صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
30. باب خروج النساء إلى المساجد إذا لم يترتب عليه فتنة وانها لا تخرج مطيبة:
باب: جب فتنہ کا ڈر نہ ہو تو عورتوں کے مساجد میں جانے کا جواز بشرطیکہ وہ خوشبو نہ لگائیں۔
ترقیم عبدالباقی: 445 ترقیم شاملہ: -- 999
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَقُولُ: " لَوْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى مَا أَحْدَثَ النِّسَاءُ، لَمَنَعَهُنَّ الْمَسْجِدَ، كَمَا مُنِعَتْ نِسَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ، قَالَ: فَقُلْتُ لِعَمْرَةَ: أَنِسَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُنِعْنَ الْمَسْجِدَ؟ قَالَتْ: نَعَمْ،
سلیمان بن بلال نے یحییٰ بن سعید سے اور انہوں نے عمرہ بنت عبدالرحمن سے روایت کی کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، وہ فرماتی تھیں کہ عورتوں نے (بناؤ سنگھار کے) جو نئے انداز نکال لیے ہیں اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ لیتے تو انہیں مسجد میں آنے سے روک دیتے، جس طرح بنی اسرائیل کی عورتوں کو روک دیا گیا تھا۔ میں نے عمرہ سے پوچھا: کیا بنی اسرائیل کی عورتوں کو مسجد میں آنے سے روک دیا گیا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 999]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں، آج عورتوں نے جو نئے انداز (بناؤ سنگھار کے لیے) نکال لیے ہیں، اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں دیکھ لیتے تو انہیں مسجد میں آنے سے روک دیتے، جیسا کہ بنو اسرائیل کی عورتوں کو روک دیا گیا تھا۔ تو میں نے امرہ رحمہ اللہ سے پوچھا کیا بنو اسرائیل کی عورتوں کو مسجد میں آنے سے روک دیا گیا تھا؟ اس نے کہا، ہاں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 999]
ترقیم فوادعبدالباقی: 445
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 445 ترقیم شاملہ: -- 1000
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ ، قَالَ: ح وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ: ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، قَالَ: ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ كُلُّهُمْ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
(سلیمان بن بلال کے بجائے) عبدالوہاب ثقفی، سفیان بن عیینہ، ابوخالد احمر اور عیسیٰ بن یونس سبھی نے یحییٰ بن سعید سے (باقی ماندہ) اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث روایت کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1000]
ہمیں محمد بن مثنی رحمہ اللہ نے عبدالوہاب ثقفی رحمہ اللہ سے نیز ہمیں عمرو ناقد رحمہ اللہ سے سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ سے نیز ہمیں ابو بکر بن ابی شیبہ رحمہ اللہ نے ابو خالد احمر رحمہ اللہ سے نیز ہمیں اسحاق بن ابراہیم رحمہ اللہ نے عیسیٰ بن یونس رحمہ اللہ سے اور ان سب نے یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ کی اسی سند سے یہی حدیث سنائی۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1000]
ترقیم فوادعبدالباقی: 445
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة