صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
3. باب استحباب تغيير الاسم القبيح إلى حسن وتغيير اسم برة إلى زينب وجويرية ونحوهما:
باب: برے نام کا بدل ڈالنا مستحب ہے اور برّہ کو زینب سے بدلنے کے استحباب کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2142 ترقیم شاملہ: -- 5608
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ . ح وحدثنا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قالا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، حَدَّثَتْنِي زَيْنَبُ بِنْتُ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: كَانَ اسْمِي بَرَّةَ، فَسَمَّانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ، قَالَتْ: " وَدَخَلَتْ عَلَيْهِ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ، وَاسْمُهَا بَرَّةُ، فَسَمَّاهَا زَيْنَبَ ".
ولید بن کثیر نے کہا: مجھے محمد بن عمرو بن عطاء نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے حضرت زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا، کہا: میرا نام برہ تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام زینب رکھ دیا۔ انہوں نے کہا: جب زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا آپ کے حبالہ عقد میں داخل ہوئیں تو ان کا نام بھی برہ تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام بھی زینب رکھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5608]
حضرت زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں، میرا نام بره تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام زینب رکھا اور بیان کرتی ہیں، آپ کے نکاح میں حضرت زینب بنت حجش رضی اللہ تعالی عنہا آئیں، ان کا نام بره تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام زینب رکھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5608]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2142
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2142 ترقیم شاملہ: -- 5609
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، قال: سَمَّيْتُ ابْنَتِي بَرَّةَ، فَقَالَتْ لِي زَيْنَبُ بِنْتُ أَبِي سَلَمَةَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ هَذَا الِاسْمِ وَسُمِّيتُ بَرَّةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُزَكُّوا أَنْفُسَكُمُ اللَّهُ أَعْلَمُ بِأَهْلِ الْبِرِّ مِنْكُمْ "، فَقَالُوا: بِمَ نُسَمِّيهَا، قَالَ: " سَمُّوهَا زَيْنَبَ ".
یزید بن ابی حبیب نے محمد بن عمرو بن عطاء سے روایت کی، کہا: میں نے اپنی بیٹی کا نام برہ رکھا تو حضرت زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نام رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ اور (بتایا کہ) میرا نام بھی پہلے برہ رکھا گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ اپنی پارسائی بیان کرو اللہ تعالیٰ ہی خوب جانتا ہے کہ تم میں سے نیکو کار کون ہے۔“ (گھر کے) لوگوں نے کہا: پھر ہم اس کا کیا نام رکھیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا نام زینب رکھ دو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5609]
محمد بن عمرو بن عطاء بیان کرتے ہیں، میں نے اپنی بیٹی کا نام بره رکھا تو مجھے حضرت زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نام کے رکھنے سے روکا ہے، میرا نام بره رکھا گیا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خود اپنا تزکیہ نہ کرو، اللہ تعالیٰ تم میں سے وفاداروں اور نیکوکاروں کو خوب جانتا ہے“ تو میرے ورثاء نے پوچھا، ہم اس کا کیا نام رکھیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا نام زینب رکھو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5609]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2142
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة