بیان کیا، ان سے برید بن ابی بردہ نے، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ چیزوں کے متعلق پوچھا گیا جنہیں آپ نے ناپسند کیا جب لوگوں نے بہت زیادہ پوچھنا شروع کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوئے اور فرمایا: پوچھو! اس پر ایک صحابی کھڑا ہوا اور پوچھا: یا رسول اللہ! میرے والد کون ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے والد حذافہ ہیں۔ پھر دوسرا صحابی کھڑا ہوا اور پوچھا میرے والد کون ہیں؟ فرمایا کہ تمہارے والد شیبہ کے مولیٰ سالم ہیں۔ پھر جب عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ پر غصہ کے آثار محسوس کئے تو عرض کیا ہم اللہ عزوجل کی بارگاہ میں آپ کو غصہ دلانے سے توبہ کرتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 7291]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے چند اشیاء کے متعلق سوال کیا گیا جنہیں آپ نے پسند نہ فرمایا۔ جب لوگوں نے بہت زیادہ سوالات کرنا شروع کر دیے تو آپ ناراض ہوئے اور فرمایا: ”مجھ سے جو پوچھنا ہے پوچھو۔“ تب ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: ”اللہ کے رسول! میرا باپ کون ہے؟“ آپ نے فرمایا: ”تیرا باپ حذافہ ہے۔“ پھر ایک دوسرا شخص کھڑا ہوا اور اس نے سوال کیا: ”میرے والد کون ہیں؟“ تو آپ نے فرمایا: ”تمہارے والد شیبہ کے آزاد کردہ غلام سالم ہیں۔“ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور پر غصے کے آثار محسوس کیے تو کہا: ”ہم اللہ عزوجل کے حضور (آپ کو غصہ دلانے سے) توبہ کرتے ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 7291]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7294
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ. ح وحَدَّثَنِي مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" خَرَجَ حِينَ زَاغَتِ الشَّمْسُ، فَصَلَّى الظُّهْرَ فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَذَكَرَ السَّاعَةَ وَذَكَرَ أَنَّ بَيْنَ يَدَيْهَا أُمُورًا عِظَامًا، ثُمَّ قَالَ: مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَسْأَلَ عَنْ شَيْءٍ، فَلْيَسْأَلْ عَنْهُ، فَوَاللَّهِ لَا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ إِلَّا أَخْبَرْتُكُمْ بِهِ مَا دُمْتُ فِي مَقَامِي هَذَا، قَالَ أَنَسٌ: فَأَكْثَرَ النَّاسُ الْبُكَاءَ، وَأَكْثَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقُولَ: سَلُونِي، فَقَالَ أَنَسٌ: فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ، فَقَالَ: أَيْنَ مَدْخَلِي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: النَّارُ، فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُذَافَةَ، فَقَالَ: مَنْ أَبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: أَبُوكَ حُذَافَةُ، قَالَ: ثُمَّ أَكْثَرَ أَنْ يَقُولَ: سَلُونِي سَلُونِي، فَبَرَكَ عُمَرُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، فَقَالَ: رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسُولًا، قَالَ: فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَالَ عُمَرُ ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ عُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ آنِفًا فِي عُرْضِ هَذَا الْحَائِطِ وَأَنَا أُصَلِّي فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور مجھ سے محمود نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہوں نے کہا مجھ کو انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورج ڈھلنے کے بعد باہر تشریف لائے اور ظہر کی نماز پڑھی، پھر سلام پھیرنے کے بعد آپ منبر پر کھڑے ہوئے اور قیامت کا ذکر کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا کہ اس سے پہلے بڑے بڑے واقعات ہوں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے جو شخص کسی چیز کے متعلق سوال کرنا چاہے تو سوال کرے۔ آج مجھ سے جو سوال بھی کرو گے میں اس کا جواب دوں گا جب تک میں اپنی اس جگہ پر ہوں۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس پر لوگ بہت زیادہ رونے لگے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باربار وہی فرماتے تھے کہ مجھ سے پوچھو۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر کوئی شخص کھڑا ہوا اور پوچھا، میری جگہ کہاں ہے۔ (جنت یا جہنم میں) یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا کہ جہنم میں۔ پھر عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا میرے والد کون ہیں یا رسول اللہ؟ فرمایا کہ تمہارے والد حذافہ ہیں۔ بیان کیا کہ پھر آپ مسلسل کہتے رہے کہ مجھ سے پوچھو، مجھ سے پوچھو، آخر میں عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر کہا: ہم اللہ سے رب کی حیثیت سے، اسلام سے دین کی حیثیت سے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے رسول کی حیثیت سے راضی و خوش ہیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے یہ کلمات کہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کی ہاتھ میں میری جان ہے، ابھی مجھ پر جنت اور دوزخ اس دیوار کی چوڑائی میں میرے سامنے کی گئی تھی (یعنی ان کی تصویریں) جب میں نماز پڑھ رہا تھا، آج کی طرح میں نے خیر و شر کو نہیں دیکھا۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 7294]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن زوال آفتاب کے بعد باہر تشریف لائے۔ ظہر کی نماز ادا کی اور سلام پھیرنے کے بعد آپ منبر پر کھڑے ہوئے تو قیامت کا ذکر کیا اور بیان فرمایا کہ اس سے پہلے بڑے بڑے واقعات رونما ہوں گے، پھر فرمایا: ”تم میں سے جو شخص کسی چیز کے متعلق سوال کرنا چاہتا ہو تو اسے اجازت ہے۔ اللہ کی قسم! آج تم مجھ سے جو سوال بھی کرو گے میں تمہیں اس کا جواب دوں گا جب تک میں اس جگہ پر ہوں۔“ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ انصار بہت زیادہ رونے لگے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بار بار یہی فرماتے تھے: ”مجھ سے پوچھو۔“ چنانچہ ایک آدمی کھڑا ہوا اور پوچھا: ”اللہ کے رسول! میرا ٹھکانا کہاں ہوگا؟“ آپ نے فرمایا: ”تیرا ٹھکانا دوزخ ہے۔“ پھر حضرت عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور پوچھا: ”اللہ کے رسول! میرا باپ کون ہے؟“ آپ نے فرمایا: ”تمہارے والد حذافہ ہیں۔“ پھر آپ مسلسل یہی کہتے رہے: ”مجھ سے سوال کرو، مجھ سے پوچھو۔“ آخر کار حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور کہا: ”ہم اللہ تعالیٰ سے اس کے رب ہونے کی حیثیت سے راضی ہیں، اسلام سے دین ہونے کے اعتبار سے خوش ہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے رسول ہونے کی حیثیت سے خوش ہیں۔“ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے پھر فرمایا: ”تم خوش ہوئے یا نہیں اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میرے ابھی ابھی اس دیوار کی جانب جنت اور دوزخ دونوں پیش کی گئیں جبکہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔ میں نے آج کی طرح خیر و شر کو کبھی نہیں دیکھا۔“ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 7294]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7295
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ أَنَسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ:" يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَنْ أَبِي؟، قَالَ: أَبُوكَ فُلَانٌ، وَنَزَلَتْ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ سورة المائدة آية 101.
ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا، کہا ہم کو روح بن عبادہ نے خبر دی، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا مجھ کو موسیٰ بن انس نے خبر دی کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ایک صاحب نے کہا: یا نبی اللہ! میرے والد کون ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے والد فلاں ہیں۔ اور یہ آیت نازل ہوئی «يا أيها الذين آمنوا لا تسألوا عن أشياء» ”اے لوگو! ایسی چیزیں نہ پوچھو۔“ الآیہ۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 7295]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: ”ایک آدمی نے پوچھا: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا باپ کون ہے؟ فرمایا: ”تیرا باپ فلاں ہے۔“ پھر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ﴾ [سورة المائدة: 101] ”اے ایمان والو! ایسی اشیاء کے متعلق مت سوال کرو (اگر انہیں ظاہر کر دیا جائے تو تمہیں برا لگے)۔““ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 7295]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة