صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1ق. باب في إنشاد الاشعار وبيان اشعر الكلمة وذم الشعر
باب: شعر پڑھنے، بیان کرنے اور اس کی مذمت کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2256 ترقیم شاملہ: -- 5888
حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ جميعا، عَنْ شَرِيكٍ ، قَالَ ابْنُ حُجْرٍ: أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَشْعَرُ كَلِمَةٍ تَكَلَّمَتْ بِهَا الْعَرَبُ كَلِمَةُ لَبِيدٍ: أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلٌ ".
شریک نے عبدالملک بن عمیر سے، انہوں نے ابوسلمہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا:”عربوں نے شعر میں جو سب سے عمدہ بات کہی وہ بات لبید کا یہ جملہ ہے: سن رکھو! اللہ کے سوا ہر چیز (جس کی عبادت کی جاتی ہے) باطل ہے۔“(دوسرا مصرع ہے: «وكلُّ نعيمٍ لا محالَةَ زائلُ» اور ہر نعمت لازمی طور پر زائل ہونے والی ہے)۔“ [صحيح مسلم/كتاب الشعر/حدیث: 5888]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عربوں نے جو بول بولے ہیں، ان میں بہترین کلام،لبید کا یہ شعر ہے۔ ”خبردار، اللہ کےسوا ہر چیز، فانی اور زوال پذیر ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الشعر/حدیث: 5888]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2256
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2256 ترقیم شاملہ: -- 5889
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَصْدَقُ كَلِمَةٍ قَالَهَا شَاعِرٌ كَلِمَةُ لَبِيدٍ: أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلٌ "، وَكَادَ أُمَيَّةُ بْنُ أَبِي الصَّلْتِ، أَنْ يُسْلِمَ.
سفیان نے عبدالملک بن عمیر سے روایت کی، کہا: ہمیں ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”سب سے سچی بات جو کسی شاعر نے کہی لبید کی بات ہے: سن رکھو! اللہ کے سوا ہر چیز (جس کی عبادت کی جاتی ہے) باطل ہے۔“اور قریب تھا کہ امیہ بن ابی صلت مسلمان ہو جاتا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الشعر/حدیث: 5889]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے سچا بول، جوکسی شاعر نے بولا ہے، لبید کا یہ بول ہے ”خبردار! اللہ کے سوا ہر چیز فانی اور زوال پذیر ہے۔ اور قریب تھا کہ امیہ بن ابی صلت، مسلمان ہو جاتا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الشعر/حدیث: 5889]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2256
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2256 ترقیم شاملہ: -- 5890
وحَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَصْدَقُ بَيْتٍ قَالَهُ الشَّاعِرُ: أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلٌ "، وَكَادَ ابْنُ أَبِي الصَّلْتِ أَنْ يُسْلِمَ.
زائدہ نے عبدالملک بن عمیر سے، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”کسی بھی شاعر کا کہا ہوا سب سے سچا شعر وہ ہے جو لبید نے کہا ہے: سنو اللہ کے سوا ہر چیز باطل ہے۔“اور قریب تھا کہ امیہ بن ابی صلت مسلمان ہو جاتا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الشعر/حدیث: 5890]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے سچا بول شعر جو کسی شاعر نے کہا ہے، ”یہ ہےخبردار! اللہ کے سوا ہر چیز بے حقیقت ہے۔“ اور قریب تھا کہ ابن ابی صلت اسلام لے آتا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الشعر/حدیث: 5890]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2256
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2256 ترقیم شاملہ: -- 5891
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَصْدَقُ بَيْتٍ قَالَتْهُ الشُّعَرَاءُ: أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلٌ ".
شعبہ نے عبدالملک بن عمیر سے، انہوں نے ابوسلمہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، کہ آپ نے فرمایا:”شاعروں کے کلام میں سب سے سچا شعر لبید کا ہے: سن رکھو! اللہ کے سوا ہر چیز باطل ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الشعر/حدیث: 5891]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے سچا شعر جو شعراء نے کہا ہے، ”خبردار! ہر چیز اللہ کے سوا فانی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الشعر/حدیث: 5891]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2256
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2256 ترقیم شاملہ: -- 5892
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا يَحْيَي بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ أَصْدَقَ كَلِمَةٍ قَالَهَا شَاعِرٌ، كَلِمَةُ لَبِيدٍ: أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلٌ "، مَا زَادَ عَلَى ذَلِكَ.
اسرائیل نے عبدالملک بن عمیر سے، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرمارہے تھے:”سب سے سچی بات جو کسی شاعر نے کہی لبید کی بات ہے: سن رکھو! اللہ کے سوا ہر چیز باطل ہے۔“انہوں (اسرائیل) نے اس پر کوئی اضافہ نہیں کیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الشعر/حدیث: 5892]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”سب سے سچا بول جو کسی شاعر نے بولا ہے، لبید کا قول ہے، ”خبردار، دنیا کی ہر چیز اللہ کے سوا فنا پذیر ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے زائد نہیں کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب الشعر/حدیث: 5892]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2256
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة