🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب الوقف:
باب: وقف کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1632 ترقیم شاملہ: -- 4224
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: " أَصَابَ عُمَرُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَأْمِرُهُ فِيهَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَصَبْتُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ لَمْ أُصِبْ مَالًا قَطُّ هُوَ أَنْفَسُ عِنْدِي مِنْهُ، فَمَا تَأْمُرُنِي بِهِ؟، قَالَ: إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقْتَ بِهَا، قَالَ: فَتَصَدَّقَ بِهَا عُمَرُ أَنَّهُ لَا يُبَاعُ أَصْلُهَا وَلَا يُبْتَاعُ، وَلَا يُورَثُ، وَلَا يُوهَبُ، قَالَ: فَتَصَدَّقَ عُمَرُ فِي الْفُقَرَاءِ، وَفِي الْقُرْبَى، وَفِي الرِّقَابِ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَابْنِ السَّبِيلِ، وَالضَّيْفِ لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا، أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا بِالْمَعْرُوفِ أَوْ يُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ، قَالَ: فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ مُحَمَّدًا، فَلَمَّا بَلَغْتُ هَذَا الْمَكَانَ غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ، قَالَ مُحَمَّدٌ: غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالًا، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: وَأَنْبَأَنِي مَنْ قَرَأَ هَذَا الْكِتَابَ أَنَّ فِيهِ غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالًا "،
سلیم بن اخضر نے ہمیں ابن عون سے خبر دی، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خیبر میں زمین ملی، وہ اس کے بارے میں مشورہ کرنے کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! مجھے خیبر میں زمین ملی ہے، مجھے کبھی کوئی ایسا مال نہیں ملا جو میرے نزدیک اس سے زیادہ عمدہ ہو، تو آپ مجھے اس کے بارے میں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: اگر تم چاہو تو اس کی اصل وقف کر دو اور اس (کی آمدنی) سے صدقہ کرو۔ کہا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے (اس شرط کے ساتھ) صدقہ کیا کہ اس کی اصل نہ بیچی جائے، نہ اسے خریدا جائے، نہ ورثے میں حاصل کی جائے اور نہ ہبہ کی جائے۔ کہا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس (کی آمدنی) کو فقراء، اقرباء، غلاموں، فی سبیل اللہ، مسافروں اور مہمانوں میں صدقہ کیا اور (قرار دیا کہ) اس شخص پر کوئی گناہ نہیں جو اس کا نگران ہے کہ وہ اس میں تمول حاصل کیے (مالدار بنے) بغیر معروف طریقے سے اس میں سے خود کھائے یا کسی دوست کو کھلائے۔ (ابن عون نے) کہا: میں نے یہ حدیث محمد (بن سیرین) کو بیان کی، جب میں اس جگہ اس میں تمول حاصل کیے بغیر پر پہنچا تو محمد نے (ان الفاظ کے بجائے) مال جمع کیے بغیر کے الفاظ کہے۔ ابن عون نے کہا: مجھے اس شخص نے خبر دی جس نے اس کتاب (لکھے ہوئے وصیت نامے) کو پڑھا تھا کہ اس میں مال جمع کیے بغیر کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الوصية/حدیث: 4224]
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو خیبر میں زمین ملی، تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کے بارے میں مشورہ لینے کے لیے حاضر ہوئے، اور عرض کیا، اے اللہ کے رسول! مجھے خیبر میں زمین ملی ہے، مجھے کبھی اس سے زیادہ پسندیدہ مال نہیں ملا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اس کے بارے میں کیا مشورہ دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر چاہو تو اس کے اصل کو روک رکھو اور اس کے علاوہ (منافع) صدقہ کر دو۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اس کو صدقہ کر دیا، اس شرط کے ساتھ کہ اس کے اصل کو بیچا یا خریدا نہیں جائے گا، اور نہ اس کا کوئی وارث بنے گا، اور نہ اسے ھبہ کیا جا سکے گا، تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اسے فقراء، رشتہ داروں، اللہ کی راہ، مسافروں اور مہمانوں کے لیے صدقہ کر دیا، اور کہا، جو شخص اس زمین کا انتظام کرے گا، اس پر کوئی تنگی یا گناہ نہیں ہے کہ وہ معروف طریقہ کے مطابق اس سے کھائے یا دوست و احباب کو کھلائے، ہاں اس کو مال جمع کرنے کا ذریعہ نہ بنائے، ابن عون کہتے ہیں، میں نے یہ حدیث محمد بن سیرین کو سنائی تو جب میں غير متمول فيه، [صحيح مسلم/كتاب الوصية/حدیث: 4224]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1632
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1632 ترقیم شاملہ: -- 4225
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا أَزْهَرُ السَّمَّانُ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ كُلُّهُمْ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ، وَأَزْهَرَ انْتَهَى عِنْدَ قَوْلِهِ أَوْ يُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ، وَلَمْ يُذْكَرْ مَا بَعْدَهُ، وَحَدِيثُ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ فِيهِ مَا ذَكَرَ سُلَيْمٌ قَوْلُهُ، فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ مُحَمَّدًا إِلَى آخِرِهِ.
ابن ابی زائدہ، ازہر سمان اور ابن ابی عدی سب نے ابن عون سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی، البتہ ابن ابی زائدہ اور ازہر کی حدیث حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس قول پر ختم ہو گئی: یا تمول حاصل کیے بغیر کسی دوست کو کھلائے۔ اس کے بعد والا حصہ بیان نہیں کیا۔ اور ابن ابی عدی کی حدیث میں وہ قول ہے جو سلیم نے ذکر کیا کہ میں نے یہ حدیث محمد (بن سیرین) کو بیان کی، آخر تک۔ [صحيح مسلم/كتاب الوصية/حدیث: 4225]
امام صاحب اپنے تین اساتذہ کی سندوں سے، ابن عون کی مذکورہ بالا سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں، صرف اتنا فرق ہے کہ ابن ابی زائدہ اور ازہر کی حدیث اس پر ختم ہو گئی ہے، یا دوست کو کھلائے لیکن مال کو جمع کرنے کا ذریعہ نہ بنائے۔ اور بعد والا حصہ بیان نہیں کیا گیا، اور ابن عدی کی روایت میں سُلیم نے یہ بیان کیا ہے کہ میں نے یہ حدیث محمد کو سنائی، آخر تک موجود ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الوصية/حدیث: 4225]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1632
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں