Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب وجوب الإحداد في عدة الوفاة وتحريمه في غير ذلك إلا ثلاثة ايام:
باب: سوگ واجب ہے اس عورت پر جس کا خاوند مر جائے اور کسی حالت میں تین دن سے زیادہ سوگ کرنا حرام ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1488 ترقیم شاملہ: -- 3727
(حديث موقوف) قَالَت قَالَت زَيْنَبُ : سَمِعْتُ أُمِّي أُمَّ سَلَمَةَ ، تَقُولُ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَت: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ ابْنَتِي تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا، وَقَدِ اشْتَكَتْ عَيْنُهَا، أَفَنَكْحُلُهَا؟ فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا "، مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، كُلَّ ذَلِكَ يَقُولُ: " لَا "، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ وَقَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ "،
زینب نے کہا: میں نے اپنی والدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سنا وہ کہہ رہی تھیں، ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی: اللہ کے رسول! میری بیٹی کا شوہر فوت ہو گیا ہے۔ اور اس کی آنکھوں میں تکلیف ہے۔ کیا ہم اسے سرمہ لگا دیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ دو یا تین بار (پوچھا گیا) ہر بار آپ فرماتے: نہیں۔ پھر فرمایا: یہ تو صرف چار ماہ دس دن ہیں، حالانکہ جاہلیت میں تم میں سے ایک عورت (پورا) ایک سال گزرنے کے بعد مینگنی پھینکا کرتی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الطلاق/حدیث: 3727]
حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے اپنی والدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور پوچھا، اے اللہ کے رسول! میری بیٹی کا خاوند فوت ہو گیا ہے اور اس کی آنکھوں میں تکلیف ہو گئی ہے، کیا ہم اسے سرمہ ڈال دیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں دو یا تین مرتبہ فرمایا: نہیں، پھر فرمایا: یہ تو بس چار ماہ دس دن ہیں، اور تم میں سے ہر ایک جاہلیت کے دور میں سال گزرنے پر مینگنی پھینکا کرتی تھیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الطلاق/حدیث: 3727]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1488
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1488 ترقیم شاملہ: -- 3731
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حدثنا شُعْبَةُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ ، تُحَدِّثُ عَنْ أُمِّهَا : أَنَّ امْرَأَةً تُوُفِّيَ زَوْجُهَا فَخَافُوا عَلَى عَيْنِهَا، فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَأْذَنُوهُ فِي الْكُحْلِ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَكُونُ فِي شَرِّ بَيْتِهَا فِي أَحْلَاسِهَا أَوْ فِي شَرِّ أَحْلَاسِهَا فِي بَيْتِهَا حَوْلًا، فَإِذَا مَرَّ كَلْبٌ رَمَتْ بِبَعْرَةٍ فَخَرَجَتْ، أَفَلَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا "،
حمید بن نافع سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے زینب بنت ام سلمہ سے سنا وہ اپنی والدہ سے حدیث بیان کر رہی تھیں کہ ایک عورت کا شوہر فوت ہو گیا، انہیں اس کی آنکھ کے بارے میں (بیماری لاحق ہونے کا) خطرہ محسوس ہوا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، اور آپ سے سرمہ لگانے کی اجازت مانگی، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی اپنے گھر کے بدترین حصے میں اپنے ٹاٹوں میں۔۔ یا فرمایا: اپنے بدترین ٹاٹوں میں اپنے گھر کے اندر۔۔ سال بھر رہتی، اس کے بعد جب کوئی کتا گزرتا تو وہ ایک لید پھینکتی اور باہر نکلتی تو کیا (اب) چار مہینے دس دن (صبر) نہیں (کر سکتی)؟ [صحيح مسلم/كتاب الطلاق/حدیث: 3731]
حمید بن نافع کو حضرت زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے اپنی والدہ سے روایت سنائی کہ ایک عورت کا خاوند فوت ہو گیا، تو اس کے گھر والوں کو اس کی آنکھوں کے بارے میں خطرہ محسوس ہوا، تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سرمہ لگانے کی اجازت طلب کی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ایک بدترین گھر میں، ٹاٹ یا جھل پہن کر، یا بدترین کپڑا پہن کر اپنے گھر میں ایک سال رہتی تھی، اور جب اس کے سامنے سے کتا گزرتا (ایک سال کے بعد) تو مینگنی پھینک کر (کٹیا سے) نکلتی۔ تو کیا اب چار ماہ اور دس دن گزارنا مشکل ہے؟ [صحيح مسلم/كتاب الطلاق/حدیث: 3731]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1488
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1488 ترقیم شاملہ: -- 3732
وحدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حدثنا أَبِي ، حدثنا شُعْبَةُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ ، بِالْحَدِيثَيْنِ جَمِيعًا حَدِيثِ أُمِّ سَلَمَةَ فِي الْكُحْلِ، وَحَدِيثِ أُمِّ سَلَمَةَ ، وَأُخْرَى مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ تُسَمِّهَا زَيْنَبَ نَحْوَ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ.
معاذ بن معاذ نے ہمیں حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں شعبہ نے حمید بن نافع سے اکٹھی دو حدیثیں بیان کیں، سرمہ لگانے کے بارے میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے ایک اور بیوی کی حدیث، البتہ انہوں نے ان کا نام، زینب، نہیں لیا۔۔ (باقی حدیث) محمد بن جعفر کی (سابقہ) حدیث کی طرح (بیان کی)۔ [صحيح مسلم/كتاب الطلاق/حدیث: 3732]
حمید بن نافع دونوں حدیثیں، ام سلمہ کی سرمہ لگانے والی حدیث اور ام سلمہ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی دوسری بیوی کی حدیث سنائی، لیکن زینب کا نام نہیں لیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الطلاق/حدیث: 3732]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1488
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1488 ترقیم شاملہ: -- 3733
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالَا: حدثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ ، تُحَدِّثُ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، وَأُمِّ حَبِيبَةَ : تَذْكُرَانِ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَتْ لَهُ أَنَّ بِنْتًا لَهَا تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا، فَاشْتَكَتْ عَيْنُهَا فَهِيَ تُرِيدُ أَنْ تَكْحُلَهَا، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَنْدَ رَأْسِ الْحَوْلِ، وَإِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ ".
حمید بن نافع سے روایت ہے کہ انہوں نے زینب بنت ابی سلمہ سے سنا، وہ حضرت ام سلمہ اور حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کر رہی تھیں، وہ دونوں یہ بتا رہی تھیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئی اور عرض کی کہ اس کی ایک بیٹی کا شوہر فوت ہو گیا ہے، اس کی آنکھ میں تکلیف ہو گئی ہے وہ چاہتی ہے کہ اس میں سرمہ لگائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ تم میں سے کوئی عورت (پورا) سال گزرنے پر لید پھینکا کرتی تھی، اور یہ تو صرف چار مہینے دس دن ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الطلاق/حدیث: 3733]
حمید بن نافع کو حضرت زینب بنت ابو سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے ام سلمہ اور ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہما سے یہ حدیث سنائی کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا، اس کی بیٹی کا خاوند فوت ہو گیا ہے اور اس کی آنکھ درد کرتی ہے، تو وہ چاہتی ہے اسے سرمہ ڈال دے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ایک سال گزرنے پر، مینگنی پھینکتی تھی اور اب تو صرف چار ماہ اور دس دن ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الطلاق/حدیث: 3733]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1488
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں