صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
13. باب آداب الطعام والشراب واحكامهما:
باب: کھانے، پینے اور سونے کے آداب کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2017 ترقیم شاملہ: -- 5259
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي حُذَيْفَةَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: كُنَّا إِذَا حَضَرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا لَمْ نَضَعْ أَيْدِيَنَا حَتَّى يَبْدَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَضَعَ يَدَهُ وَإِنَّا حَضَرْنَا مَعَهُ مَرَّةً طَعَامًا، فَجَاءَتْ جَارِيَةٌ كَأَنَّهَا تُدْفَعُ، فَذَهَبَتْ لِتَضَعَ يَدَهَا فِي الطَّعَامِ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهَا ثُمَّ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ كَأَنَّمَا يُدْفَعُ، فَأَخَذَ بِيَدِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَسْتَحِلُّ الطَّعَامَ أَنْ لَا يُذْكَرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ، وَإِنَّهُ جَاءَ بِهَذِهِ الْجَارِيَةِ لِيَسْتَحِلَّ بِهَا، فَأَخَذْتُ بِيَدِهَا، فَجَاءَ بِهَذَا الْأَعْرَابِيِّ لِيَسْتَحِلَّ بِهِ، فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ يَدَهُ فِي يَدِي مَعَ يَدِهَا ".
ابومعاویہ نے اعمش سے، انہوں نے خیثمہ سے، انہوں نے ابوحذیفہ سے، انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھاتے تو اپنے ہاتھ نہ بڑھاتے جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم شروع نہ کرتے اور ہاتھ نہ بڑھاتے۔ ایک دفعہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانے پر موجود تھے اور ایک لڑکی دوڑتی ہوئی آئی جیسے کوئی اس کو ہانک رہا ہو اور اس نے اپنا ہاتھ کھانے میں ڈالنا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ پھر ایک دیہاتی دوڑتا ہوا آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔ پھر فرمایا: ”شیطان اس کھانے پر قدرت پا لیتا ہے جس پر اللہ تعالیٰ کا نام نہ لیا جائے اور وہ ایک لڑکی کو اس کھانے پر قدرت حاصل کرنے کو لایا تو میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا، پھر اس دیہاتی کو اسی غرض سے لایا تو میں نے اس کا بھی ہاتھ پکڑ لیا، قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس (شیطان) کا ہاتھ اس لڑکی کے ہاتھ کے ساتھ میرے ہاتھ میں ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5259]
حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی کھانے میں شریک ہوتے تو جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آغاز فرماتے ہوئے ہوئے اپنا ہاتھ نہ بڑھاتے اور ایک دفعہ ہم آپ کے ساتھ کھانے کے لیے حاضر تھے تو ایک بچی آئی ہے گویا اسے دھکیلا جا رہا ہے ہم اپنے ہاتھ نہ بڑھاتے جب تک آپ نہ بڑھاتے تو وہ اپنا ہاتھ کھانے میں ڈالنے لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا، پھر ایک بدوی آیا، گویا کہ اس کا پیچھا کیا جا رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور فرمایا: ”شیطان اس کھانے کو حلال سمجھ لیتا ہے، جس پر اللہ کا نام نہ لیا جائے اور وہ اس بچی کو لایا تاکہ اس کے ذریعہ کھانا حلال بنائے تو میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا، پھر اس اعرابی کو لایا تاکہ اس کے ذریعہ حلال بنا لے، میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس کا ہاتھ بھی اس بچی کے ہاتھ کے ساتھ میرے ہاتھ میں ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5259]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2017
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2017 ترقیم شاملہ: -- 5260
وحَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ خَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي حُذَيْفَةَ الْأَرْحَبِيِّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ، قَالَ: كُنَّا إِذَا دُعِينَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى طَعَامٍ، فَذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَقَالَ: كَأَنَّمَا يُطْرَدُ وَفِي الْجَارِيَةِ كَأَنَّمَا تُطْرَدُ وَقَدَّمَ مَجِيءَ الْأَعْرَابِيِّ فِي حَدِيثِهِ قَبْلَ مَجِيءِ الْجَارِيَةِ، وَزَادَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ ثُمَّ ذَكَرَ اسْمَ اللَّهِ وَأَكَلَ.
عیسیٰ بن یونس نے کہا: ہمیں اعمش نے خیثمہ بن عبدالرحمن سے خبر دی، انہوں نے ابوحذیفہ ارحبی سے، انہوں نے حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانے کی دعوت دی جاتی، پھر ابومعاویہ کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی، اور کہا: جیسے اس (بدو) کو پیچھے سے زور سے دھکیلا جا رہا ہو۔ اور لڑکی کے بارے میں کہا: جیسے اسے پیچھے سے زور دے دھکیلا جا رہا ہو، انہوں نے اپنی حدیث میں بدو کے آنے کا ذکر پہلے کیا اور لڑکی کے آنے کا بعد میں اور حدیث کے آخر میں اضافہ کیا: ”پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بسم اللہ پڑھی اور تناول فرمایا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5260]
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، جب ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانے کی دعوت ملتی، آگے اوپر کی ابومعاویہ کی روایت کے ہم معنی روایت ہے اور اس "كان تدفع" کی جگہ بچی کے لیے "تطرد" ہے اور اعرابی کے لیے "يطرد" ہے اور اس نے اعرابی کی آمد کا تذکرہ پہلے کیا ہے، اور حدیث کے آخر میں یہ اضافہ کیا ہے، پھر "اللہ کا نام لے کر کھانا شروع کر دیا،" تدفع اور تطرد (دونوں کا معنی بھگانا ہے) [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5260]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2017
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2017 ترقیم شاملہ: -- 5261
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَدَّمَ مَجِيءَ الْجَارِيَةِ قَبْلَ مَجِيءِ الْأَعْرَابِيِّ.
سفیان نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور لڑکی کا آنا، اعرابی کے آنے سے پہلے بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5261]
امام صاحب ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں اور اس میں بچی کی آمد کو اعرابی کی آمد سے پہلے بیان کیا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5261]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2017
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة