صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
20. باب جواز استتباعه غيره إلى دار من يثق برضاه بذلك ويتحققه تحققا تاما واستحباب الاجتماع على الطعام:
باب: اگر مہمان کو یقین ہو کہ میزبان دوسرے کسی شخص کو ساتھ لے جانے سے ناراض نہ ہو گا تو ساتھ لے جا سکتا ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 2040 ترقیم شاملہ: -- 5316
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: قَالَ أَبُو طَلْحَةَ لِأُمِّ سُلَيْم: قَدْ سَمِعْتُ صَوْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَعِيفًا أَعْرِفُ فِيهِ الْجُوعَ فَهَلْ عِنْدَكِ مِنْ شَيْءٍ؟ فَقَالَتْ: نَعَمْ، فَأَخْرَجَتْ أَقْرَاصًا مِنْ شَعِيرٍ ثُمَّ أَخَذَتْ خِمَارًا لَهَا فَلَفَّتِ الْخُبْزَ بِبَعْضِهِ ثُمَّ دَسَّتْهُ تَحْتَ ثَوْبِي وَرَدَّتْنِي بِبَعْضِهِ، ثُمَّ أَرْسَلَتْنِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَذَهَبْتُ بِهِ فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ وَمَعَهُ النَّاسُ، فَقُمْتُ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرْسَلَكَ أَبُو طَلْحَةَ؟"، قَالَ: فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ:" أَلِطَعَامٍ؟"، فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَنْ مَعَهُ:" قُومُوا"، قَالَ: فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْتُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ حَتَّى جِئْتُ أَبَا طَلْحَةَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ: قَدْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ وَلَيْسَ عِنْدَنَا مَا نُطْعِمُهُمْ، فَقَالَتْ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَانْطَلَقَ أَبُو طَلْحَةَ حَتَّى لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ حَتَّى دَخَلَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلُمِّي مَا عِنْدَكِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ"، فَأَتَتْ بِذَلِكَ الْخُبْزِ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَفُتَّ وَعَصَرَتْ عَلَيْهِ أُمُّ سُلَيْمٍ عُكَّةً لَهَا، فَأَدَمَتْهُ، ثُمَّ قَالَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، ثُمَّ قَالَ: ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ، فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا، ثُمَّ قَالَ: ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ، فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا، ثُمَّ قَالَ: ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ حَتَّى أَكَلَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ وَشَبِعُوا وَالْقَوْمُ سَبْعُونَ رَجُلًا أَوْ ثَمَانُونَ.
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے کہا کہ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا سے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سنی ہے کمزور تھی۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھوک لگی ہے۔ کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، پھر انہوں نے جو کی کچھ روٹیاں نکالیں، پھر اپنی اوڑھنی لی اس کے ایک حصے میں روٹیاں لپیٹیں، پھر ان کو میرے کپڑوں کے نیچے چھپا دیا اور اس (اوڑھنی) کا بقیہ حصہ چادر کی طرح میرے اوپر ڈال دیا، پھر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیج دیا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ان روٹیوں کو لے کر گیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں بیٹھے پایا اور آپ کے ساتھ دوسرے لوگ موجود تھے، میں ان کے پاس کھڑا ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بھیجا ہے؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا کھانے کے لیے؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے کہا: ”چلو“ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے اور میں ان کے آگے آگے چل پڑا، یہاں تک کہ میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان کو بتایا۔ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ام سلیم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (باقی) لوگوں سمیت آ گئے ہیں، اور ہمارے پاس اتنا (کھانا) نہیں ہے کہ ان کو کھلا سکیں۔ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ جاننے والے ہیں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور (جا کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ آئے اور وہ دونوں گھر میں داخل ہو گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ام سلیم! جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ لے آؤ۔“ وہ یہی روٹیاں لے آئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں حکم دیا، ان (روٹیوں) کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر دیے گئے۔ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اپنا گھی کا کپہ (چمڑے کا گول برتن) ان (روٹیوں) پر نچوڑ کر سالن شامل کر دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں جو کچھ اللہ نے چاہا پڑھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دس آدمیوں کو آنے کی اجازت دو۔“ انہوں (ابوطلحہ رضی اللہ عنہ) نے دس آدمیوں کو اجازت دی، انہوں نے کھانا کھایا حتی�> سیر ہو گئے اور باہر چلے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”دس آدمیوں کو اجازت دو۔“ انہوں نے اجازت دی، ان سب نے کھایا سیر ہو گئے اور باہر چلے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”دس آدمیوں کو اجازت دو“ یہاں تک کہ سب لوگوں نے کھا لیا اور سیر ہو گئے۔ وہ ستر یا اسی لوگ تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5316]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کمزور آواز سنی ہے، جس سے میں نے بھوک محسوس کی ہے تو کیا تیرے پاس کچھ ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، تو اس نے جو کی کچھ روٹیاں پیش کیں، پھر اپنی اوڑھنی لی، اور اس کے کچھ حصہ میں روٹیاں لپیٹ دیں، پھر اسے میرے کپڑے کے نیچے چھپا دیا اور اوڑھنی کا باقی حصہ مجھ پر ڈال دیا، پھر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیج دیا، میں اس کو لے کر چلا گیا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں بیٹھے پایا اور لوگ بھی آپ کے ساتھ تھے، میں جا کر ان کے پاس ٹھہر گیا، (کہ اب کیسے پیش کروں) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تجھے ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بھیجا ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ”کیا کھانے کے لیے؟“ اس نے کہا: جی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: ”اٹھو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چل پڑے اور میں ان کے آگے چل پڑا، حتی کہ ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس پہنچ گیا اور انہیں صورت حال سے آگاہ کیا، ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہنے لگے، اے ام سلیم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو ساتھیوں سمیت آ رہے ہیں اور ہمارے پاس ان کو کھلانے کا انتظام نہیں ہے، ام سلیم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول خوب جانتے ہیں، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ چل پڑے حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جا ملے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ آگے بڑھے، حتی کہ دونوں گھر میں داخل ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ام سلیم! جو کچھ تیرے پاس ہے لاؤ۔“ تو اس نے وہ روٹیاں پیش کیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا حکم دیا، ایسا کیا گیا، حضرت ام سلیم نے ان ٹکڑوں پر کُپہ (چمرے کا گول برتن) نچوڑا اور ان کو سالن والی بنا دیا، پھر ان پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دعا پڑھی جو اللہ کو منظور تھی، پھر فرمایا: ”دس کو اجازت دو۔“ انہوں نے انہیں اجازت دی، انہوں نے کھایا، حتی کہ سیر ہو کر نکل گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دس کو اجازت دو۔“ حتی کہ تمام لوگوں نے کھایا اور سیر ہو گئے، لوگوں کی تعداد ستر (70) یا اَسی (80) تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5316]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2040
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2040 ترقیم شاملہ: -- 5317
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: بَعَثَنِي أَبُو طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَدْعُوَهُ وَقَدْ جَعَلَ طَعَامًا، قَالَ: فَأَقْبَلْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ النَّاسِ، فَنَظَرَ إِلَيَّ فَاسْتَحْيَيْتُ، فَقُلْتُ: أَجِبْ أَبَا طَلْحَةَ، فَقَالَ لِلنَّاسِ:" قُومُوا"، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا صَنَعْتُ لَكَ شَيْئًا، قَالَ: فَمَسَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَعَا فِيهَا بِالْبَرَكَةِ، ثُمَّ قَالَ:" أَدْخِلْ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِي عَشَرَةً"، وَقَالَ:" كُلُوا وَأَخْرَجَ لَهُمْ شَيْئًا مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ" فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا فَخَرَجُوا، فَقَالَ:" أَدْخِلْ عَشَرَةً"، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا فَمَا زَالَ يُدْخِلُ عَشَرَةً وَيُخْرِجُ عَشَرَةً حَتَّى لَمْ يَبْقَ مِنْهُمْ أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَ، فَأَكَلَ حَتَّى شَبِعَ ثُمَّ هَيَّأَهَا، فَإِذَا هِيَ مِثْلُهَا حِينَ أَكَلُوا مِنْهَا.
عبداللہ بن نمیر نے کہا: ہمیں سعد بن سعید نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی، کہا: مجھے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلانے کے لیے آپ کے پاس بھیجا، انہوں نے کھانا تیار کیا تھا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف دیکھا تو مجھے شرم آئی، میں نے کہا: ”حضرت ابوطلحہ کی دعوت قبول فرمائیے۔“ اس پر آپ نے لوگوں سے کہا: ”اٹھو۔“ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اللہ کے رسول! میں نے تو آپ کے لیے (کھانے کی) کچھ تھوڑی سی چیز تیار کی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کھانے کو چھوا اور اس میں برکت کی دعا کی، پھر فرمایا: ”میرے ساتھیوں میں سے دس کو اندر لاؤ“ اور (ان سے) فرمایا: ”کھاؤ“ اور آپ نے ان کے لیے اپنی انگلیوں کے درمیان سے کچھ نکالا تھا (برکت شامل کی تھی)، سو انہوں نے کھایا، سیر ہو گئے، اور باہر چلے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دس آدمیوں کو اندر لاؤ۔“ پھر انہوں نے کھایا، سیر ہو گئے اور چلے گئے، وہ دس دس کو اندر لاتے اور دس دس کو باہر بھیجتے رہے، یہاں تک کہ ان میں سے کوئی باقی نہ بچا مگر سب نے کھا لیا اور سیر ہو گئے، پھر اس کو سمیٹا تو وہ اتنا ہی تھا جتنا ان کے کھانے (کے آغاز) کے وقت تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5317]
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، مجھے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف، آپ کو اس کھانے کے لیے بلانے کے لیے بھیجا، جو انہوں نے تیار کیا تھا، میں آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لوگ تھے، آپ نے مجھے دیکھا تو میں شرما گیا اور میں نے کہا، آپ کو ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ دعوت کے لیے بلاتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: ”اٹھو“ ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے تو بس آپ کے لیے کچھ تیار کیا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو چھوا اور اس میں برکت کی دعا فرمائی، پھر فرمایا: ”میرے ساتھیوں میں سے دس افراد کو داخل کر دو“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”کھاؤ۔“ اور ان کے لیے اپنی انگلیوں میں سے کوئی چیز نکالی، انہوں نے کھایا، حتی کہ سیر ہو کر نکل گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ابوطلحہ سے) فرمایا: ”دس کو داخل کرو۔“ انہوں نے سیر ہو کر کھایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں دس دس داخل اور خارج کرتے رہے، حتی کہ کوئی نہ رہ گیا جو داخل نہ ہوا ہو، پھر آپ نے سیر ہو کر کھایا، پھر آپ نے کھانا ایک جگہ کیا تو وہ اتنا ہی تھا، جتنا انہوں نے کھانا شروع کیا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5317]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2040
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2040 ترقیم شاملہ: -- 5318
وحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَي الْأُمَوِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ: بَعَثَنِي أَبُو طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْر ٍ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فِي آخِرِهِ: " ثُمَّ أَخَذَ مَا بَقِيَ فَجَمَعَهُ ثُمَّ دَعَا فِيهِ بِالْبَرَكَةِ "، قَالَ: فَعَادَ كَمَا كَانَ، فَقَالَ دُونَكُمْ هَذَا.
یحییٰ بن سعید اموی نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں میرے والد نے حدیث سنائی کہا: ہمیں سعد بن سعید نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا: مجھے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا پھر ابن نمیر کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی، مگر انہوں نے اس کے آخر میں یوں کہا: جو بچا تھا آپ نے اسے لے کر اکٹھا کیا پھر اس میں برکت کی دعا کی کہا: تو وہ (پھر سے) اتنا ہی ہو گیا جتنا تھا پھر فرمایا: ”تمہارے لیے ہے۔“ (آپ نے کھانے کے آغاز میں بھی برکت کی دعا کی اور آخر میں بھی۔) [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5318]
امام صاحب ایک اور استاد سے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت بیان کرتے ہیں کہ ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجا اور ابن نمیر کی مذکورہ بالا روایت کی طرح روایت بیان کی، ہاں آخر میں کہا: پھر باقی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمع کروایا، پھر اس میں برکت کی دعا فرمائی تو وہ پہلی حالت پر لوٹ آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو لے لو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5318]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2040
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2040 ترقیم شاملہ: -- 5319
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: أَمَرَ أَبُو طَلْحَةَ أُمَّ سُلَيْمٍ أَنْ تَصْنَعَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا لِنَفْسِهِ خَاصَّةً، ثُمَّ أَرْسَلَنِي إِلَيْهِ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ فِيهِ: فَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ وَسَمَّى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ، فَأَذِنَ لَهُمْ فَدَخَلُوا، فَقَالَ: " كُلُوا وَسَمُّوا اللَّهَ "، فَأَكَلُوا حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ بِثَمَانِينَ رَجُلًا، ثُمَّ أَكَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ، وَأَهْلُ الْبَيْتِ وَتَرَكُوا سُؤْرًا.
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا سے کہا کہ وہ خاص طور پر صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا تیار کر دے پھر مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجا گیا اس کے بعد حدیث بیان کی اور اس میں یہ (بھی) کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (کھانے پر) اپنا ہاتھ رکھا اور اس پر بسم اللہ پڑھی پھر فرمایا: ”دس آدمیوں کو (اندر آنے کی) اجازت دو“ انہوں نے دس آدمیوں کو اجازت دی وہ اندر آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بسم اللہ پڑھو اور کھاؤ“ تو ان لوگوں نے کھایا حتیٰ کہ اسی آدمیوں کے ساتھ ایسا ہی کیا (دس دس کو اندر بلایا بسم اللہ پڑھ کر کھانے کو کہا۔) اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور گھر والوں نے کھایا اور (پھر بھی) انہوں نے کھانا بچا دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5319]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو خصوصی طور پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا تیار کرنے کا حکم دیا، پھر مجھے آپ کی طرف بھیجا اور مذکورہ حدیث بیان کی اور اس میں یہ بھی بتایا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ رکھا اور اس پر بسم اللہ پڑھی، پھر فرمایا: ”دس کو اجازت دو۔“ ابوطلحہ کی اجازت سے وہ داخل ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کا نام لے کر کھاؤ۔“ انہوں نے کھایا، حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ عمل اسی افراد کے ساتھ کیا، پھر اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور گھر کے افراد نے کھایا اور کھانا باقی چھوڑا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5319]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2040
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2040 ترقیم شاملہ: -- 5320
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ فِي طَعَامِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ فِيهِ: فَقَامَ أَبُو طَلْحَةَ عَلَى الْبَابِ حَتَّى أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا كَانَ شَيْءٌ يَسِيرٌ، قَالَ: " هَلُمَّهُ فَإِنَّ اللَّهَ سَيَجْعَلُ فِيهِ الْبَرَكَةَ ".
یحییٰ (مازنی) نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے کھانے کا یہی قصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کیا اور اس میں کہا: حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ دروازے پر کھڑے ہو گئے۔ یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ کے رسول! صرف تھوڑا سا کھانا تھا آپ نے فرمایا: ”لے آؤ اللہ تعالیٰ عنقریب اس میں برکت ڈال دے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5320]
امام صاحب ایک اور استاد سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے، ابوطلحہ کے کھانے کا یہی واقعہ بیان کرتے ہیں، اس میں یہ ہے، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ دروازہ پر کھڑے ہو گئے، حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے تو ان سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ تو بہت تھوڑا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے لاؤ، اللہ تعالیٰ ابھی اس میں برکت ڈال دے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5320]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2040
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2040 ترقیم شاملہ: -- 5321
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ الْبَجَلِيُّ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَقَالَ فِيهِ: ثُمَّ أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَكَلَ أَهْلُ الْبَيْتِ وَأَفْضَلُوا مَا أَبْلَغُوا جِيرَانَهُمْ.
عبداللہ بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی اور اس میں کہا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تناول فرمایا اور گھر والوں نے کھایا اور اتنا بچا دیا جو انہوں نے پڑوسیوں کو (بھی) بھجوا دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5321]
امام صاحب ایک اور استاد سے یہی حدیث بیان کرتے ہیں اور اس میں یہ ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور گھر والوں نے کھایا اور اتنا باقی چھوڑا جو پڑوسیوں تک پہنچایا گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5321]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2040
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2040 ترقیم شاملہ: -- 5322
وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ جَرِيرَ بْنَ زَيْدٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: رَأَى أَبُو طَلْحَةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُضْطَجِعًا فِي الْمَسْجِدِ يَتَقَلَّبُ ظَهْرًا لِبَطْنٍ، فَأَتَى أُمَّ سُلَيْمٍ، فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُضْطَجِعًا فِي الْمَسْجِدِ يَتَقَلَّبُ ظَهْرًا لِبَطْنٍ وَأَظُنُّهُ جَائِعًا، وَسَاقَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ فِيهِ: ثُمَّ أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو طَلْحَةَ وَأُمُّ سُلَيْمٍ وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ وَفَضَلَتْ فَضْلَةٌ فَأَهْدَيْنَاهُ لِجِيرَانِنَا.
عمرو بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا: حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں لیٹے ہوئے دیکھا آپ پیٹھ اور پیٹ کے بل کروٹیں لے رہے تھے۔ پھر وہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں لیٹے ہوئے دیکھا ہے آپ پیٹھ سے پیٹ کے بل کروٹیں لے رہے تھے اور میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھوکے ہیں اور (ساری) حدیث بیان کی اور اس میں یہ کہا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابوطلحہ، حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کھانا کھایا اور کچھ کھانا بچ گیا جو ہم نے اپنے پڑوسیوں کو ہدیہ کر دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5322]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں لیٹے ہوئے اس حال میں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹ پوٹ ہو رہے ہیں تو وہ ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس آئے اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں اس حال میں لیٹے دیکھا کہ آپ پشت اور پیٹ کو بار بار اوپر نیچے کر رہے ہیں اور میں سجھتا ہوں آپ بھوکے ہیں اور مذکورہ بالا حدیث بیان کی اور اس میں یہ بھی ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوطلحہ، ام سلیم، انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے کھایا اور کچھ کھانا بچ گیا تو وہ ہم نے بطور تحفہ پڑوسیوں کو دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5322]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2040
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2040 ترقیم شاملہ: -- 5323
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي التُّجِيبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ ، أَنَّ يَعْقُوبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيَّ ، حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَوَجَدْتُهُ جَالِسًا مَعَ أَصْحَابِهِ يُحَدِّثُهُمْ وَقَدْ عَصَّبَ بَطْنَهُ بِعِصَابَةٍ، قَالَ أُسَامَةُ: وَأَنَا أَشُكُّ عَلَى حَجَرٍ، فَقُلْتُ: لِبَعْضِ أَصْحَابِهِ لِمَ عَصَّبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَطْنَهُ؟، فَقَالُوا: مِنَ الْجُوعِ، فَذَهَبْتُ إِلَى أَبِي طَلْحَةَ وَهُوَ زَوْجُ أُمِّ سُلَيْمٍ بِنْتِ مِلْحَانَ، فَقُلْتُ يَا أَبَتَاهُ: قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ عَصَّبَ بَطْنَهُ بِعِصَابَةٍ، فَسَأَلْتُ بَعْضَ أَصْحَابِهِ، فَقَالُوا: مِنَ الْجُوعِ، فَدَخَلَ أَبُو طَلْحَةَ عَلَى أُمِّي، فَقَالَ: هَلْ مِنْ شَيْءٍ؟، فَقَالَتْ: نَعَمْ عِنْدِي كِسَرٌ مِنْ خُبْزٍ وَتَمَرَاتٌ، فَإِنْ جَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحْدَهُ أَشْبَعْنَاهُ، وَإِنْ جَاءَ آخَرُ مَعَهُ، قَلَّ عَنْهُمْ ثُمَّ ذَكَرَ سَائِرَ الْحَدِيثِ بِقِصَّتِهِ.
اسامہ نے بتایا کہ یعقوب بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے انہیں حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہہ رہے تھے: ایک دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے ان سے باتیں کرتے ہوئے پایا۔ آپ نے بطن مبارک پر ایک پتھر کو ایک چوڑی سی پٹی سے باندھ رکھا تھا۔ اسامہ نے کہا: مجھے شک ہے (کہ یعقوب نے "پتھر" کا لفظ بولا یا نہیں)۔ میں نے آپ کے ایک ساتھی سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بطن کو کیوں باندھ رکھا ہے؟ لوگوں نے بتایا: بھوک کی بنا پر۔ پھر میں ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا وہ (میری والدہ) حضرت ام سلیم بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے خاوند تھے میں نے ان سے کہا: ابا جان! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ نے پیٹ پر پٹی باندھ رکھی ہے میں نے آپ کے بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے پوچھا: اس کا کیا سبب ہے؟ انہوں نے کہا بھوک۔ پھر حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ میری والدہ کے پاس گئے اور پوچھا: کہ کوئی چیز ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں میرے پاس روٹی کے ٹکڑے اور کچھ کھجوریں ہیں اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے ہمارے پاس تشریف لے آئیں تو ہم آپ کو سیر کر کے کھلا دیں گے۔ اور اگر کوئی اور بھی آپ کے ساتھ آیا تو یہ کھانا کم ہو گا پھر باقی ساری حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5323]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، ایک دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے ان سے باتیں کرتے ہوئے پایا اور آپ نے اپنے پیٹ پر پٹی باندھی ہوئی تھی، حدیث کے راوی اسامہ کہتے ہیں: مجھے شک ہے کہ پٹی پتھر پر باندھی ہوئی تھی تو میں نے آپ کے بعض ساتھیوں سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا پیٹ کیوں باندھا ہوا ہے؟ انہوں نے بتایا: بھوک کی وجہ سے تو میں ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، جو ام سلیم بنت ملحان (میری والدہ) کے خاوند تھے، کے پاس حاضر ہوا اور عرض کی: اے ابا جان! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے، آپ نے ایک پٹی سے اپنا پیٹ باندھا ہوا ہے تو میں نے آپ کے بعض ساتھیوں سے پوچھا: انہوں نے بتایا، بھوک کی بنا پر باندھا ہے تو ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ میری والدہ کے پاس گئے اور پوچھا: کیا کوئی چیز ہے؟ اس نے کہا: ہاں، میرے پاس کچھ روٹی کے ٹکڑے اور کھجوریں ہیں، اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں اکیلے تشریف لائے تو ہم آپ کو سیر کر سکیں گے اور آپ کے ساتھ کوئی اور آ گیا تو کھانا ان کے لیے کم پڑ جائے گا، پھر روایت واقعہ سمیت سنائی۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5323]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2040
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2040 ترقیم شاملہ: -- 5324
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِر ِ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَعَامِ أَبِي طَلْحَةَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ.
نضر بن انس نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے کھانے کے بارے میں ان سب کی حدیث کے مطابق روایت کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5324]
امام صاحب اپنے ایک اور استاد سے، حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کھانے کے بارے میں روایت، دوسروں کی طرح بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5324]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2040
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة