صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
14. باب ما يفعل بالمحرم إذا مات:
باب: محرم مر جائے تو کیا کیا جائے؟
ترقیم عبدالباقی: 1206 ترقیم شاملہ: -- 2891
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَرَّ رَجُلٌ مِنْ بَعِيرِهِ فَوُقِصَ فَمَاتَ، فَقَالَ: اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا".
سفیان بن عیینہ نے عمرو (بن دینار) سے (انہوں نے) سعید بن جبیر سے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ ایک شخص اپنے اونٹ سے گر گیا۔ اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ فوت ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اسی کے دونوں کپڑوں (احرام کی دونوں چادروں) میں اسے کفن دو اس کا سر نہ ڈھانپو۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن اس حال میں اٹھائے گا کہ وہ تلبیہ پکار رہا ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2891]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، ایک آدمی اپنے اونٹ سے گر گیا اور اس کی گردن ٹوٹ گئی تو وہ مر گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور اسے اس کے دونوں کپڑوں کا کفن دو اور اس کے سر کو نہ ڈھانپو کیونکہ قیامت کے دن اللہ اسے تلبیہ کہتے ہوئے اٹھائے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2891]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1206
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1206 ترقیم شاملہ: -- 2892
وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، وَأَيُّوبَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: بَيْنَمَا رَجُلٌ وَاقِفٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ إِذْ وَقَعَ مِنْ رَاحِلَتِهِ، قَالَ أَيُّوبُ: فَأَوْقَصَتْهُ، أَوَ قَالَ: فَأَقْعَصَتْهُ، وَقَالَ عَمْرٌو: فَوَقَصَتْهُ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ، وَلَا تُحَنِّطُوهُ وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ"، قَالَ أَيُّوبُ:" فَإِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا"، وَقَالَ عَمْرٌو:" فَإِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلَبِّي"،
حماد نے عمرو بن دینار اور ایوب سے انہوں نے سعید بن جبیر سے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی (ابن عباس رضی اللہ عنہما نے) کہا: ایک شخص عرفات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وقف میں تھا کہ اپنی سواری سے گر گیا ایوب نے کہا اس کی سواری نے اس کی گردن توڑ ڈالی۔۔۔یا کہا: اسے اسی وقت مار ڈالا۔۔۔اور عمرو نے فوقصتہ کہا (اس کی گردن کا منکا توڑ دیا۔) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی گئی تو فرمایا: ”اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اسے کپڑوں میں کفن دو اسے خوشبو نہ لگاؤ نہ اس کا سر ڈھانپو۔“ ایوب نے کہا: ”بلاشبہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے اسی حالت میں تلبیہ کہتا ہوا اٹھائے گا۔“ اور عمرو نے کہا: ”بلاشبہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن اٹھائے گا۔ وہ تلبیہ پکار رہا ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2892]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اسی اثناء میں ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عرفات میں ٹھہرا ہوا تھا کہ وہ اچانک اپنی سواری سے گر گیا، ایوب کی روایت میں، اسے سواری نے گرا کر گردن توڑ ڈالی یا گرا کر مار ڈالا، عمرو نے فَوَقَصَتْهُ کہا، گرا کر گردن توڑ دی، اس کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور اسے دو کپڑوں میں کفن دو، اسے خوشبو نہ لگاؤ اور اس کا سر نہ ڈھانپو“ ایوب کہتے ہیں، کیونکہ قیامت کے دن اللہ اسے تلبیہ کہتے ہوئے اٹھائے گا، عمرو کہتے ہیں، کیونکہ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ اسے اٹھائے گا، وہ تلبیہ کہہ رہا ہو گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2892]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1206
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1206 ترقیم شاملہ: -- 2893
وحَدَّثَنِيهِ عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، قَالَ: نُبِّئْتُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَجُلًا كَانَ وَاقِفًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَذَكَرَ نَحْوَ مَا ذَكَرَ حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ.
اسماعیل بن ابراہیم نے ایوب سے حدیث بیان کی۔ کہا مجھے سعید بن جبیر سے خبر دی گئی، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وقوف کر رہا تھا اور احرام کی حالت میں تھا (آگے) ایوب سے حماد کی روایت کی مانند حدیث ذکر کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2893]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ احرام کی حالت میں وقوف (عرفہ میں ٹھہرنا) کیے ہوئے تھا، آگے مذکورہ بالا روایت ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2893]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1206
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1206 ترقیم شاملہ: -- 2894
وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أَقْبَلَ رَجُلٌ حَرَامًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَّ مِنْ بَعِيرِهِ، فَوُقِصَ وَقْصًا فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَأَلْبِسُوهُ ثَوْبَيْهِ وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلَبِّي"،
ہمیں عیسیٰ بن یونس نے خبر دی کہا: ابن جریج نے کہا: مجھے عمرو بن دینار نے سعید بن جبیر سے خبر دی انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، فرمایا: ایک شخص احرام کی حالت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آیا وہ اپنے اونٹ سے گر گیا (اس سے) اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ فوت ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو۔ اس کے اپنے (احرام کے) دو کپڑے پہناؤ اس کا سر نہ ڈھانپو بلاشبہ وہ قیامت کے روز آئے گا۔ تلبیہ پکار رہا ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2894]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک محرم آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آیا اور وہ اپنے اونٹ سے گر گیا، جس سے اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ فوت ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور اسے اس کے دونوں کپڑے پہناؤ اور اس کا سر نہ ڈھانپو، کیونکہ یہ قیامت کے دن تلبیہ کہتے ہوئے آئے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2894]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1206
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1206 ترقیم شاملہ: -- 2895
وحَدَّثَنَاه عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ أَخْبَرَهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أَقْبَلَ رَجُلٌ حَرَامٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ:" فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا"، وَزَادَ لَمْ يُسَمِّ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ حَيْثُ خَرَّ.
محمد بن بکر برسانی نے کہا: ہمیں ابن جریج نے عمرو بن دینار سے خبر دی کہ انہیں سعید بن جبیر نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے خبر دی۔ کہا: ایک شخص احرام کی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آیا۔ (آگے اسی کے مانند ہے مگر (محمد بن بکر نے) کہا بلاشبہ اسے قیامت کے روز تلبیہ کہتا ہوا اٹھایا جائے گا۔ اس میں یہ اضافہ کیا کہ سعید بن جبیر نے گرنے کی جگہ کا نام نہیں لیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2895]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی احرام کی حالت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آیا، جیسا کہ مذکورہ بالا روایت میں ہے، صرف اتنا فرق ہے، اس میں یہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے قیامت کے دن تلبیہ کہنے والا اٹھایا جائے گا۔“ اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ سعید بن جبیر نے گرنے کی جگہ کا نام نہیں لیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2895]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1206
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1206 ترقیم شاملہ: -- 2896
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَجُلًا أَوْقَصَتْهُ رَاحِلَتُهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ وَلَا وَجْهَهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا".
سفیان ثوری نے عمرو بن دینار سے انہوں نے سعید بن جبیر سے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ ایک شخص کو اس کی سواری نے گرا کر مار دیا وہ احرام کی حالت میں تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اسی کے (احرام کے) دو کپڑوں میں کفناؤ اس کا سر اور چہرہ نہ ڈھانپو۔ بلاشبہ اسے قیامت کے دن تلبیہ پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2896]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی کو اس کی سواری نے گرا کر گردن توڑ دی، جبکہ وہ محرم تھا اور وہ مر گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور اس کے دونوں کپڑوں کا کفن دو، اس کے سر اور چہرہ کو نہ ڈھانپو، کیونکہ وہ قیامت کے دن تلبیہ کہنے والا اٹھایا جائے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2896]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1206
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1206 ترقیم شاملہ: -- 2897
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا. ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَجُلًا كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمًا، فَوَقَصَتْهُ نَاقَتُهُ فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ، وَلَا تَمَسُّوهُ بِطِيبٍ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّدًا".
ہمیں ابوبشر نے حدیث سنائی کہا: ہمیں سعید بن جبیر نے حدیث بیان کی انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ ایک شخص احرام کی حالت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا اونٹنی نے گرا کر اس کی گردن توڑ دی اور وہ فوت ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اسے اس کے دو کپڑوں (احرام کی دو چادروں) میں کفن دو نہ اسے خوشبو لگاؤ نہ اس کا سر ڈھانپو بلاشبہ یہ قیامت کے دن اس حالت میں اٹھایا جائے گا کہ اس کے بال چپکے ہوئے ہوں گے۔ (جس طرح موت کے وقت احرام کی حالت میں تھے)“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2897]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1206
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1206 ترقیم شاملہ: -- 2898
وحَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَجُلًا وَقَصَهُ بَعِيرُهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يُغْسَلَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَلَا يُمَسَّ طِيبًا، وَلَا يُخَمَّرَ رَأْسُهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّدًا".
ابوعوانہ نے ابوبشر سے حدیث سنائی انہوں نے سعید بن جبیر سے انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ ایک شخص کو اس کے اونٹ نے (گرا کر) اس (کی گردن) کا منکا توڑ دیا جبکہ وہ (شخص) احرام کی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (سفر حج میں شریک) تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا کہ اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دیا جائے خوشبو نہ لگائی جائے نہ ہی اس کا سر ڈھانپا جائے۔ بلاشبہ اسے قیامت کے روز (احرام کی حالت میں) چپکے ہوئے بالوں کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2898]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی کو اس کی اونٹنی نے گرا دیا اور اس کی گردن توڑ ڈالی، جبکہ وہ محرم تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں حکم دیا کہ: ”اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دیا جائے، اسے خوشبو نہ لگائی جائے اور نہ اس کا سر ڈھانپا جائے، کیونکہ وہ قیامت کے دن جمے ہوئے بالوں کی صورت میں اٹھایا جائے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2898]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1206
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1206 ترقیم شاملہ: -- 2899
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافعٍ ، قَالَ ابْنُ نَافِعٍ: أَخْبَرَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بِشْرٍ يُحَدِّثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يُحَدِّثُ:" أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَوَقَعَ مِنْ نَاقَتِهِ فَأَقْعَصَتْهُ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُغْسَلَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَأَنْ يُكَفَّنَ فِي ثَوْبَيْنِ، وَلَا يُمَسَّ طِيبًا، خَارِجٌ رَأْسُهُ"، قَالَ شُعْبَةُ: ثُمَّ حَدَّثَنِي بِهِ بَعْدَ ذَلِكَ:" خَارِجٌ رَأْسُهُ وَوَجْهُهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّدًا".
شعبہ نے کہا: میں نے ابوبشر سے سنا وہ سعید بن جبیر سے حدیث بیان کر رہے تھے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ وہ احرام کی حالت میں تھا (اسی دوران میں) وہ اپنی اونٹنی سے گر گیا تو اس نے اسی وقت اسے مار دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دیا جائے اور اسے دو کپڑوں میں کفن دیا جائے خوشبو نہ لگائی جائے اور اس کا سر (کفن سے) باہر نکلا ہوا ہو۔ شعبہ نے کہا مجھے بعد میں انہوں نے یہی حدیث (اس طرح) بیان کیا کہ اس کا سر اور چہرہ باہر ہو۔ بلاشبہ اسے قیامت کے دن (احرام میں) چپکے بالوں کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2899]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس احرام کی حالت میں آیا، وہ اپنی اونٹنی سے گر گیا، اس نے اس کی گردن توڑ ڈالی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ: ”اسے پانی اور بیری کے پتوں سے نہلایا جائے اور اسے دو کپڑوں کا کفن دیا جائے، اس کو خوشبو نہ لگائی جائے اور اس کا سر کفن سے باہر ہو“، شعبہ کہتے ہیں بعد میں استاد نے مجھے اس طرح روایت سنائی کہ اس کا سر اور چہرہ باہر ہو، کیونکہ وہ قیامت کے دن جمے ہوئے بالوں کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2899]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1206
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1206 ترقیم شاملہ: -- 2900
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ زُهَيْرٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، يَقُولُ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَقَصَتْ رَجُلًا رَاحِلَتُهُ وَهُوَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَأَنْ يَكْشِفُوا وَجْهَهُ، حَسِبْتُهُ قَالَ: وَرَأْسَهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ يُهِلُّ".
ابوزبیر نے کہا میں نے سعید بن جبیر کو کہتے ہوئے سنا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ایک شخص کی اس کی سواری نے گرا کر گردن توڑ دی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین) کو حکم دیا کہ اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دیں اس کا چہرہ۔۔۔اور میرا خیال ہے کہا۔۔۔اور سر برہنہ رکھیں۔ بلاشبہ قیامت کے دن اسے اس طرح اٹھایا جائے گا کہ وہ بلند آواز سے تلبیہ پکار رہا ہو گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2900]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک آدمی تھا، اس کی اونٹنی نے اسے گرا کر اس کی گردن توڑ ڈالی، جس سے وہ مر گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے غسل دو، خوشبو اس کے قریب نہ لانا اور نہ اس کا چہرہ ڈھانپنا، کیونکہ قیامت کے دن یہ تلبیہ کہتے ہوئے اٹھایا جائے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2900]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1206
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1206 ترقیم شاملہ: -- 2901
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَوَقَصَتْهُ نَاقَتُهُ فَمَاتَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اغْسِلُوهُ وَلَا تُقَرِّبُوهُ طِيبًا، وَلَا تُغَطُّوا وَجْهَهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يُلَبِّي ".
منصور نے سعید بن جبیر سے انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک شخص (سفر حج میں شریک) تھا اسے اس کی اونٹنی نے گرا کر اس کی گردن توڑ دی اور وہ فوت ہو گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے غسل دو اور خوشبو اس کے قریب نہ لاؤ نہ ہی اس کا سر ڈھانپو۔ بلاشبہ وہ قیامت کے دن اس طرح اٹھایا جائے گا کہ وہ تلبیہ کہہ رہا ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2901]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک آدمی تھا، اس کی اونٹنی نے اسے گرا کر اس کی گردن توڑ ڈالی، جس سے وہ مر گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے نہلاؤ اور خوشبو اس کے قریب نہ لانا اور نہ اس کا چہرہ ڈھانپنا کیونکہ (قیامت کے دن) اسے تلبیہ کہتے ہوئے اٹھایا جائے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2901]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1206
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة