صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
41. باب كراهية تاخير الصلاة عن وقتها المختار وما يفعله الماموم إذا اخرها الإمام:
باب: عمدہ وقت سے نماز کی تاخیر مکروہ ہے اور جب امام ایسا کریں تو لوگ کیا کریں۔
ترقیم عبدالباقی: 648 ترقیم شاملہ: -- 1465
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ . ح، قَالَ: وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ: " كَيْفَ أَنْتَ، إِذَا كَانَتْ عَلَيْكَ أُمَرَاءُ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا، أَوْ يُمِيتُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا؟ قَالَ: قُلْتُ: فَمَا تَأْمُرُنِي؟ قَالَ: صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، فَإِنْ أَدْرَكْتَهَا مَعَهُمْ، فَصَلِّ، فَإِنَّهَا لَكَ نَافِلَةٌ "، وَلَمْ يَذْكُرْ خَلَفٌ: عَنْ وَقْتِهَا.
خلف بن ہشام، ابوربیع زہرانی اور ابوکامل جحدری نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں حماد بن زید نے حدیث سنائی، انہوں نے ابوعمران جونی سے، انہوں نے عبداللہ بن صامت سے اور انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”تمہارا کیا حال ہو گا جب تم پر ایسے لوگ حکمران ہوں گے جو نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کریں گے یا نماز کو اس کے وقت سے ختم کر دیں گے؟“ میں نے عرض کی تو آپ مجھے (اس کے بارے میں) کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے وقت پر نماز پڑھ لینا اگر تمہیں ان کے ساتھ (بھی) نماز مل جائے تو پڑھ لینا، وہ تمہارے لیے نفل ہو جائے گی۔“ خلف نے «عن وقتھا» (اس کے وقت سے) کے الفاظ بیان نہیں کیے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1465]
حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کیا کروگے جب تمہارے حکمران ایسے لوگ ہونگے جو نماز کو اس کے وقت (مختار) سے تاخیر کر کے پڑھیں گے یا نماز کو اس کے وقت سے نکال کر مار ڈالیں گے؟ تو میں نے عرض کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا میرے لیے کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز اپنے وقت پر پڑھ اور اگر دوبارہ ان کے ساتھ نماز پاؤ تو پڑھ، وہ تیرے لیے نفل ہو جائے گی۔“ خلف نے عَنْ وَقْتِهَا کا لفظ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1465]
ترقیم فوادعبدالباقی: 648
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 648 ترقیم شاملہ: -- 1466
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَبَا ذَرٍّ، إِنَّهُ سَيَكُونُ بَعْدِي أُمَرَاءُ يُمِيتُونَ الصَّلَاةَ، فَصَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، فَإِنْ صَلَّيْتَ لِوَقْتِهَا، كَانَتْ لَكَ نَافِلَةً، وَإِلَّا كُنْتَ قَدْ أَحْرَزْتَ صَلَاتَكَ ".
جعفر بن سلیمان نے ابوعمران جونی سے اسی سند کے ساتھ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا: ”ابوذر! میرے بعد ایسے حکمران آئیں گے جو نماز کو مار دیں گے (ان کا وقت ختم کر دیں گے) تو تم نماز کو اس کے وقت پر پڑھ لینا، اگر تم نے نماز وقت پر پڑھ لی تو (ان کے ساتھ ادا کی گئی دوسری نماز) تمہارے لیے نفل ہو جائے گی ورنہ تم نے اپنی نماز تو بچا ہی لی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1466]
حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابو ذر! میرے بعد ایسے حکمران آئیں گے جو نماز کو مار ڈالیں گے تو تم نماز اس کے وقت پر پڑھ لینا، پس اگر تم نے (دوبارہ ان کے ساتھ) وقت پر نماز پڑھ لی تو تمہاری نماز نفل ہو جائے گی، وگرنہ (اگر وہ وقت پر نہ پڑھیں) تم نے اپنی نماز کو بچالیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1466]
ترقیم فوادعبدالباقی: 648
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 648 ترقیم شاملہ: -- 1467
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: " إِنَّ خَلِيلِي أَوْصَانِي، أَنْ أَسْمَعَ وَأُطِيعَ، وَإِنْ كَانَ عَبْدًا مُجَدَّعَ الأَطْرَافِ، وَأَنْ أُصَلِّيَ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، فَإِنْ أَدْرَكْتَ الْقَوْمَ وَقَدْ صَلَّوْا، كُنْتَ قَدْ أَحْرَزْتَ صَلَاتَكَ، وَإِلَّا كَانَتْ لَكَ نَافِلَةً ".
شعبہ نے ابوعمران سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میرے خلیل نے مجھے حکم دیا تھا کہ میں سنوں اور فرمانبرداری کروں، چاہے کٹے ہوئے بازوں والا غلام (ہی حکمران) ہو اور یہ کہ میں نماز وقت پر پڑھوں (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”پھر اگر تم لوگوں کو اس حالت میں پاؤ کہ انہوں نے نماز پڑھ لی ہے تو تم اپنی نماز بچا چکے ہو (وقت پر پہلے پڑھ چکے ہو)، اور اگر (انہوں نے نہیں پڑھی اور تم ان کے ساتھ شریک ہوئے) تو تمہاری یہ نماز نفل ہو گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1467]
حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے خلیل نے مجھے سننے اور ماننے کی تلقین کی، اگرچہ حکمران کٹے ہوئے اعضاء والا ہو اور یہ کہ میں نماز وقت پر پڑھوں: پھر اگر لوگوں کو پاؤں انہوں نے نماز (وقت کے بعد پڑھی ہے) تو تم اپنی نماز کو بچا لیا، وگرنہ (اگر انہوں نے وقت کے اندر پڑھ لی ہے) تو تیری یہ نماز نفلی ہو جائے گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1467]
ترقیم فوادعبدالباقی: 648
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 648 ترقیم شاملہ: -- 1468
وحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ بُدَيْلٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْعَالِيَةِ ، يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَضَرَبَ فَخِذِي، كَيْفَ أَنْتَ إِذَا بَقِيتَ فِي قَوْمٍ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا؟ قَالَ: قَالَ: مَا تَأْمُرُ؟ قَالَ: " صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، ثُمَّ اذْهَبْ لِحَاجَتِكَ، فَإِنْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَأَنْتَ فِي الْمَسْجِدِ، فَصَلِّ ".
بدیل سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے ابوعالیہ سے سنا، وہ عبداللہ بن صامت سے اور وہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کر رہے تھے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور میری ران پر ہاتھ مارا: ”تمہارا کیا حال ہو گا جب تم ایسے لوگوں میں اپنی بقیہ زندگی گزار رہے ہو گے جو نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کر دیں گے؟“ (عبداللہ بن صامت نے) کہا: انہوں نے کہا: آپ کیا حکم دیتے ہیں؟ فرمایا: ”تم نماز کو اس کے وقت پر ادا کر لینا، اور اپنی ضرورت کے لیے چلے جانا، پھر اگر نماز کی اقامت کہی گئی اور تم مسجد میں ہوئے تو (دوبارہ) پڑھ لینا۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1468]
حضرت ابو ذر رضی اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری ران پر ہاتھ مار کر فرمایا: ”تمہاری کیا حالت ہو گی جب تم ایسے لوگوں میں رہ جاؤ گے جو نماز کو اس کے وقت کے بعد پڑھیں گے؟ تو انہوں نے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز اس کے وقت پر پڑھ لو۔ پھر اپنی ضرورت کے لیے چلے جاؤ، اگر تیری مسجد میں موجودگی میں تکبیر ہو جائے تو پڑھ لو۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1468]
ترقیم فوادعبدالباقی: 648
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 648 ترقیم شاملہ: -- 1469
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ ، قَالَ: أَخَّرَ ابْنُ زِيَادٍ الصَّلَاةَ، فَجَاءَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّامِتِ ، فَأَلْقَيْتُ لَهُ كُرْسِيًّا، فَجَلَسَ عَلَيْهِ، فَذَكَرْتُ لَهُ صَنِيعَ ابْنِ زِيَادٍ، فَعَضَّ عَلَى شَفَتِهِ، وَضَرَبَ فَخِذِي، وَقَالَ: إِنِّي سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ ، كَمَا سَأَلْتَنِي، فَضَرَبَ فَخِذِي، كَمَا ضَرَبْتُ فَخِذَكَ، وَقَالَ: إِنِّي سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَمَا سَأَلْتَنِي، فَضَرَبَ فَخِذِي، كَمَا ضَرَبْتُ فَخِذَكَ، وَقَالَ: " صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، فَإِنْ أَدْرَكَتْكَ الصَّلَاةُ مَعَهُمْ، فَصَلِّ، وَلَا تَقُلْ إِنِّي قَدْ صَلَّيْتُ، فَلَا أُصَلِّي ".
ایوب نے ابوعالیہ براء سے روایت کی، کہا: ابن زیاد نے نماز میں تاخیر کر دی تو میرے پاس عبداللہ بن صامت تشریف لے آئے، میں نے ان کے لیے کرسی رکھوا دی، وہ اس پر بیٹھ گئے، میں نے ان کے سامنے ابن زیاد کی حرکت کا تذکرہ کیا تو اس پر انہوں نے اپنا (نچلا) ہونٹ دانتوں میں دبایا اور میری ران پر ہاتھ مار کر کہا: جس طرح تم نے مجھ سے پوچھا ہے، اسی طرح میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا، انہوں نے بھی اسی طرح میری ران پر ہاتھ مارا تھا جس طرح میں نے تمہاری ران پر ہاتھ مارا ہے اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا جس طرح تم نے مجھ سے پوچھا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری ران پر ہاتھ مارا جس طرح میں نے تمہاری ران پر ہاتھ مارا ہے اور فرمایا: ”تم نماز بروقت ادا کر لینا، پھر اگر تمہیں ان کے ساتھ نماز پڑھنی پڑ جائے تو (پھر سے) نماز پڑھ لینا اور یہ نہ کہنا: میں نے نماز پڑھ لی ہے اس لیے اب نہیں پڑھوں گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1469]
حضرت ابو عالیہ براء رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ ابن زیاد نے نماز میں تأخیر کر دی اور میرے پاس عبداللہ بن صامت تشریف لائے، میں نے انہیں کرسی پیش کی وہ اس پر بیٹھ گئے، میں نے انہیں ابن زیاد کی حرکت سے آگاہ کیا تو انہوں نے اپنا ہونٹ کاٹا اور میری ران پر ہاتھ مارا اور کہا، جس طرح تو نے مجھ سے پوچھا ہے، اس طرح میں نے ابو ذر رضی اللہ سے پوچھا تھا تو انہوں نے میری ران پر ہاتھ مارا جس طرح میں نے تیری ران پر ہاتھ مارا ہے۔ اور کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا، جس طرح تو نے مجھ سے پوچھا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری ران پر ہاتھ مارا جس طرح میں نے تمہاری ران پر ہاتھ مارا ہے اور فرمایا: ”نماز وقت پر پڑھو، پھر اگر ان کے ساتھ نماز پڑھنے کا موقعہ ملے یا ان کے پاس موجود ہوتے ہوئے نماز تمہیں پا لے تو پڑھ لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: اور یہ نہ کہو میں نے نماز پڑھ لی ہے۔ اس لیے میں نہیں پڑھتا۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1469]
ترقیم فوادعبدالباقی: 648
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 648 ترقیم شاملہ: -- 1470
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ: كَيْفَ أَنْتُمْ؟ أَوَ قَالَ: كَيْفَ أَنْتَ، " إِذَا بَقِيتَ فِي قَوْمٍ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا، فَصَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، ثُمَّ إِنْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَصَلِّ مَعَهُمْ، فَإِنَّهَا زِيَادَةُ خَيْرٍ ".
ابونعامہ نے عبداللہ بن صامت سے اور انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگوں کا کیا حال ہو گا“ یا فرمایا: ”تمہاری کیفیت کیا ہو گی جب تم ایسے لوگوں میں رہ جاؤ گے جو نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کریں گے؟ تم وقت پر نماز پڑھ لینا، پھر اگر (تمہاری موجودگی میں) نماز کی اقامت ہو تو تم ان کے ساتھ (بھی) پڑھ لینا کیونکہ یہ نیکی میں اضافہ ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1470]
حضرت ابو ذر رضی اللہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری کیا حالت ہو گی“ یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیری کیا حالت ہو گی جب تم ایسے لوگوں میں رہ جاؤ گے، جو نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کر لیں گے، تم نماز اس کے وقت پر پڑھ لینا، پھر نماز اگر کھڑی کر دی جائے تو ان کے ساتھ پڑھ لینا، کیونکہ اس میں نیکی میں اضافہ ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1470]
ترقیم فوادعبدالباقی: 648
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 648 ترقیم شاملہ: -- 1471
وحَدَّثَنِي وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ مَطَرٍ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ : نُصَلِّي يَوْمَ الْجُمُعَةِ، خَلْفَ أُمَرَاءَ فَيُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ، قَالَ: فَضَرَبَ فَخِذِي ضَرْبَةً أَوْجَعَتْنِي، وَقَالَ: سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ ، عَنْ ذَلِكَ، فَضَرَبَ فَخِذِي، وَقَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: " صَلُّوا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، وَاجْعَلُوا صَلَاتَكُمْ مَعَهُمْ نَافِلَةً "، قَالَ: وقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: ذُكِرَ لِي أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ضَرَبَ فَخِذَ أَبِي ذَرٍّ.
مطر نے ابوعالیہ براء سے روایت کی، کہا: میں نے عبداللہ بن صامت سے پوچھا کہ ہم جمعہ کے دن حکمرانوں کی اقتدا میں نماز پڑھتے ہیں اور وہ نماز کو مؤخر کر دیتے ہیں۔ تو انہوں نے زور سے میری ران پر ہاتھ مارا جس سے مجھے تکلیف محسوس ہوئی اور کہا: میں نے اس کے بارے میں ابوذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے (بھی) میری ران پر ہاتھ مارا تھا اور کہا تھا: میں نے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا تو آپ نے فرمایا: ”نماز اس کے وقت پر ادا کر لو، پھر ان (حکمرانوں) کے ساتھ اپنی نماز کو نفل بنا لو۔“ کہا: عبداللہ نے کہا: مجھے بتایا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (بھی) ابوذر رضی اللہ عنہ کی ران پر ہاتھ مارا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1471]
حضرت ابو عالیہ براء رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں نے عبداللہ بن صامت سے پوچھا کہ ہم جمعہ کے دن، حکمرانوں کی اقتدا میں نماز پڑھتے ہیں اور وہ نماز کو مؤخر کر دیتے ہیں تو انہوں نے میری ران پر اس زور سے ہاتھ مارا کہ مجھے تکلیف محسوس ہوئی اور کہا میں نے اس بارے میں ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا تھا تو انہوں نے میری ران پر ہاتھ مارا اور کہا: میں نے یہی سوال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز اس کے وقت پر پڑھو اور حکمرانوں کے ساتھ اپنی نماز کو نفلی قرار دو۔“ عبداللہ نے بتایا مجھے بتایا گیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو ذر رضی اللہ کی ران پر ہاتھ مارا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1471]
ترقیم فوادعبدالباقی: 648
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة