Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب فضل إنظار المعسر:
باب: مفلس کو مہلت دینے کی اور قرض وصول کرنے میں آسانی کرنے کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1560 ترقیم شاملہ: -- 3993
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، أَنَّ حُذَيْفَةَ ، حَدَّثَهُمْ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَلَقَّتِ الْمَلَائِكَةُ رُوحَ رَجُلٍ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، فَقَالُوا: أَعَمِلْتَ مِنَ الْخَيْرِ شَيْئًا؟ قَالَ: لَا، قَالُوا: تَذَكَّرْ، قَالَ: كُنْتُ أُدَايِنُ النَّاسَ، فَآمُرُ فِتْيَانِي: أَنْ يُنْظِرُوا الْمُعْسِرَ، وَيَتَجَوَّزُوا عَنِ الْمُوسِرِ، قَالَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: تَجَوَّزُوا عَنْهُ ".
منصور نے ہمیں ربعی بن حراش سے حدیث بیان کی کہ حضرت حذیفہ (بن یمان رضی اللہ عنہ) نے انہیں حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک آدمی کی روح کا فرشتوں نے استقبال کیا تو انہوں نے پوچھا: کیا تو نے کوئی نیکی کی ہے؟ اس نے کہا: نہیں، انہوں نے کہا: یاد کر، اس نے کہا: میں (دنیا میں) لوگوں کے ساتھ قرض کا معاملہ کرتا تو اپنے خادموں کو حکم دیتا تھا کہ وہ تنگدست کو مہلت دیں اور خوشحال سے نرمی برتیں۔ (انہوں نے) کہا: اللہ عزوجل نے فرمایا ہے: (تم بھی) اس کے ساتھ نرمی کا سلوک کرو۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3993]
حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک آدمی کی روح کا فرشتوں نے استقبال کیا، یعنی اس کی روح قبض کی، اور اس سے پوچھا، کیا تو نے کوئی نیک کام، اچھا عمل کیا ہے؟ اس نے کہا، نہیں، فرشتوں نے کہا، یاد کر، اس نے کہا، میں لوگوں کو قرض دیتا تھا اور اپنے نوکروں کو یہ ہدایت دیتا تھا کہ تنگدست کو مہلت دینا اور مالدار سے وصولی میں آسانی اور سہولت کا رویہ اختیار کرنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اس سے درگزر کرنے کا حکم دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3993]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1560
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1560 ترقیم شاملہ: -- 3994
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ حُجْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، قَالَ: اجْتَمَعَ حُذَيْفَةُ، وَأَبُو مَسْعُودٍ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ : " رَجُلٌ لَقِيَ رَبَّهُ، فَقَالَ: مَا عَمِلْتَ؟ قَالَ: مَا عَمِلْتُ مِنَ الْخَيْرِ، إِلَّا أَنِّي كُنْتُ رَجُلًا ذَا مَالٍ، فَكُنْتُ أُطَالِبُ بِهِ النَّاسَ، فَكُنْتُ أَقْبَلُ الْمَيْسُورَ، وَأَتَجَاوَزُ عَنِ الْمَعْسُورِ، فَقَالَ: تَجَاوَزُوا عَنْ عَبْدِي "، قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ : هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ.
نُعَیم بن ابی ہند نے ربعی بن حراش سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت حذیفہ اور حضرت ابومسعود (انصاری) رضی اللہ عنہما اکٹھے ہوئے تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک آدمی اللہ عزوجل کے حضور پیش ہوا تو اللہ نے پوچھا: تو نے کیا عمل کیا؟ اس نے کہا: میں نے کوئی نیکی نہیں کی، سوائے اس کے کہ میں مالدار آدمی تھا، میں لوگوں سے اس (میں سے دیے ہوئے قرض) کا مطالبہ کرتا تو مالدار سے خوش دلی سے قبول کرتا اور تنگ دست سے درگزر (مزید مہلت دیتا یا نہ دے سکتا تو معاف) کرتا۔ فرمایا: (تم بھی) میرے بندے سے درگزر کرو۔ (یہ سن کر) حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح فرماتے ہوئے سنا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3994]
حضرت ربعی بن حراش بیان کرتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت ابو مسعود رضی اللہ تعالی عنہ اکٹھے ہوئے، تو حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ نے بتایا، ایک آدمی اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوا، اللہ تعالیٰ نے پوچھا، تو نے کیا عمل کیا؟ اس نے جواب دیا، میں نے کوئی اچھا عمل نہیں کیا، سوائے اس کے کہ میں مالدار تھا، اور لوگوں سے اپنے قرض کا مطالبہ کرتا تھا، مقروض آسانی سے جو دے سکتا میں وصول کر لیتا، اور جو اسے دینا مشکل ہوتا، اس سے درگزر کرتا، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا، میرے بندے سے درگزر کرو، (اس کے گناہ معاف کر دو) حضرت ابو مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، میں نے بھی نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہی فرماتے ہوئے سنا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3994]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1560
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1560 ترقیم شاملہ: -- 3995
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " أَنَّ رَجُلًا مَاتَ، فَدَخَلَ الْجَنَّةَ، فَقِيلَ لَهُ: مَا كُنْتَ تَعْمَلُ؟ قَالَ: فَإِمَّا ذَكَرَ، وَإِمَّا ذُكِّرَ، فَقَالَ: إِنِّي كُنْتُ أُبَايِعُ النَّاسَ، فَكُنْتُ أُنْظِرُ الْمُعْسِرَ، وَأَتَجَوَّزُ فِي السِّكَّةِ، أَوْ فِي النَّقْدِ، فَغُفِرَ لَهُ "، فَقَالَ أَبُو مَسْعُودٍ : وَأَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عبدالملک بن عمیر نے ربعی بن حراش سے، انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی: ایک آدمی فوت ہوا اور جنت میں داخل ہوا تو اس سے کہا گیا: تو کیا عمل کرتا تھا؟۔۔ کہا: اس نے خود یاد کیا یا اسے یاد کرایا گیا۔۔ اس نے کہا: (اے میرے پروردگار!) میں لوگوں سے (قرض پر) خرید و فروخت کرتا تھا، تو میں تنگ دست کو مہلت دیتا اور سکہ اور نقدی وصول کرنے میں نرمی کرتا تھا، تو اس کی مغفرت کر دی گئی۔ اس پر حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے بھی یہی حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3995]
حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں، ایک آدمی مر کر جنت میں داخل ہو گیا، اس سے پوچھا گیا، تم کیا عمل کرتے تھے؟ راوی نے بتایا، اسے خود یاد آ گیا یا اسے (فرشتوں نے) یاد دلایا، اس نے کہا: میں لوگوں کو سودا بیچتا تھا، (اور اس میں) میں تنگدست کو مہلت دیتا تھا، اور سکہ دینار ودرہم، یا نقدی کی وصولی میں درگزر کرتا تھا، یعنی نقدی کے عیب یا معمولی کمی سے درگزر کرتا تھا، تو اسے معاف کر دیا گیا حضرت ابو مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے بتایا: میں نے بھی یہ روایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3995]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1560
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1560 ترقیم شاملہ: -- 3996
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: " أُتِيَ اللَّهُ بِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِهِ، آتَاهُ اللَّهُ مَالًا، فَقَالَ لَهُ: مَاذَا عَمِلْتَ فِي الدُّنْيَا؟ قَالَ: وَلَا يَكْتُمُونَ اللَّهَ حَدِيثًا، قَالَ: يَا رَبِّ، آتَيْتَنِي مَالَكَ، فَكُنْتُ أُبَايِعُ النَّاسَ وَكَانَ مِنْ خُلُقِي الْجَوَازُ، فَكُنْتُ أَتَيَسَّرُ عَلَى الْمُوسِرِ وَأُنْظِرُ الْمُعْسِرَ، فَقَالَ اللَّهُ: أَنَا أَحَقُّ بِذَا مِنْكَ، تَجَاوَزُوا عَنْ عَبْدِي "، فَقَالَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ الْجُهَنِيُّ ، وَأَبُو مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيُّ : هَكَذَا سَمِعْنَاهُ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سعد بن طارق نے ربعی بن حراش سے اور انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ کے حضور اس کے بندوں میں سے ایک بندہ پیش کیا گیا: اللہ نے اسے مال دیا تھا، تو اللہ نے اس سے پوچھا: تو نے دنیا میں کیا عمل کیا؟ انہوں نے کہا: اور وہ اللہ سے کوئی بات نہیں چھپائیں گے۔ اس نے عرض کی: میرے رب! تو نے مجھے مال دیا تھا، میں لوگوں سے لین دین کرتا تھا اور میری عادت نرمی اور آسانی کرنا تھی۔ میں مالدار پر آسانی کرتا اور تنگ دست کو مہلت دیتا تھا۔ تو اللہ عزوجل نے فرمایا: تمہاری نسبت میں اس کا زیادہ حق رکھتا ہوں، (فرشتو!) تم بھی میرے بندے سے درگزر کرو۔ حضرت عقبہ بن عامر جہنی اور ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہما نے کہا: ہم نے بھی یہ حدیث اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دہن مبارک سے سنی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3996]
حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے پاس اس کے بندوں میں سے ایک بندہ لایا گیا، جسے اللہ تعالیٰ نے مال سے نوازا تھا، تو اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا، دنیا میں تو نے کیا کام کیا؟ (راوی نے کہا، لوگ اللہ تعالیٰ سے کوئی بات چھپا نہیں سکیں گے) اس نے جواب دیا، اے میرے آقا! تو نے مجھے اپنے مال سے نوازا اور میں لوگوں سے خرید و فروخت کرتا تھا، اور میرا رویہ درگزر تھا، میں مالدار کو آسانی اور سہولت دیتا اور تنگدست کو مہلت دیتا، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا، میں تجھ سے زیادہ اس کا حق دار ہوں، میرے بندے سے درگزر کرو، تو عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ تعالی عنہ اور ابو مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، ہم نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے ایسے ہی سنا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3996]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1560
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں