صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
2. باب تحريم استعمال إناء الذهب والفضة على الرجال والنساء وخاتم الذهب والحرير على الرجل وإباحته للنساء وإباحة العلم ونحوه للرجل ما لم يزد على اربع اصابع:
باب: چاندی اور سونے کے استعمال کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2067 ترقیم شاملہ: -- 5394
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَهْلِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، سَمِعْتُهُ يَذْكُرُهُ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُكَيْمٍ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ حُذَيْفَةَ بِالْمَدَائِنِ، فَاسْتَسْقَى حُذَيْفَةُ ، فَجَاءَهُ دِهْقَانٌ بِشَرَابٍ فِي إِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ، فَرَمَاهُ بِهِ، وَقَالَ: إِنِّي أُخْبِرُكُمْ أَنِّي قَدْ أَمَرْتُهُ أَنْ لَا يَسْقِيَنِي فِيهِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَشْرَبُوا فِي إِنَاءِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، وَلَا تَلْبَسُوا الدِّيبَاجَ وَالْحَرِيرَ، فَإِنَّهُ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَهُوَ لَكُمْ فِي الْآخِرَةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
سعید بن عمرو بن سہل بن اسحٰق بن محمد بن اشعث بن قیس نے کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے انہیں ابوفروہ سے ذکر کرتے ہوئے سنا کہ انہوں نے عبداللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ سے سنا، کہا: ہم (ایران کے سابقہ دارالحکومت) مدائن میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے پانی مانگا تو ایک زمیندار چاندی کے برتن میں مشروب لے آیا، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس (مشروب) کے سمیت وہ برتن پھینک دیا اور کہا: میں تم لوگوں کو بتا رہا ہوں کہ میں پہلے اس سے کہہ چکا ہوں کہ وہ مجھے اس (چاندی کے برتن) میں نہ پلائے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”سونے اور چاندی کے برتن میں نہ پیو اور دیباج اور حریر نہ پہنو کیونکہ یہ چیزیں دنیا میں ان (کفار) کے لیے ہیں اور آخرت میں قیامت کے دن تمہارے لیے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5394]
عبداللہ بن عکیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم مدائن میں حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھے تو حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پانی مانگا تو ان کے پاس زمیندار چاندی کے برتن میں پانی لایا تو انہوں نے وہ برتن اسے دے مارا اور کہا: میں تمہیں آگاہ کرتا ہوں کہ میں اسے کہہ چکا ہوں، مجھے اس برتن میں پانی نہ پلانا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”سونے اور چاندی کے برتن میں نہ پیو اور دیباج و حریر نہ پہنو، کیونکہ یہ چیزیں، ان کے لیے (کافروں کے لیے) دنیا میں ہے اور تمہارے لیے قیامت کے دن آخرت میں ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5394]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2067
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2067 ترقیم شاملہ: -- 5395
وحدثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ الْجُهَنِيِّ ، قال: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُكَيْمٍ ، يقول: كُنَّا عِنْدَ حُذَيْفَةَ بِالْمَدَائِنِ فَذَكَرَ نَحْوَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي الْحَدِيثِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
ابن ابی عمر نے ہمیں یہی حدیث بیان کی کہا: ہمیں سفیان نے ابوفروہ جہنی سے حدیث سنائی، کہا: میں نے عبداللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے: ہم مدائن میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے پھر اس کی طرح بیان کیا اور اس حدیث میں ”قیامت کے دن“ (کے الفاظ) ذکر نہیں کیے۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5395]
امام صاحب یہی حدیث ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں، عبداللہ بن عکیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں: ہم مدائن میں حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تھے، آگے مذکورہ بالا روایت ہے اور اس میں ”قیامت کے دن“ کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5395]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2067
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2067 ترقیم شاملہ: -- 5396
وحدثني عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ أَوَّلًا، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، ثُمّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، سَمِعَهُ مِنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، ثُمّ حَدَّثَنَا أَبُو فَرْوَةَ ، قال: سَمِعْتُ ابْنَ عُكَيْمٍ ، فَظَنَنْتُ أَنَّ ابْنَ أَبِي لَيْلَى إِنَّمَا سَمِعَهُ مِنْ ابْنِ عُكَيْمٍ، قال: كُنَّا مَعَ حُذَيْفَةَ بِالْمَدَائِنِ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَلَمْ يَقُلْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
ابن ابی نجیح نے پہلے ہمیں مجاہد سے، انہوں نے ابن ابی لیلیٰ سے، انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ پھر ہمیں یزید نے حدیث بیان کی، انہوں نے یہ حدیث ابن ابی لیلیٰ سے سنی، انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے، پھر ہمیں ابوفروہ نے حدیث بیان کی کہا: میں نے عبداللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ سے سنی اور میرا خیال یہ ہے کہ ابن ابی لیلیٰ نے بھی یہ حدیث عبداللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ سے سنی، انہوں نے کہا: ہم مدائن میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ (ان کے دستے میں) تھے۔ پھر اسی کے مانند بیان کیا اور ”قیامت کے دن“ کے الفاظ نہیں کہے۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5396]
امام صاحب مختلف سندوں سے ابن عکیم سے بیان کرتے ہیں کہ ہم مدائن میں حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھے اور مذکورہ بالا روایت بیان کی اور قیامت کے دن کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5396]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2067
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2067 ترقیم شاملہ: -- 5397
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حدثنا أبى حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ: شَهِدْتُ حُذَيْفَةَ اسْتَسْقَى بِالْمَدَائِنِ، فَأَتَاهُ إِنْسَانٌ بِإِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ فَذَكَرَهُ بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ عُكَيْمٍ عَنْ حُذَيْفَةَ.
عبید اللہ کے والد معاذ عنبری نے کہا: ہمیں شعبہ نے حکم سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے دیکھا کہ مدائن میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے پانی مانگا تو ایک شخص ان کے پاس چاندی کا برتن لے کر آیا پھر انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے عبداللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ کی روایت کے مانند بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5397]
عبدالرحمٰن یعنی ابن ابی لیلیٰ بیان کرتے ہیں، میں حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس مدائن میں تھا، انہوں نے پانی مانگا تو ان کے پاس ایک انسان چاندی کا برتن لایا، آگے ابن عکیم کی روایت کے ہم معنی روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5397]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2067
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2067 ترقیم شاملہ: -- 5398
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ . ح وحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ كُلُّهُمْ، عَنْ شُعْبَةَ بمثل حديث مُعَاذٍ وَإِسْنَادِهِ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمْ فِي الْحَدِيثِ شَهِدْتُ حُذَيْفَةَ غَيْرُ مُعَاذٍ وَحْدَهُ إِنَّمَا قَالُوا إِنَّ حُذَيْفَةَ اسْتَسْقَى.
وکیع، محمد بن جعفر، ابن ابی عدی اور بہز، ان سب نے شعبہ سے معاذ کی حدیث کے مانند انہی کی سند کے ساتھ حدیث روایت کی اور اکیلے معاذ کے سوا، ان میں سے کسی نے حدیث میں (میں نے حذیفہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا) کے الفاظ نہیں کہے۔ سب نے یہی کہا: حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے پانی مانگا۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5398]
یہی روایت امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ سے معاذ کی حدیث اور سند کی طرح بیان کرتے ہیں اور کسی نے حدیث میں یہ بیان نہیں کیا: میں حذیفہ کے پاس تھا، صرف معاذ یہ بیان کرتا ہے، باقیوں نے صرف یہ کہا: حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پانی مانگا۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5398]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2067
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2067 ترقیم شاملہ: -- 5399
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ كِلَاهُمَا، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ مَنْ ذَكَرْنَا.
منصور اور ابن عون دونوں نے مجاہد سے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے، انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان لوگوں کی روایت کے ہم معنی حدیث بیان کی جن کا ہم نے ذکر کیا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5399]
امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ سے مذکورہ بالا اساتذہ کی طرح حدیث بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5399]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2067
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2067 ترقیم شاملہ: -- 5400
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حدثنا أبى ، حَدَّثَنَا سَيْفٌ ، قال: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا ، يقول: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى ، قال: اسْتَسْقَى حُذَيْفَةُ ، فَسَقَاهُ مَجُوسِيٌّ فِي إِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ، فَقَالَ: إِنِّي سمعت رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا تَلْبَسُوا الْحَرِيرَ، وَلَا الدِّيبَاجَ، وَلَا تَشْرَبُوا فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، وَلَا تَأْكُلُوا فِي صِحَافِهَا فَإِنَّهَا لَهُمْ فِي الدُّنْيَا ".
سیف نے کہا کہ میں نے مجاہد کو کہتے ہوئے سنا، عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے سنا، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے پانی مانگا تو ایک مجوسی ان کے پاس چاندی کے برتن میں پانی لایا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”ریشم نہ پہنو، دیباج نہ پہنو اور نہ سونے اور چاندی کے برتن میں پیو اور نہ ان (قیمتی دھاتوں) کی رکابیوں (پلیٹوں) میں کھاؤ کیونکہ یہ برتن دنیا میں ان (کفار) کے لیے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5400]
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ بیان کرتے ہیں، حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پانی طلب کیا تو ایک مجوسی نے انہیں چاندی کے برتن میں پیش کیا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: ”نہ ریشم پہنو اور نہ دیباج اور نہ سونے اور چاندی کے برتن میں پیو اور نہ ان کی پلیٹوں میں کھاؤ، کیونکہ یہ برتن دنیا میں ان کے لیے (کافروں کے لیے) ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5400]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2067
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة