🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
35. باب القراءة في الصبح:
باب: صبح کی نماز میں قرأت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 462 ترقیم شاملہ: -- 1033
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " إِنَّ أُمَّ الْفَضْلِ بِنْتَ الْحَارِثِ ، سَمِعَتْهُ وَهُوَ يَقْرَأُ: وَالْمُرْسَلاتِ عُرْفًا سورة المرسلات آية 1، فَقَالَتْ: يَا بُنَيَّ، لَقَدْ ذَكَّرْتَنِي بِقِرَاءَتِكَ هَذِهِ السُّورَةَ، إِنَّهَا لَآخِرُ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقْرَأُ بِهَا فِي الْمَغْرِبِ،
مالک نے ابن شہاب (زہری) سے، انہوں نے عبید اللہ بن عبداللہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا نے مجھے «والمرسلات عرفا» پڑھتے ہوئے سنا تو کہنے لگیں: بیٹا! تم نے یہ سورت پڑھ کر مجھے یاد کرا دیا کہ بے شک یہ آخری سورت ہے جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں تلاوت کرتے ہوئے سنی۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1033]
حضرت ابو برزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز میں ساٹھ سے سو آیات تک پڑھا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1033]
ترقیم فوادعبدالباقی: 462
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 462 ترقیم شاملہ: -- 1034
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: ح وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، قَالَ: ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، قَالَ: ح وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ كُلُّهُمْ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ صَالِحٍ: ثُمَّ مَا صَلَّى بَعْدُ، حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلّ.
(امام مالک کے بجائے) سفیان (بن عیینہ)، یونس، معمر اور صالح نے زہری سے اسی سابقہ سند کے ساتھ روایت کی اور صالح کی حدیث میں یہ اضافہ ہے: پھر آپ نے اس کے بعد نماز نہیں پڑھائی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے پاس بلا لیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1034]
امام صاحب رحمہ اللہ اپنے مختلف اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں، صالح رحمہ اللہ کی حدیث میں یہ اضافہ ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد وفات تک نماز نہیں پڑھائی۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1034]
ترقیم فوادعبدالباقی: 462
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں