🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب بيان ان كل مسكر خمر وان كل خمر حرام:
باب: ہر نشہ لانے والی شراب خمر ہے اور ہر خمر حرام ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2001 ترقیم شاملہ: -- 5211
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبِتْعِ، فَقَالَ: " كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ ".
امام مالک نے ابن شہاب (زہری) سے، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شہد کی بنی ہوئی شراب کے متعلق سوال کیا گیا، آپ نے فرمایا: ہر مشروب جو نشہ آور ہو وہ حرام ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5211]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شہد سے بنی شراب کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مشروب نشہ آور ہے، وہ حرام ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5211]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2001
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2001 ترقیم شاملہ: -- 5212
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبِتْعِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ ".
یونس نے ابن شہاب سے، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے روایت کی، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے ہوئے سنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شہد کی بنی ہوئی شراب کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ہر مشروب جو نشہ آور ہو وہ حرام ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5212]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بتع کے بارے میں پوچھا گیا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مشروب نشہ آور ہے، تو وہ حرام ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5212]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2001
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2001 ترقیم شاملہ: -- 5213
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ كُلُّهُمْ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ كُلُّهُمْ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ وَصَالِحٍ سُئِلَ عَنِ الْبِتْعِ، وَهُوَ فِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ وَفِي حَدِيثِ صَالِحٍ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: كُلُّ شَرَابٍ مُسْكِرٍ حَرَامٌ.
(سفیان) ابن عیینہ، صالح اور معمر سب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ روایت کی، سفیان اور صالح کی حدیث میں یہ (الفاظ) نہیں کہ آپ سے شہد کی بنی ہوئی شراب کے بارے میں پوچھا گیا، یہ الفاظ معمر کی حدیث میں ہیں۔ صالح کی حدیث میں ہے انہوں نے (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا): ہر نشہ آور مشروب حرام ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5213]
امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ کی سندوں سے زہری کی مذکورہ بالا سند سے حدیث بیان کرتے ہیں، سفیان اور صالح کی روایت میں شہد کی شراب کے بارے میں سوال کا ذکر نہیں ہے، اس کا ذکر معمر کی روایت میں ہے، صالح کی حدیث ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ہر نشہ آور مشروب حرام ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5213]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2001
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2001 ترقیم شاملہ: -- 5216
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي خَلَفٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ: " ادْعُوَا النَّاسَ وَبَشِّرَا وَلَا تُنَفِّرَا وَيَسِّرَا وَلَا تُعَسِّرَا "، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفْتِنَا فِي شَرَابَيْنِ كُنَّا نَصْنَعُهُمَا بِالْيَمَنِ الْبِتْعُ، وَهُوَ مِنَ الْعَسَلِ يُنْبَذُ حَتَّى يَشْتَدَّ وَالْمِزْرُ، وَهُوَ مِنَ الذُّرَةِ وَالشَّعِيرِ يُنْبَذُ حَتَّى يَشْتَدَّ، قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أُعْطِيَ جَوَامِعَ الْكَلِمِ بِخَوَاتِمِهِ، فَقَالَ: " أَنْهَى عَنْ كُلِّ مُسْكِرٍ أَسْكَرَ عَنِ الصَّلَاةِ ".
زید بن ابی انیسہ نے سعید بن ابی بردہ سے روایت کی، کہا: ہمیں حضرت ابوبردہ نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی جانب بھیجا، آپ نے فرمایا: لوگوں کو (اسلام کی) دعوت دینا، ان کو خوشخبری دینا اور متنفر نہ کرنا۔ معاملات کو آسان بنانا اور لوگوں کو مشکل میں نہ ڈالنا۔ انہوں نے کہا: میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! ہم کو دو مشروبوں کے بارے میں شریعت کا حکم بتائیے جنہیں ہم یمن میں تیار کرتے تھے۔ ایک بتع ہے جو شہد سے تیار کیا جاتا ہے۔ اسے برتنوں میں ڈالا جاتا ہے حتیٰ کہ وہ گاڑھا ہو جاتا ہے اور ایک مزر ہے وہ مکئی اور جو سے تیار کیا جاتا ہے، اسے برتنوں میں ڈالا جاتا ہے حتیٰ کہ اس میں شدت پیدا ہو جاتی ہے۔ انہوں نے کہا: اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بات کے خوبصورت خاتمے سمیت جامع کلمات عطا کیے گئے تھے۔ آپ نے فرمایا: میں ہر اس نشہ آور چیز سے منع کرتا ہوں جو نماز سے مدہوش کردے۔ (جس کی زیادہ مقدار مدہوش کردے اس کی قلیل ترین مقدار بھی حرام ہے۔) [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5216]
حضرت ابوبردہ اپنے باپ (حضرت ابوموسیٰ) سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور معاذ کو یمن بھیجا تو فرمایا: لوگوں کو دین کی دعوت دو اور بشارت سناؤ اور نفرت نہ دلاؤ اور آسانی پیدا کرو، تنگی پیدا نہ کرو۔ تو میں نے کہا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمیں ان دو مشروبوں کے بارے میں بتائیں، جو ہم یمن میں تیار کرتے تھے، بتع وہ شہد کا نبیذ ہے جو گاڑھا کر لیا جاتا ہے اور مِزُر ہے، جو مکئی اور جَو کا نبیذ ہے، حتیٰ کہ وہ گاڑھا ہو جاتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جامع مانع کلام سے نوازا گیا تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ہر نشہ آور چیز سے روکتا ہوں، جو نماز سے مدہوش کر دے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5216]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2001
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں