صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
26. باب تحريم تصوير صورة الحيوان وتحريم اتخاذ ما فيه صورة غير ممتهنة بالفرش ونحوه وان الملائكة عليهم السلام لا يدخلون بيتا فيه صورة ولا كلب
باب: جانور کی تصویر بنانا حرام ہے اور فرشتوں کا اس گھر میں داخل نہ ہونا جس گھر میں کتا اور تصویر ہو اس کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2107 ترقیم شاملہ: -- 5520
قَالَ: فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ ، فَقُلْتُ: إِنَّ هَذَا يُخْبِرُنِي، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا تَمَاثِيلُ "، فَهَلْ سَمِعْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ ذَلِكَ؟، فَقَالَتْ: لَا، وَلَكِنْ سَأُحَدِّثُكُمْ مَا رَأَيْتُهُ، فَعَلَ رَأَيْتُهُ خَرَجَ فِي غَزَاتِهِ، فَأَخَذْتُ نَمَطًا، فَسَتَرْتُهُ عَلَى الْبَابِ، فَلَمَّا قَدِمَ فَرَأَى النَّمَطَ عَرَفْتُ الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِهِ، فَجَذَبَهُ حَتَّى هَتَكَهُ أَوْ قَطَعَهُ، وَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَأْمُرْنَا أَنْ نَكْسُوَ الْحِجَارَةَ وَالطِّينَ "، قَالَتْ: فَقَطَعْنَا مِنْهُ وِسَادَتَيْنِ، وَحَشَوْتُهُمَا لِيفًا فَلَمْ يَعِبْ ذَلِكَ عَلَيَّ.
(سعید بن یسار نے) کہا: (یہ حدیث سن کر) میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور کہا: انہوں (ابوطلحہ رضی اللہ عنہ) نے کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو نہ (اس میں جہاں کسی طرح کی تصویریں ہوں۔)“ کیا آپ نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی جو انہوں نے بیان کی؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: نہیں (میں نے اس طرح یہ الفاظ نہیں سنے) لیکن میں تمہیں بتاتی ہوں جو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے ہوئے دیکھا۔ میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ اپنے غزوے میں تشریف لے گئے تو میں نے نیچے بچھانے کا ایک موٹا سا کپڑا لیا اور دروازے پر اس کا پردہ بنا دیا جب آپ آئے اور آپ نے وہ کپڑا دیکھا تو میں نے آپ کے چہرہ انور پر ناپسندیدگی کے آثار محسوس کیے، پھر آپ نے اسے پکڑ کر کھینچا اور اسے پھاڑ دیا اس کے (دو ٹکڑے کر دیے اور فرمایا: ”اللہ نے ہمیں پتھروں اور مٹی کو کپڑے پہنانے کا حکم نہیں دیا۔“) (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: پھر ہم نے اس کپڑے میں سے دو تکیے (بنانے کے لیے دو ٹکڑے) کاٹ لیے اور میں نے ان دونوں کے اندر کھجوروں کی چھال بھر دی۔ آپ نے اس کے سبب سے مجھ پر کوئی اعتراض نہیں فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5520]
حضرت زید رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے کہا، اس ابو طلحہ نے مجھے یہ حدیث سنائی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر و مجسمے ہوں۔“ تو کیا آپ نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے؟ انہوں نے کہا، نہیں، لیکن میں تمہیں ابھی آپ کا وہ واقعہ سناتی ہوں، جو میرا چشم دید ہے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنے کسی غزوہ میں چلے گئے تو میں نے ایک جھول دار پردہ لیا اور اسے دروازہ کا پردہ بنا دیا تو جب آپ تشریف لائے اور اس زین پوش کو دیکھا تو میں نے آپ کے چہرے پر ناراضگی کے آثار دیکھے تو آپ نے اس کو کھینچ کر پھاڑ ڈالا، یا چیز ڈالا اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ہمیں، پتھروں اور مٹی کو کپڑے پہننانے کا حکم نہیں دیا“ وہ بیان کرتی ہیں، ہم نے اس سے دو تکیے بنا لیے اور میں نے ان میں کھجور کی چھال بھر دی تو اس پر آپ نے اعتراض نہیں فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5520]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2107
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2107 ترقیم شاملہ: -- 5521
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ عَزْرَةَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ لَنَا سِتْرٌ فِيهِ تِمْثَالُ طَائِرٍ، وَكَانَ الدَّاخِلُ إِذَا دَخَلَ اسْتَقْبَلَهُ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَوِّلِي هَذَا، فَإِنِّي كُلَّمَا دَخَلْتُ فَرَأَيْتُهُ ذَكَرْتُ الدُّنْيَا "، قَالَتْ: وَكَانَتْ لَنَا قَطِيفَةٌ كُنَّا نَقُولُ عَلَمُهَا حَرِيرٌ فَكُنَّا نَلْبَسُهَا.
اسماعیل بن ابراہیم نے داود سے، انہوں نے عزرہ سے، انہوں نے حمید بن عبدالرحمان سے، انہوں نے سعد بن ہشام سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: ہمارے ہاں ایک پردہ تھا جس میں پرندے کی تصویر تھی، جب کوئی شخص اندر آتا یہ تصویر اس کے سامنے آ جاتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اس پردے کو ہٹا دو کیونکہ میں جب بھی اندر آتا ہوں اور اس پردے کو دیکھتا ہوں تو دنیا کو یاد کرتا ہوں۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہمارے پاس ایک چادر تھی، ہم کہتے تھے کہ اس کے کناروں پر سلا ہوا کپڑا ریشم ہے، ہم اس چادر کو پہنتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5521]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں، ہمارا ایک پردہ تھا، جس میں پرندے کی شبیہ تھی اور داخل ہونے والے کی نظر سب سے پہلے اس پر پڑتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”اس کو یہاں سے ہٹا دو، کیونکہ میں جب داخل ہوتا ہوں اور اس پر میری نظر پڑتی ہے، مجھے دنیا یاد آ جاتی ہے۔“ وہ بیان کرتی ہیں اور ہمارے پاس ایک چادر تھی، ہم کہتے تھے، اس کے نقش و نگار ریشمی ہوں اور ہم اس کو پہنتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5521]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2107
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2107 ترقیم شاملہ: -- 5522
وحدثينيه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى وَزَادَ فِيهِ يُرِيدُ عَبْدَ الْأَعْلَى، فَلَمْ يَأْمُرْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَطْعِهِ.
محمد بن مثنیٰ نے کہا: ہمیں ابن ابی عدی اور عبدالاعلیٰ نے اسی سند کے ساتھ (داود سے) حدیث بیان کی، ابن مثنیٰ نے کہا: اور اس میں انہوں نے۔۔۔ ان کی مراد عبدالاعلیٰ سے ہے۔ یہ اضافہ کیا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس چادر کو کاٹنے کا حکم نہیں دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5522]
امام صاحب یہی حدیث ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں اور اس میں یہ اضافہ ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں چادر کو کاٹنے کا حکم نہیں دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5522]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2107
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2107 ترقیم شاملہ: -- 5523
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ، وَقَدْ سَتَّرْتُ عَلَى بَابِي دُرْنُوكًا فِيهِ الْخَيْلُ ذَوَاتُ الْأَجْنِحَةِ، فَأَمَرَنِي فَنَزَعْتُهُ ".
ابواسامہ نے ہشام (بن عروہ) سے، انہوںژه اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر سے واپس آئے، میں نے روئیں دار کپڑا دروازے کا پردہ بنایا ہوا تھا جس پر پروں والے گھوڑوں کی تصویریں تھیں تو آپ نے مجھے (اتارنے کا) حکم دیا تو میں نے اس کو اتار دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5523]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر سے واپس آئے اور میں اپنے دروازے پر ایک پردہ ڈال چکی تھی، جس میں پروں والے گھوڑے کی شبیہ تھی تو آپ نے مجھے اس کے اتارنے کا حکم دیا تو میں نے اسے اتار دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5523]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2107
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2107 ترقیم شاملہ: -- 5524
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ . ح وحدثنا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ عَبْدَةَ قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ.
عبدہ اور وکیع نے اسی سند کے ساتھ ہمیں (ہشام بن عروہ سے) حدیث بیان کی، عبدہ کی حدیث میں (آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے آئے) کے الفاظ نہیں ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5524]
امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ سے یہی روایت بیان کرتے ہیں اور عبدہ کی حدیث میں سفر سے واپسی کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5524]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2107
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2107 ترقیم شاملہ: -- 5525
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مُتَسَتِّرَةٌ بِقِرَامٍ فِيهِ صُورَةٌ، فَتَلَوَّنَ وَجْهُهُ ثُمَّ تَنَاوَلَ السِّتْرَ فَهَتَكَهُ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُشَبِّهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ ".
ابراہیم بن سعد نے زہری سے، انہوں نے قاسم بن محمد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے اور میں نے ایک موٹے سے کپڑے کا پردہ لٹکایا ہوا تھا، اس پر تصویر تھی تو آپ کے چہرہ انور کا رنگ بدل گیا۔ پھر آپ نے پردہ کو پکڑا اور پھاڑ دیا، پھر فرمایا: ”قیامت کے دن شدید ترین عذاب میں پڑے ہوئے لوگوں میں سے وہ (بھی) ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی (جاندار) اشیاء کے جیسی (مشابہ) بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5525]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے اور میں نے ایک باریک پردہ تانا ہوا تھا، جس میں تصویر تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پردہ کو پکڑ کو چاک کر دیا، پھر فرمایا: ”قیامت کے دن جو لوگ سب سے سخت عذاب میں مبتلا ہوں گے ان میں وہ لوگ جو اللہ کی تخلیق کی مشابہت کرتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5525]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2107
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2107 ترقیم شاملہ: -- 5526
وحدثني حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا بِمِثْلِ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: ثُمَّ أَهْوَى إِلَى الْقِرَامِ فَهَتَكَهُ بِيَدِهِ.
یونس نے ابن شہاب سے، انہوں نے قاسم بن محمد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے انہیں حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے، (آگے اسی طرح) جس طرح ابراہیم بن سعد کی حدیث ہے، البتہ انہوں نے کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس (پردے) کی طرف لپکے اور اپنے ہاتھ سے اس کو پھاڑ دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5526]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، جیسا کہ مذکورہ بالا حدیث ہے، مگر اس میں یہ الفاظ ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پردے کی طرف جھکے اور اسے اپنے ہاتھ سے پھاڑ دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5526]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2107
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2107 ترقیم شاملہ: -- 5527
وحدثنا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِهِمَا إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا لَمْ يَذْكُرَا مِنْ.
سفیان بن عیینہ اور معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، ان دونوں کی حدیث میں ہے: (لوگوں میں سے شدید ترین عذاب میں پڑے ہوئے وہ لوگ ہوں گے) انہوں نے (میں سے) کے الفاظ بیان نہیں کیے۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5527]
مصنف یہی روایت اپنے پانچ اساتذہ کی دو سندوں سے بیان کرتے ہیں، لیکن اس میں أشد الناس [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5527]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2107
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2107 ترقیم شاملہ: -- 5528
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ سَتَرْتُ سَهْوَةً لِي بِقِرَامٍ فِيهِ تَمَاثِيلُ، فَلَمَّا رَآهُ هَتَكَهُ وَتَلَوَّنَ وَجْهُهُ، وَقَالَ يَا عَائِشَةُ: " أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُضَاهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ "، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقَطَعْنَاهُ، فَجَعَلْنَا مِنْهُ وِسَادَةً أَوْ وِسَادَتَيْنِ.
ابوبکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے عبدالرحمان بن قاسم سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، وہ کہہ رہی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے اور میں نے اپنے طاق پر موٹا سا کپڑے کا پردہ لٹکایا ہوا تھا جس میں تصویریں تھیں۔ جب آپ نے اس کے پردے کو دیکھا تو اس کو پھاڑ ڈالا آپ کے چہرہ انور کا رنگ متغیر ہو گیا اور آپ نے فرمایا: ”عائشہ! قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے شدید عذاب کے مستحق وہ لوگ ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کی تخلیق کی مشابہت کریں گے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہم نے اس پردے کو کاٹ دیا اور اس سے ایک یا دو تکیے بنا لیے (ایک یا دو کے بارے میں شک راوی کی طرف سے ہے۔) [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5528]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میں نے ایک طاق یا مچان پر ایسا پردہ ڈالا ہوا تھا، جس میں تصاویر تھیں تو جب آپ نے اسے دیکھا، اسے پھاڑ دیا اور آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور فرمایا: ”اے عائشہ! قیامت کے دن اللہ کے ہاں، سب سے سخت عذاب ان لوگوں کو ہو گا، جو اللہ کی تخلیق کی مشابہت اختیار کرتے ہیں“ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں، ہم نے اس کو پھاڑ کر، اس سے ایک یا دو تکیے بنا لیے۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5528]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2107
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2107 ترقیم شاملہ: -- 5529
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، قال: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهُ كَانَ لَهَا ثَوْبٌ فِيهِ تَصَاوِيرُ مَمْدُودٌ إِلَى سَهْوَةٍ، فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَيْهِ، فَقَالَ: " أَخِّرِيهِ عَنِّي "، قَالَتْ: فَأَخَّرْتُهُ فَجَعَلْتُهُ وَسَائِدَ.
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے عبدالرحمان بن قاسم سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے قاسم سے سنا، وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ ان کے پاس ایک کپڑا تھا جس میں تصویریں تھیں، وہ طاق پر لٹکا ہوا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرف رخ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو مجھ سے ہٹا دو۔“ تو میں نے اس کو ہٹا دیا اور اس کے تکیے بنا لیے۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5529]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ ان کے پاس ایک کپڑا تھا، جس میں تصویریں تھیں، اسے طاق پر لٹکایا گیا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرف نماز پڑھتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مجھ سے دور کر دیجئے“ تو میں نے اس کو ہٹا کر اس کے تکیے بنا لیے۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5529]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2107
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2107 ترقیم شاملہ: -- 5530
وحدثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَامِرٍ . ح وحدثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ جَمِيعًا، عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
سعید بن عامر اور ابوعامر عقدی نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5530]
امام صاحب یہی روایت اور اساتذہ سے بھی بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5530]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2107
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2107 ترقیم شاملہ: -- 5531
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ وَقَدْ سَتَرْتُ نَمَطًا فِيهِ تَصَاوِيرُ، فَنَحَّاهُ فَاتَّخَذْتُ مِنْهُ وِسَادَتَيْنِ ".
وکیع نے سفیان سے، انہوں نے عبدالرحمان بن قاسم سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے، اور میں نے ایک بچھانے والے کپڑے کا پردہ بنایا ہوا تھا، اس میں تصویریں تھیں، آپ نے اس کو ہٹوا دیا اور میں نے اس سے دو تکیے بنا لیے۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5531]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے اور میں نے ایک باتصاویر پردہ تانا ہوتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ہٹا دیا تو اس سے میں نے دو تکیے بنا لیے۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5531]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2107
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2107 ترقیم شاملہ: -- 5532
وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " أَنَّهَا نَصَبَتْ سِتْرًا فِيهِ تَصَاوِيرُ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَعَهُ، قَالَتْ: فَقَطَعْتُهُ وِسَادَتَيْنِ "، فَقَالَ رَجُلٌ فِي الْمَجْلِسِ حِينَئِذٍ يُقَالُ لَهُ رَبِيعَةُ بْنُ عَطَاءٍ مَوْلَى بَنِي زُهْرَةَ: أَفَمَا سَمِعْتَ أَبَا مُحَمَّدٍ يَذْكُرُ أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْتَفِقُ عَلَيْهِمَا، قَالَ ابْنُ الْقَاسِمِ: لَا، قَالَ: لَكِنِّي قَدْ سَمِعْتُهُ يُرِيدُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ.
بکیر نے کہا: عبدالرحمان بن قاسم نے انہیں حدیث بیان کی، انہیں ان کے والد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے ایک پردہ لٹکا رکھا تھا جس میں تصاویر تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لائے تو آپ نے اس پردے کو اتار دیا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں اس کو کاٹ کر دو تکیے بنا لیے، (جب یہ حدیث بیان کی جا رہی تھی) تو اس مجلس میں ایک شخص نے، جو ربیعہ بن عطاء کہلاتے تھے، بنو زہری کے مولیٰ تھے، کہا: کیا آپ نے ابومحمد (قاسم بن محمد) کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں (تکیوں) کے ساتھ ٹیک لگاتے تھے؟ تو (عبدالرحمان) ابن قاسم نے کہا: نہیں، اس نے کہا: لیکن میں نے یقیناً (ان سے) یہ بات سنی تھی۔ ان کی مراد (ان کے والد) قاسم بن محمد سے تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5532]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ اس نے تصویروں والا ایک پردہ لٹکایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھینچ ڈالا تو میں نے کاٹ کر اس کے دو تکیے بنا لیے تو اس وقت مجلس میں ایک آدمی جسے ربیعہ بن عطاء کہا جاتا تھا اور بنو زہرہ کا آزاد کردہ غلام تھا، نے کہا، کیا تو نے ابو محمد کو یہ بیان کرتے نہیں سنا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان پر آرام فرماتے تھے؟ ابن قاسم نے کہا، نہیں، لیکن یہ میں نے قاسم بن محمد سے سنا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5532]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2107
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2107 ترقیم شاملہ: -- 5533
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قال: قرأت على مالك ، عن نافع ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : " أَنَّهَا اشْتَرَتْ نُمْرُقَةً فِيهَا تَصَاوِيرُ، فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَى الْبَابِ فَلَمْ يَدْخُلْ، فَعَرَفْتُ أَوْ فَعُرِفَتْ فِي وَجْهِهِ الْكَرَاهِيَةُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُوبُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ فَمَاذَا أَذْنَبْتُ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا بَالُ هَذِهِ النُّمْرُقَةِ؟ "، فَقَالَتْ: اشْتَرَيْتُهَا لَكَ تَقْعُدُ عَلَيْهَا وَتَوَسَّدُهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ وَيُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ "، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي فِيهِ الصُّوَرُ لَا تَدْخُلُهُ الْمَلَائِكَةُ ".
امام مالک رحمہ اللہ نے نافع سے، انہوں نے قاسم بن محمد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے ایک (چھوٹا سا بیٹھنے کے لیے) گدا خریدا جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (گدے) کو دیکھا تو آپ دروازے پر ٹھہر گئے اور اندر داخل نہ ہوئے، میں نے آپ کے چہرے پر ناپسندیدگی کے آثار محسوس کیے، (یا کہا:) آپ کے چہرے پر ناپسندیدگی کے آثار محسوس ہوئے، تو انہوں (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں (سچے دل سے) اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے توبہ کرتی ہوں۔ میں نے کیا گناہ کیا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ گدا کیسا ہے؟“ انہوں نے کہا: میں نے یہ آپ کے لیے خریدا ہے تا کہ آپ اس پر بیٹھیں اور ٹیک لگائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان تصویروں (کے بنانے) والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا: تم نے جو (صورتیں) تخلیق کی ہیں، ان کو زندہ کرو۔“ پھر فرمایا: ”جس گھر میں تصویریں ہوں ان میں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5533]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ اس نے ایک تصویروں والا تکیہ خریدا تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا، دروازہ پر کھڑے ہو گئے، اندر تشریف نہیں لائے تو میں نے محسوس کر لیا، یا آپ کے چہرے پر کبیدگی کے آثار محسوس ہوئے تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے کہا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اللہ او اس کے رسول کی طرف لوٹتی ہوں، مجھ سے کیا گناہ سرزد ہوا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ گدا، تکیہ کس لیے ہے؟“ تو میں نے عرض کیا، میں نے اسے آپ کے لیے خریدا ہے، آپ اس پر بیٹھیں اور اس کا سہارا لیں، تکیہ بنائیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تصویریں بنانے والے، ان کو عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا، اپنی مخلوق کو زندہ کرو“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس گھر میں تصویریں ہوں، اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5533]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2107
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2107 ترقیم شاملہ: -- 5534
وحدثنا قُتَيْبَةُ ، وَابْنُ رُمْح ، عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ . ح وحدثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، حدثنا أبى عَنْ جَدِّي ، عَنْ أَيُّوبَ . ح وحدثنا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَخِي الْمَاجِشُونِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ كُلُّهُمْ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَبَعْضُهُمْ أَتَمُّ حَدِيثًا لَهُ مِنْ بَعْضٍ وَزَادَ فِي حَدِيثِ ابْنِ أَخِي الْمَاجِشُونِ، قَالَتْ: فَأَخَذْتُهُ فَجَعَلْتُهُ مِرْفَقَتَيْنِ فَكَانَ يَرْتَفِقُ بِهِمَا فِي الْبَيْتِ.
قتیبہ اور ابن رمح نے لیث سے حدیث بیان کی، اسحاق بن ابراہیم نے کہا: ہمیں ثقفی نے خبر دی، کہا: ہمیں ایوب نے حدیث بیان کی، عبدالوارث بن عبدالصمد نے کہا: ہمیں میرے والد نے میرے دادا کے واسطے سے ایوب سے حدیث بیان کی، ہارون بن سعید ایلی نے کہا: ہمیں ابن وہب نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے اسامہ بن زید نے خبر دی، ابوبکر اسحاق نے کہا: ہمیں ابوسلمہ خزاعی نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ماجثون کے بھتیجے عبدالعزیز نے عبیداللہ بن عمر سے خبر دی، ان سب (لیث بن سعد، ایوب، اسامہ بن زید اور عبیداللہ بن عمر) نے نافع سے، انہوں نے قاسم سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ حدیث روایت کی، ان میں سے بعض کی حدیث بعض کی نسبت زیادہ مکمل ہے اور (ابوسلمہ خزاعی نے) ابن ماجثون کے بھتیجے سے روایت کردہ حدیث میں یہ اضافہ کیا: انہوں (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) نے فرمایا: میں نے اس گدے کو لے کر اس کے دو تکیے بنا لیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں ان کے ساتھ ٹیک لگاتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5534]
امام صاحب مختلف اساتذہ کی پانچ سندوں سے نافع ہی کی سند سے یہ حدیث بیان کرتے ہیں اور بعض نے تفصیل زیادہ بیان کی ہے، ماجشون کے بھتیجے کی روایت میں یہ اضافہ ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے اس گدے کو اٹھایا اور اس کے دو تکیے بنا دیے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر پر، ان کا سہارا لیتے تھے، یا ان پر آرام کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5534]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2107
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة