صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
12. باب حكم ضفائر المغتسلة:
باب: غسل کرنے والی عورتوں کی مینڈھیوں کا حکم۔
ترقیم عبدالباقی: 330 ترقیم شاملہ: -- 744
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ إِسْحَاق، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: قُلْتُ: " يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي امْرَأَةٌ أَشُدُّ ضَفْرَ رَأْسِي، فَأَنْقُضُهُ لِغُسْلِ الْجَنَابَةِ؟ قَالَ: لَا، إِنَّمَا يَكْفِيكِ أَنْ تَحْثِي عَلَى رَأْسِكِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ، ثُمَّ تُفِيضِينَ عَلَيْكِ الْمَاءَ فَتَطْهُرِينَ "،
سفیان بن عیینہ نے ایوب بن موسیٰ سے، انہوں نے سعید بن ابی سعید مقبیری سے، انہوں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے مولیٰ عبداللہ بن ابی رافع سے اور انہوں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں ایک ایسی عورت ہوں کہ کس کر سر کے بالوں کی چوٹی بناتی ہوں تو کیا غسل جنابت کے لیے اس کو کھولوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، تمہیں بس اتنا ہی کافی ہے کہ اپنے سر پر تین چلو پانی ڈالو، پھر اپنے آپ پر پانی بہا لو تم پاک ہو جاؤ گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 744]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں عورت ہونے کے ناطے سے سر کے بال گوندتی ہوں تو کیا غسل جنابت کے لیے ان کو کھولوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، تیرے لیے بس اتنا کافی ہے کہ اپنے سر پر تین چلو بھر کر پانی ڈالو، پھر اپنے جسم پر پانی بہا لو تو تم پاک ہو جاؤ گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 744]
ترقیم فوادعبدالباقی: 330
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 330 ترقیم شاملہ: -- 745
وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَا: أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ: فَأَنْقُضُهُ لِلْحَيْضَةِ وَالْجَنَابَةِ، فَقَالَ: لَا، ثُمَّ ذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ،
یزید بن ہارون اور عبدالرزاق نے کہا: ہمیں اسی سند کے ساتھ سفیان ثوری نے ایوب بن موسیٰ کے حوالے سے خبر دی۔ اور عبدالرزاق کی حدیث میں ہے: کیا میں حیض اور جنابت (کے غسل) کے لیے اس کو کھولوں؟ تو آپ نے فرمایا: ”نہیں۔“ آگے ابن عیینہ کی حدیث کے ہم معنی (روایت) بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 745]
امام صاحب رحمہ اللہ ایک دوسری سند سے روایت کرتے ہیں اور عبدالرزاق رحمہ اللہ کی حدیث میں ہے، کیا میں حیض و جنابت کے لیے بالوں کو کھولوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ آگے مذکورہ بالا روایت ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 745]
ترقیم فوادعبدالباقی: 330
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 330 ترقیم شاملہ: -- 746
وحَدَّثَنِيهِ أَحْمَدُ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَقَالَ: أَفَأَحُلُّهُ، فَأَغْسِلُهُ مِنَ الْجَنَابَةِ، وَلَمْ يَذْكُرِ: الْحَيْضَةَ.
ایوب بن موسیٰ سے (سفیان ثوری کے بجائے) روح بن قاسم نے اسی (سابقہ سند) کے ساتھ روایت کی کہ انہوں (ام سلمہ رضی اللہ عنہا) نے کہا: کیا میں چوٹی کو کھول کر غسل جنابت کروں؟ ... انہوں (روح بن قاسم) نے حیض کا تذکرہ نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 746]
امام صاحب رحمہ اللہ ایک دوسری سند سے روایت کرتے ہیں کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا، کیا میں انہیں کھول کر غسل جنابت کروں؟ حیض کا تذکرہ نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 746]
ترقیم فوادعبدالباقی: 330
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة