سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
50. باب صفة وضوء النبي صلى الله عليه وسلم
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا بیان۔
حدیث نمبر: 109
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عِيسَى، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ، أَنَّ عُثْمَانَ، دَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ، فَأَفْرَغَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى، ثُمَّ غَسَلَهُمَا إِلَى الْكُوعَيْنِ، قَالَ: ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، وَذَكَرَ الْوُضُوءَ ثَلَاثًا، قَالَ: وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ، وَقَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ مِثْلَ مَا رَأَيْتُمُونِي تَوَضَّأْتُ. ثُمَّ سَاقَ نَحْوَ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ وَأَتَمّ.
ابوعلقمہ کہتے ہیں کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے پانی منگوایا اور وضو کیا، پہلے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالا پھر دونوں ہاتھوں کو پہونچوں تک دھویا، پھر تین بار کلی کی، اور تین بار ناک میں پانی ڈالا، اور اسی طرح وضو کے اندر بقیہ تمام اعضاء ء کو تین بار دھونے کا ذکر کیا، پھر کہا: اور آپ (عثمان رضی اللہ عنہ) نے اپنے سر کا مسح کیا پھر اپنے دونوں پیر دھوئے اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے دیکھا ہے جیسے تم لوگوں نے مجھے وضو کرتے دیکھا، پھر زہری کی حدیث (نمبر ۱۰۶) کی طرح اپنی حدیث بیان کی اور ان کی حدیث سے کامل بیان کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 109]
جناب ابوعلقمہ سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے پانی منگوایا اور وضو کیا۔ (پہلے انہوں نے) اپنے دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالا اور اپنے دونوں ہاتھوں کو پہنچوں تک دھویا۔ علقمہ نے کہا: ”پھر کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا تین بار۔“ اور پورے وضو میں تین تین بار اعضاء کے دھونے کو بیان کیا اور کہا کہ پھر اپنے سر کا مسح کیا، بعد ازاں پاؤں دھوئے اور کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا، انہوں نے ایسے ہی وضو کیا تھا جیسے کہ تم نے مجھے وضو کرتے دیکھا ہے۔“ پھر زہری کی حدیث کی مانند بیان کیا بلکہ اس سے بھی کامل بیان کیا۔ (یعنی جس میں خشوع، خضوع سے نماز پڑھنے اور اس پر اجر کا ذکر آیا ہے۔ سابقہ حدیث 106)۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 109]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 9847) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
عبيد الله بن أبي زياد وثقه الجمهور
عبيد الله بن أبي زياد وثقه الجمهور
حدیث نمبر: 108
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ زِيَادٍ الْمُؤَذِّنُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيِّ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنِ الْوُضُوءِ، فَقَالَ: رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ سُئِلَ عَنِ الْوُضُوءِ،" فَدَعَا بِمَاءٍ، فَأُتِيَ بِمِيضَأَةٍ فَأَصْغَى عَلَى يَدِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ أَدْخَلَهَا فِي الْمَاءِ، فَتَمَضْمَضَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا وَغَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى ثَلَاثًا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَأَخَذَ مَاءً فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ فَغَسَلَ بُطُونَهُمَا وَظُهُورَهُمَا مَرَّةً وَاحِدَةً ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: أَيْنَ السَّائِلُونَ عَنِ الْوُضُوءِ؟ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَحَادِيثُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الصِّحَاحُ كُلُّهَا تَدُلُّ عَلَى مَسْحِ الرَّأْسِ أَنَّهُ مَرَّةٌ فَإِنَّهُمْ ذَكَرُوا الْوُضُوءَ ثَلَاثًا وَقَالُوا فِيهَا: وَمَسَحَ رَأْسَهُ، وَلَمْ يَذْكُرُوا عَدَدًا كَمَا ذَكَرُوا فِي غَيْرِهِ.
عثمان بن عبدالرحمٰن تیمی کہتے ہیں کہ ابن ابی ملیکہ سے وضو کے متعلق پوچھا گیا، تو انہوں نے کہا: میں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ سے وضو کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ نے پانی منگایا، پانی کا لوٹا لایا گیا، آپ نے اسے اپنے داہنے ہاتھ پر انڈیلا (اور اس سے اپنا ہاتھ دھویا) پھر ہاتھ کو پانی میں داخل کیا، تین بار کلی کی، تین بار ناک میں پانی ڈالا، تین بار منہ دھویا، پھر اپنا داہنا ہاتھ تین بار دھویا، تین بار اپنا بایاں ہاتھ دھویا، پھر پانی میں اپنا ہاتھ داخل کیا اور پانی لے کر اپنے سر کا اور اپنے دونوں کانوں کے اندر اور باہر کا ایک ایک بار مسح کیا، پھر اپنے دونوں پیر دھوئے پھر کہا: وضو سے متعلق سوال کرنے والے کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے دیکھا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے وضو کے باب میں جو صحیح حدیثیں مروی ہیں، وہ سب اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ سر کا مسح ایک ہی بار ہے کیونکہ ناقلین حدیث نے ہر عضو کو تین بار دھونے کا ذکر کیا ہے اور سر کے مسح کا ذکر مطلقاً کیا ہے اس کی کوئی تعداد ذکر نہیں کی جیسا کہ ان لوگوں نے اور چیزوں میں ذکر کی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 108]
عثمان بن عبدالرحمٰن تیمی کہتے ہیں کہ ابن ابی ملیکہ سے وضو کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا: ”میں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو دیکھا، ان سے وضو کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے پانی منگوایا، چنانچہ ایک برتن لایا گیا۔ انہوں نے اسے اپنے دائیں ہاتھ پر جھکایا، پھر اپنا دایاں ہاتھ پانی میں ڈالا اور تین بار کلی کی، تین بار ناک میں پانی ڈال کر جھاڑا، تین بار اپنا چہرہ دھویا، پھر اپنا دایاں ہاتھ دھویا تین بار اور بایاں ہاتھ تین بار، پھر اپنا ہاتھ (برتن میں) ڈالا اور پانی لیا اور سر اور دونوں کانوں کا مسح کیا، ان کے اندر اور باہر سے ایک بار، پھر اپنے پاؤں دھوئے اور فرمایا: کہاں ہیں وضو کے بارے میں سوال کرنے والے؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی وضو کرتے دیکھا تھا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی تمام صحیح روایات دلالت کرتی ہیں کہ انہوں نے سر کا مسح ایک ہی بار کیا تھا۔ سب راوی وضو کو تین تین بار ذکر کرتے ہیں مگر (مسح کے بارے میں اتنا ہی) کہتے کہ ”انہوں نے اپنے سر کا مسح کیا۔“ اور اس میں عدد کا ذکر نہیں کرتے جیسے کہ باقی اعضاء میں کرتے ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 108]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 9820) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سعيد بن زياد المؤذن: مجھول الحال،وثقه ابن حبان وحده
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 16
إسناده ضعيف
سعيد بن زياد المؤذن: مجھول الحال،وثقه ابن حبان وحده
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 16
حدیث نمبر: 110
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عَامِرِ بْنِ شَقِيقِ بْنِ جَمْرَةَ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ،" غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا وَمَسَحَ رَأْسَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ هَذَا"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، قَالَ: تَوَضَّأَ ثَلَاثًا فَقَطْ.
ابووائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو میں اپنے دونوں ہاتھ تین تین بار دھوئے اور تین بار سر کا مسح کیا پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: وکیع (وکیع بن جراح) نے اسے اسرائیل سے روایت کیا ہے اس میں صرف «توضأ ثلاثا» ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 110]
شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو دیکھا، انہوں نے اپنی کلائیاں تین تین بار دھوئیں اور اپنے سر کا مسح (بھی) تین بار کیا۔ پھر فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ہی کیا تھا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”اس روایت کو وکیع نے اسرائیل سے روایت کیا، تو اس میں صرف اتنا کہا کہ وضو کیا تین تین بار۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 110]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 9810) (منکر)» (کیونکہ اس کا راوی ”عامر“ ضعیف ہے، نیز اس نے ”سر کے تین بار مسح“ کے الفاظ میں ثقہ راویوں کی مخالفت کی ہے)
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن