🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
42. باب من فضائل موسى صلى الله عليه وسلم:
باب: سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی بزرگی کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 339 ترقیم شاملہ: -- 770
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ، يَغْتَسِلُونَ عُرَاةً، يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى سَوْأَةِ بَعْضٍ، وَكَانَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام، يَغْتَسِلُ وَحْدَهُ، فَقَالُوا: وَاللَّهِ مَا يَمْنَعُ مُوسَى أَنْ يَغْتَسِلَ مَعَنَا، إِلَّا أَنَّهُ آدَرُ قَالَ: فَذَهَبَ مَرَّةً يَغْتَسِلُ، فَوَضَعَ ثَوْبَهُ عَلَى حَجَرٍ، فَفَرَّ الْحَجَرُ بِثَوْبِه، قَالَ: فَجَمَحَ مُوسَى بِإِثْرِهِ، يَقُولُ: ثَوْبِي حَجَرُ، ثَوْبِي حَجَرُ، حَتَّى نَظَرَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ إِلَى سَوْأَةِ مُوسَى، قَالُوا: وَاللَّهِ مَا بِمُوسَى مِنْ بَأْسٍ، فَقَامَ الْحَجَرُ حَتَّى نُظِرَ إِلَيْهِ، قَالَ: فَأَخَذَ ثَوْبَهُ فَطَفِقَ بِالْحَجَرِ ضَرْبًا، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَاللَّهِ إِنَّهُ بِالْحَجَرِ نَدَبٌ سِتَّةٌ، أَوْ سَبْعَةٌ " ضَرْبُ مُوسَى بِالْحَجَرِ.
ہمام بن منبہ سے روایت ہے، کہا: یہ احادیث ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (نقل کرتے ہوئے) سنائیں، انہوں نے متعدد احادیث بیان کیں ان میں سے ایک یہ ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نبی اسرائیل بے لباس ہو کر، اس طرح نہاتے تھے کہ ایک دوسرے کا ستر دیکھ رہے ہوتے اور موسیٰ رضی اللہ عنہ اکیلے نہایا کرتے تھے۔ بنو اسرائیل کہنے لگے: اللہ کی قسم! موسیٰ رضی اللہ عنہ ہمارے ساتھ محض اس لیے نہیں نہاتے کہ ان کی خصیتیں پھولی ہوئی ہیں۔ آپ نے فرمایا: موسیٰ رضی اللہ عنہ ایک دفعہ نہانے کے لیے گئے تو اپنے کپڑے ایک پتھر پر رکھ دیے، پتھر آپ کے کپڑے لے کر بھاگ کھڑا ہوا، موسیٰ رضی اللہ عنہ اس کے پیچھے یہ کہتے ہوئے سرپٹ دوڑ پڑے: او پتھر! میرے کپڑے، او پتھر! میرے کپڑے، یہاں تک کہ بنی اسرائیل نے موسیٰ رضی اللہ عنہ کے ستر کو دیکھ لیا اور کہنے لگے: اللہ کی قسم! موسیٰ رضی اللہ عنہ کو تو کوئی بیماری نہیں ہے، جب موسیٰ رضی اللہ عنہ کو دیکھ لیا گیا تو پتھر ٹھہر گیا، موسیٰ رضی اللہ عنہ نے اپنے کپڑے پہنے اور پتھر کو مارنے لگے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! پتھر پر چھ یا سات نشان تھے، یہ پتھر کو موسیٰ رضی اللہ عنہ کی مار تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 770]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنو اسرائیل برہنہ نہاتے تھے، ایک دوسرے کی شرم گاہ کو دیکھ رہے ہوتے، اور موسیٰ علیہ السلام اکیلے نہاتے، اسرائیلی کہنے لگے، اللہ کی قسم! موسیٰ علیہ السلام ہمارے ساتھ محض اس بنا پر نہیں نہاتے کہ ان کو ہرنیا کی بیماری ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: موسیٰ علیہ السلام ایک دفعہ نہانے لگے تو اپنے کپڑے ایک پتھر پر رکھ دیے پتھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے لے کر بھاگ کھڑا ہوا، اور موسیٰ علیہ السلام اس کے پیچھے (سرپٹ) زور سے دوڑ پڑے، اور فرمانے لگے، اے پتھر میرے کپڑے، اے پتھر میرے کپڑے دو، یہاں تک کہ بنو اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام کے قابل ستر حصہ کو دیکھ لیا، اور کہنے لگے، اللہ کی قسم! موسیٰ علیہ السلام کو تو کوئی بیماری لاحق نہیں ہے، جب موسیٰ علیہ السلام کا سراپا دیکھ لیا تو پتھر ٹھر گیا، موسیٰ علیہ السلام نے اپنے کپڑے پہنے اور پتھر کو مارنا شروع کر دیا۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا، اللہ کی قسم! موسیٰ علیہ السلام کے پتھر کو مارنے سے اس پر چھ یا سات نشان پڑ گئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 770]
ترقیم فوادعبدالباقی: 339
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 339 ترقیم شاملہ: -- 6146
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ يَغْتَسِلُونَ عُرَاةً، يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى سَوْأَةِ بَعْضٍ، وَكَانَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام، يَغْتَسِلُ وَحْدَهُ، فَقَالُوا: وَاللَّهِ مَا يَمْنَعُ مُوسَى أَنْ يَغْتَسِلَ مَعَنَا، إِلَّا أَنَّهُ آدَرُ، قَالَ: فَذَهَبَ مَرَّةً يَغْتَسِلُ، فَوَضَعَ ثَوْبَهُ عَلَى حَجَرٍ، فَفَرَّ الْحَجَرُ بِثَوْبِهِ، قَالَ: فَجَمَحَ مُوسَى بِأَثَرِهِ، يَقُولُ: ثَوْبِي حَجَرُ، ثَوْبِي حَجَرُ، حَتَّى نَظَرَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ إِلَى سَوْأَةِ مُوسَى، فَقَالُوا: وَاللَّهِ مَا بِمُوسَى مِنْ بَأْسٍ، فَقَامَ الْحَجَرُ بَعْدُ، حَتَّى نُظِرَ إِلَيْهِ، قَالَ: فَأَخَذَ ثَوْبَهُ، فَطَفِقَ بِالْحَجَرِ ضَرْبًا، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَاللَّهِ إِنَّهُ بِالْحَجَرِ نَدَبٌ سِتَّةٌ، أَوْ سَبْعَةٌ، ضَرْبُ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام بِالْحَجَرِ ".
ہمام بن منبہ نے کہا: یہ احادیث ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنو اسرائیل ننگے غسل کرتے تھے اور ایک دوسرے کی شرم گاہ دیکھتے تھے جبکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اکیلے غسل کرتے تھے، وہ لوگ (آپس میں) کہنے لگے: واللہ! حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ہمارے ساتھ نہانے سے اس کے سوا اور کوئی بات نہیں روکتی کہ انہیں خصیوں کی سوجن ہے۔ ایک دن حضرت موسیٰ علیہ السلام غسل کرنے کے لیے گئے اور اپنے کپڑے ایک پتھر پر رکھ دیے، وہ پتھر آپ کے کپڑے لے کر بھاگ نکلا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام یہ کہتے ہوئے اس کے پیچھے لپکے: میرے کپڑے، پتھر! میرے کپڑے، پتھر! یہاں تک کہ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جائے ستر دیکھ لی۔ وہ کہنے لگے: اللہ کی قسم! موسیٰ علیہ السلام کو تو کوئی تکلیف نہیں۔ فرمایا: انہوں نے اپنے کپڑے لے لیے اور پتھر کو ضربیں لگانا شروع کر دیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: واللہ! پتھر پر چھ یا سات زخموں کے جیسے نشان پڑ گئے، یہ پتھر کو موسیٰ علیہ السلام کی مار تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6146]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی ہمام بن منبہ کے سنائی ہوئی احادیث میں سے ایک یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسرئیلی ننگے نہاتے تھے اور ایک دوسرے کی شرم گاہ دیکھتے رہتے او رحضرت موسیٰ علیہ السلام اکیلے الگ تھلگ غسل کرتے تھے تو وہ کنے لگے، اللہ کی قسم! موسیٰ علیہ السلام کو ہمارے ساتھ نہانے سے صرف یہ چیز روکتی ہے کہ ان کے خصے پھولے ہوئے ہیں، ایک دن وہ نہانے لگے، تو اپنے کپڑے ایک پتھر پر رکھ دیئے، پتھر ان کے کپڑے لے کر بھاگ کھڑا ہوا، موسیٰ علیہ السلام اس کے پیچھے دوڑے، کہتے جاتے تھے، میرے کپڑے دے، اے پتھر، میرے کپڑے دے، اے پتھر حتی کہ اسرائیلیوں نے موسیٰ علیہ السلام کی شرم گاہ کو دیکھ لیا تو وہ کہنے لگے، اللہ کی قسم!موسیٰ علیہ السلام کو تو کوئی بیماری نہیں ہے، اس کے بعد پتھر ٹھہر گیا، حتی کہ انہیں اچھی طرح دیکھ لیا گیا، موسیٰ علیہ السلام نے اپنے کپڑے لے لیے اور پتھر کو مارنے لگے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، اللہ کی قسم! حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پتھر کے مارنے کی بنا پر، پتھر پر چھ یا سات نشان پڑ گئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6146]
ترقیم فوادعبدالباقی: 339
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 339 ترقیم شاملہ: -- 6147
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " كَانَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام رَجُلًا حَيِيًّا، قَالَ: فَكَانَ لَا يُرَى مُتَجَرِّدًا، قَالَ: فَقَالَ بَنُو إِسْرَائِيلَ: إِنَّهُ آدَرُ، قَالَ: فَاغْتَسَلَ عِنْدَ مُوَيْهٍ، فَوَضَعَ ثَوْبهُ عَلَى حَجَرٍ، فَانْطَلَقَ الْحَجَرُ يَسْعَى، وَاتَّبَعَهُ بِعَصَاهُ يَضْرِبُهُ، ثَوْبِي حَجَرُ، ثَوْبِي حَجَرُ، حَتَّى وَقَفَ عَلَى مَلَإٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، وَنَزَلَت: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَى فَبَرَّأَهُ اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَكَانَ عِنْدَ اللَّهِ وَجِيهًا سورة الأحزاب آية 69 ".
عبداللہ بن شفیق نے کہا: ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہا: حضرت موسیٰ علیہ السلام باحیا مرد تھے، کہا: انہیں برہنہ نہیں دیکھا جا سکتا تھا۔ کہا تو بنی اسرائیل نے کہا: انہیں خصیوں کی سوجن ہے۔ کہا: (ایک دن) انہوں نے تھوڑے سے پانی (کے ایک تالاب) کے پاس غسل کیا اور اپنے کپڑے پتھر پر رکھ دیے تو وہ پتھر بھاگ نکلا۔ آپ علیہ السلام اپنا عصا لے کر اس کے پیچھے ہو لیے اسے مارتے تھے (اور کہتے تھے:) میرے کپڑے پتھر! میرے کپڑے پتھر! یہاں تک کہ وہ بنی اسرائیل کے ایک مجمع کے سامنے رک گیا۔ اور (اس کے حوالے سے آیت) اتری: «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَى فَبَرَّأَهُ اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَكَانَ عِنْدَ اللَّهِ وَجِيهًا» اے ایمان والو! ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے موسیٰ علیہ السلام کو ایذا دی اور اللہ نے موسیٰ علیہ السلام کو ان کی کہی ہوئی بات سے بری کیا اور وہ اللہ کے نزدیک انتہائی وجیہ (خوبصورت اور وجاہت والے) تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6147]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتےہیں، حضرت موسیٰ علیہ السلام بہت با حیاء مرد تھے اور کبھی ننگے دکھائی نہیں دیتے تھے تو بنو اسرائیل کہنے لگے ان کے خصیتین سوجھے ہوئے ہیں، انہوں نے ایک تھوڑے پانی کے ساتھ غسل کیا اور اپنے کپڑے ایک پتھر پر رکھ دیئے، پتھر بھاگ کھڑا ہوا، موسیٰ علیہ السلام اپنا ڈنڈا لے کر مارنے کے لیے پیچھے بھاگے، میرے کپڑے، اے پتھر، میرے کپڑے اے پتھر، حتی کہ وہ بنو اسرائیل کی ایک جماعت کے پاس جا کر رک گیا۔اس واقعہ کی طرف اشارہ کرنے کےلیے یہ آیت اتری، اے ایماندارو! ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا، جنہوں نے موسیٰ علیہ السلام کواذیت دی، سو اللہ نے ان کوان کی باتوں سے بری کر دیا اور وہ اللہ کے ہاں بہت عزت والے تھے [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6147]
ترقیم فوادعبدالباقی: 339
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں