🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. باب في صلاة الليل
باب: تہجد کی رکعتوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1367
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مَخْرمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ موْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهِيَ خَالَتُهُ، قَالَ: فَاضْطَجَعْتُ فِي عَرْضِ الْوِسَادَةِ" وَاضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلُهُ فِي طُولِهَا، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا انْتَصَفَ اللَّيْلُ أَوْ قَبْلَهُ بِقَلِيلٍ أَوْ بَعْدَهُ بِقَلِيلٍ اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَلَسَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْهِهِ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَرَأَ الْعَشْرَ الْآيَاتِ الْخَوَاتِمِ مِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى شَنٍّ مُعَلَّقَةٍ، فَتَوَضَّأَ مِنْهَا، فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَقُمْتُ، فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ، ثُمَّ ذَهَبْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى رَأْسِي فَأَخَذَ بِأُذُنِي يَفْتِلُهَا فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، قَالَ الْقَعْنَبِيُّ: سِتَّ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَوْتَرَ، ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى جَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ، فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الصُّبْحَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی کہ انہوں نے ایک رات ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گزاری، وہ آپ کی خالہ تھیں، وہ کہتے ہیں: میں تکیے کے عرض میں لیٹا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اہلیہ اس کے طول میں لیٹیں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے، جب آدھی رات یا کچھ کم و بیش گزری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے اور بیٹھ کر اپنے منہ پر ہاتھ مل کر نیند دور کی، پھر سورۃ آل عمران کے آخر کی دس آیتیں پڑھیں، اس کے بعد اٹھے اور لٹکے ہوئے مشکیزے کے پاس گئے اور وضو کیا اور اچھی طرح سے کیا، پھر نماز پڑھنے لگے، میں بھی اٹھا اور میں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی طرح سارا کام کیا، پھر آپ کے پہلو میں جا کر کھڑا ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرا کان پکڑ کر ملنے لگے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں اور پھر دو رکعتیں، قعنبی کی روایت میں یوں ہے: دو دو رکعتیں چھ مرتبہ پڑھیں، پھر وتر پڑھی، پھر لیٹ گئے یہاں تک کہ مؤذن آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور ہلکی سی دو رکعتیں پڑھیں پھر نکلے اور فجر پڑھائی۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1367]
کریب مولیٰ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کو بتایا کہ میں نے ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں رات گزاری اور وہ ان کی خالہ تھیں۔ فرماتے ہیں: میں تکیے کے عرض میں لیٹ گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اہلیہ اس کے طول میں لیٹ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے، حتیٰ کہ جب آدھی رات ہوئی یا اس سے کچھ پہلے کا وقت ہو گا یا بعد کا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جاگ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر بیٹھ گئے اور اپنے ہاتھ سے اپنا چہرہ ملا، گویا نیند دور کرتے ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ ﴿آل عمران﴾ کی آخری دس آیتیں پڑھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مشکیزے کی طرف گئے جو لٹک رہا تھا، اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، پھر نماز پڑھنے کھڑے ہو گئے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: پھر میں بھی اٹھ کھڑا ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے (بائیں) پہلو میں جا کھڑا ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ میرے سر پر رکھا، میرا کان پکڑا اور اسے کچھ مروڑا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں۔ قعنبی رحمہ اللہ نے کہا کہ چھ بار (دو دو رکعتیں پڑھیں۔) پھر (ایک) وتر پڑھا۔ اس کے بعد لیٹ گئے، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مؤذن آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھ کر ہلکی سی دو رکعتیں پڑھیں، پھر تشریف لے گئے اور فجر کی نماز پڑھی۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1367]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم (1364)، (تحفة الأشراف: 6362) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (992) صحيح مسلم (763)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 55
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَحُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ، يَشُوصُ فَاهُ بِالسِّوَاكِ".
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو اٹھتے تو اپنا منہ مسواک سے صاف کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 55]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو اٹھتے تو مسواک سے اپنا منہ صاف کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 55]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الوضوء 73 (245)، الجمعة 8 (889)، التھجد 9 (1136)، صحیح مسلم/الطھارة 15 (255)، سنن النسائی/الطھارة 2 (2)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 7 (286)، (تحفة الأشراف: 3336)، مسند احمد (5/382، 390، 397)، سنن الدارمی/الطھارة 20 (712) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (245، 889) صحيح مسلم (255)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 58
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ،عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" بِتُّ لَيْلَةً عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ مِنْ مَنَامِهِ، أَتَى طَهُورَهُ، فَأَخَذَ سِوَاكَهُ فَاسْتَاكَ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَاتِ: إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لآيَاتٍ لأُولِي الأَلْبَابِ سورة آل عمران آية 190 حَتَّى قَارَبَ أَنْ يَخْتِمَ السُّورَةَ أَوْ خَتَمَهَا، ثُمَّ تَوَضَّأَ فَأَتَى مُصَلَّاهُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى فِرَاشِهِ فَنَامَ مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَفَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى فِرَاشِهِ فَنَامَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَفَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى فِرَاشِهِ فَنَامَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَفَعَلَ مِثْل ذَلِكَ، كُلُّ ذَلِكَ يَسْتَاكُ وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَوْتَرَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، قَالَ: فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ وَهُوَ يَقُولُ: إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ سورة آل عمران آية 190 حَتَّى خَتَمَ السُّورَةَ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گزاری، جب آپ نیند سے بیدار ہوئے تو اپنے وضو کے پانی کے پاس آئے، اپنی مسواک لے کر مسواک کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ «إن في خلق السموات والأرض واختلاف الليل والنهار لآيات لأولي الألباب» ۱؎ کی تلاوت کی یہاں تک کہ سورۃ ختم کے قریب ہو گئی، یا ختم ہو گئی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا پھر اپنے مصلی پر آئے اور دو رکعت نماز پڑھی، پھر واپس اپنے بستر پر جب تک اللہ نے چاہا جا کر سوئے رہے، پھر نیند سے بیدار ہوئے اور اسی طرح کیا (یعنی مسواک کر کے وضو کیا اور دو رکعت نماز پڑھی) پھر اپنے بستر پر جا کر سوئے رہے، پھر نیند سے بیدار ہوئے، اور اسی طرح کیا، پھر اپنے بستر پر جا کر سوئے رہے اس کے بعد نیند سے بیدار ہوئے اور اسی طرح کیا، ہر بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کرتے، دو رکعت نماز پڑھتے تھے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر پڑھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن فضیل نے حصین سے روایت کی ہے، اس میں اس طرح ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسواک کی اور وضو کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم آیت کریمہ «إن في خلق السموات والأرض» پڑھ رہے تھے، یہاں تک کہ پوری سورۃ ختم کر دی۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 58]
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے ایک بار نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں (ان کے گھر میں) رات گزاری، تو جب آپ بیدار ہوئے تو اس جگہ آئے جہاں پانی رکھا ہوا تھا، آپ نے مسواک لی اور مسواک کرنے لگے۔ اس کے بعد آپ نے یہ آیات تلاوت فرمائیں (سورہ آل عمران کی آخری آیات) ﴿إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ﴾ [سورة آل عمران: 190] حتیٰ کہ اختتام سورت کے قریب پہنچے بلکہ سورت ختم ہی کر دی۔ پھر آپ نے وضو کیا اور اپنی جائے نماز پر آ گئے اور دو رکعتیں پڑھیں، پھر آپ اپنے بستر پر لوٹ آئے اور سو گئے، اور جتنا اللہ نے چاہا سوئے رہے، پھر (دوبارہ) جاگے اور پہلے کی مانند کیا اور پھر اپنے بستر پر لوٹ آئے اور جتنا اللہ نے چاہا سوئے رہے۔ پھر (سہ بارہ) جاگے اور پہلے کی مانند کیا۔ ہر بار مسواک کرتے اور دو رکعت پڑھتے، پھر آپ نے وتر پڑھے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس حدیث کو ابن فضیل نے حصین کے واسطے سے روایت کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: آپ نے مسواک کی اور وضو کیا اور اس اثناء میں آپ آیات کریمہ ﴿إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ﴾ [سورة آل عمران: 190] پڑھ رہے تھے حتیٰ کہ سورت ختم کر دی۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 58]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/العلم 41 (117)، الأذان 57 (697)، 59 (699)، 79 (728)، اللباس 71 (5919)، صحیح مسلم/المسافرین 26 (763)، سنن النسائی/الإمامة 21 (803)، 22 (805)، الغسل 29 (441)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 44 (973)، (تحفة الأشراف: 6287)، وراجع حدیث رقم: (1353، 1357)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/215، 252، 285، 287، 341، 347، 354، 357، 360، 365)، سنن الدارمی/الطہارة 3 (684) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے ہیر پھیر میں یقیناً عقل مندوں کے لئے نشانیاں ہیں (سورۃ آل عمران: ۱۹۰)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (763)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 610
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" بِتُّ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ فَأَطْلَقَ الْقِرْبَةَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ أَوْكَأَ الْقِرْبَةَ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ، فَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ كَمَا تَوَضَّأَ ثُمَّ جِئْتُ، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَنِي بِيَمِينِهِ فَأَدَارَنِي مِنْ وَرَائِهِ فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رات بسر کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اٹھے، مشک کا منہ کھول کر وضو کیا پھر اس میں ڈاٹ لگا دی، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے، پھر میں بھی اٹھا اور اسی طرح وضو کیا جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا تھا، پھر میں آ کر آپ کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا، تو آپ نے اپنے داہنے ہاتھ سے مجھے پکڑا، اور اپنے پیچھے سے لا کر اپنی داہنی طرف کھڑا کر لیا، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 610]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے (ایک بار) اپنی خالہ ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں رات گزاری۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اٹھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکیزہ کھولا اور اس سے وضو کیا، پھر اس کا منہ بند کر دیا، پھر آپ نماز پڑھنے کھڑے ہو گئے۔ تب میں بھی اٹھا اور اسی طرح وضو کیا جیسے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا اور آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بائیں جانب کھڑا ہو گیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے میرے دائیں ہاتھ سے پکڑ کر اپنے پیچھے سے گھمایا اور اپنی دائیں جانب کھڑا کیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر نماز (تہجد) پڑھی۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 610]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المسافرین 26 (763)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 44 (973)، (تحفة الأشراف: 5908)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العلم 41 (117)، والأذان 57 (697)، 59 (699)، 79 (728)، واللباس 71 (5919)، سنن النسائی/الغسل 29 (443)، الإمامة 22 (807)، وقیام اللیل 9 (1621)، مسند احمد (1/215، 252، 258، 287، 341، 347، 354، 357، 360، 365)، سنن الدارمی/الصلاة 43 (1290) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: اس میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی فضیلت کا اثبات ہے کہ انہیں اوائل عمر ہی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معمولات کے مشاہدہ کا شوق تھا۔ ایک شخص جو اپنی نماز پڑھ رہا ہو، اس کو امام بنانا جائز ہے خواہ اس نے امام بننے کی نیت نہ کی ہو۔ بعض اوقات تہجد یا نفل نماز کی جماعت کرائی جا سکتی ہے۔ دو آدمیوں کی جماعت بھی درست ہے اور اس صورت میں وہ دونوں ایک صف میں برابر کھڑے ہوں گے۔ اثنائے نماز میں کوئی ضروری اصلاح ممکن ہو تو کر دینے اور قبول کر لینے میں کوئی حرج نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (763)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1353
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ. ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ رَقَدَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَآهُ" اسْتَيْقَظَ فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ، وَهُوَ يَقُولُ: إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ سورة البقرة آية 164 حَتَّى خَتَمَ السُّورَةَ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ أَطَالَ فِيهِمَا الْقِيَامَ وَالرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ، ثُمَّ فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ بِسِتِّ رَكَعَاتٍ، كُلُّ ذَلِكَ يَسْتَاكُ، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ وَيَقْرَأُ هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ، ثُمَّ أَوْتَرَ". قَالَ عُثْمَانُ:" بِثَلَاثِ رَكَعَاتٍ فَأَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ فَخَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ"، وَقَالَ ابْنُ عِيسَى:" ثُمَّ أَوْتَرَ فَأَتَاهُ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ فَصَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ، ثُمَّ اتَّفَقَا، وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي لِسَانِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي سَمْعِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي بَصَرِي نُورًا، وَاجْعَلْ خَلْفِي نُورًا، وَأَمَامِي نُورًا، وَاجْعَلْ مِنْ فَوْقِي نُورًا، وَمِنْ تَحْتِي نُورًا، اللَّهُمَّ وَأَعْظِمْ لِي نُورًا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سوئے تو دیکھا کہ آپ بیدار ہوئے، تو مسواک اور وضو کیا اور آیت کریمہ «إن في خلق السموات والأرض» ۱؎ اخیر سورۃ تک پڑھی، پھر کھڑے ہوئے اور دو رکعتیں پڑھیں، ان میں قیام، رکوع اور سجدہ لمبا کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے اور سو گئے یہاں تک کہ خراٹے لینے لگے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھ رکعتوں میں تین بار ایسا ہی کیا، ہر بار مسواک کرتے اور وضو کرتے اور انہیں آیتوں کو پڑھتے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر پڑھی۔ عثمان کی روایت میں ہے کہ وتر کی تین رکعتیں پڑھیں۔ پھر مؤذن آیا تو آپ نماز کے لیے نکلے۔ ابن عیسیٰ کی روایت میں ہے: پھر آپ نے وتر پڑھی، پھر آپ کے پاس بلال رضی اللہ عنہ آئے اور جس وقت فجر طلوع ہوئی آپ کو نماز کی خبر دی تو آپ نے فجر کی دو رکعتیں (سنتیں) پڑھیں۔ اس کے بعد نماز کے لیے نکلے۔ آگے دونوں کی روایتیں ایک جیسی ہیں۔ آپ (اس وقت) فرما رہے تھے: «اللهم اجعل في قلبي نورا، واجعل في لساني نورا، واجعل في سمعي نورا، واجعل في بصري نورا، واجعل خلفي نورا، وأمامي نورا، واجعل من فوقي نورا، ومن تحتي نورا، اللهم وأعظم لي نورا» اے اللہ! تو نور پیدا فرما میرے دل میں، میری زبان میں، میرے کان میں، میری نگاہ میں، میرے پیچھے، میرے آگے، میرے اوپر اور میرے نیچے۔ اور اے اللہ! میرے لیے نور کو بڑا بنا دے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1353]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ (ایک بار) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں سوئے تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جاگے، مسواک کی اور وضو کیا۔ اس دوران میں آپ ﴿إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ﴾ [سورة آل عمران: 190] سے لے کر آخر سورت تک تلاوت فرما رہے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں، ان کا قیام، رکوع اور سجود بہت لمبا کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پلٹے اور سو گئے، حتیٰ کہ خراٹے لینے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح تین بار کیا۔ چھ رکعتیں پڑھیں۔ ہر بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر مسواک کرتے، وضو کرتے اور مذکورہ آیات کی تلاوت کرتے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر پڑھے۔ عثمان کا بیان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین رکعتیں پڑھیں۔ پھر مؤذن آ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے تشریف لے گئے۔ محمد بن عیسٰی نے بیان کیا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر پڑھے، پھر بلال رضی اللہ عنہ آ گئے، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کا وقت ہو جانے کی اطلاع دی جب کہ فجر طلوع ہوئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی سنتیں پڑھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے تشریف لے گئے۔ اس کے بعد دونوں راویوں (ابن عیسٰی اور عثمان) کا متفقہ بیان ہے کہ نماز کے لیے جاتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھ رہے تھے: «اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي لِسَانِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي سَمْعِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي بَصَرِي نُورًا، وَاجْعَلْ خَلْفِي نُورًا، وَأَمَامِي نُورًا، وَاجْعَلْ مِنْ فَوْقِي نُورًا، وَمِنْ تَحْتِي نُورًا، اللَّهُمَّ وَأَعْظِمْ لِي نُورًا» اے اللہ! میرے دل میں نور بھر دے، میری زبان میں نور کر دے، میرے کانوں میں نور کر دے، میری آنکھوں میں نور کر دے، میرے پیچھے نور کر دے، میرے آگے نور کر دے، میرے اوپر نور کر دے، میرے نیچے نور کر دے۔ اے اللہ! میرے لیے نور کو بہت عظیم کر دے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1353]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: 58، (تحفة الأشراف: 6287) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: وضاحت: سورة آل عمران: (۱۹۰)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (58) ورواه مسلم (763)
َدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَي

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1357
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بِتُّ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ" فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ، ثُمَّ جَاءَ فَصَلَّى أَرْبَعًا، ثُمَّ نَامَ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَدَارَنِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَصَلَّى خَمْسًا، ثُمَّ نَامَ حَتَّى سَمِعْتُ غَطِيطَهُ أَوْ خَطِيطَهُ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الْغَدَاةَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ ام المؤمنین میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہ کے گھر رات گزاری تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء پڑھی پھر (گھر) تشریف لائے تو چار رکعتیں پڑھیں، پھر سو گئے پھر اٹھ کر نماز پڑھنے لگے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا آپ نے مجھے گھما کر اپنے دائیں جانب کھڑا کر لیا، پھر پانچ رکعتیں پڑھیں اور سو گئے یہاں تک کہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خراٹوں کی آواز سنائی دینے لگی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور دو رکعتیں پڑھیں پھر نکلے اور جا کر فجر پڑھی۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1357]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ میں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے ہاں رات گزاری۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز پڑھی، پھر گھر تشریف لائے اور چار رکعتیں پڑھیں، پھر سو رہے، پھر جاگے اور نماز پڑھنے لگے۔ میں بھی اٹھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں جانب کھڑا ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو اپنی دائیں جانب پھیر لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ رکعتیں پڑھیں، پھر سو گئے حتیٰ کہ میں نے آپ کے خراٹے سنے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور دو رکعتیں پڑھیں، پھر نماز فجر کے لیے تشریف لے گئے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1357]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 5496) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (117)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1364
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ،أَنَّ كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ: كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ؟ قَالَ: بِتُّ عِنْدَهُ لَيْلَةً وَهُوَ عِنْدَ مَيْمُونَةَ،" فَنَامَ حَتَّى إِذَا ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ أَوْ نِصْفُهُ اسْتَيْقَظَ، فَقَامَ إِلَى شَنٍّ فِيهِ مَاءٌ، فَتَوَضَّأَ وَتَوَضَّأْتُ مَعَهُ، ثُمَّ قَامَ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ عَلَى يَسَارِهِ فَجَعَلَنِي عَلَى يَمِينِهِ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِي كَأَنَّهُ يَمَسُّ أُذُنِي كَأَنَّهُ يُوقِظُنِي، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، قُلْتُ فَقَرَأَ فِيهِمَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى حَتَّى صَلَّى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً بِالْوِتْرِ، ثُمَّ نَامَ، فَأَتَاهُ بِلَالٌ، فَقَالَ: الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى لِلنَّاسِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز (تہجد) کیسے ہوتی تھی؟ تو انہوں نے کہا: ایک رات میں آپ کے پاس رہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین میمونہ کے پاس تھے، آپ سو گئے، جب ایک تہائی یا آدھی رات گزر گئی تو بیدار ہوئے اور اٹھ کر مشکیزے کے پاس گئے، جس میں پانی رکھا تھا، وضو فرمایا، میں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وضو کیا، پھر آپ کھڑے ہوئے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں پہلو میں کھڑا ہو گیا تو آپ نے مجھے اپنے دائیں جانب کر لیا، پھر اپنا ہاتھ میرے سر پر رکھا جیسے آپ میرے کان مل رہے ہوں گویا مجھے بیدار کرنا چاہتے ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہلکی سی دو رکعتیں پڑھیں ان میں سے ہر رکعت میں آپ نے سورۃ فاتحہ پڑھی، پھر سلام پھیر دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی یہاں تک کہ مع وتر گیارہ رکعتیں ادا کیں، پھر سو گئے، اس کے بعد بلال رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! نماز، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور دو رکعتیں پڑھیں پھر آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1364]
کریب مولیٰ ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو کیسے نماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: میں نے ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں گزاری جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے، جب تہائی رات گزر گئی یا آدھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے، مشکیزے کی طرف گئے، اس میں پانی تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، تب میں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وضو کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے، میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں پہلو میں کھڑا ہو گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دائیں طرف کر لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے سر پر رکھا گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے کان کو چھو رہے ہوں، مجھے جگا رہے ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں ہلکی ہلکی، میں سمجھتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر رکعت میں سورہ فاتحہ پڑھی، پھر سلام پھیرا۔ حتیٰ کہ گیارہ رکعتیں پڑھیں وتر سمیت، پھر سو گئے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آئے اور کہا: نماز، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، دو رکعتیں پڑھیں۔ پھر لوگوں کو نماز پڑھائی۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1364]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الطہارة 37 (183)، الأذان 58 (698)، الوتر 1 (992)، التفسیر 18 (4570)، 19 (4571)، 20 (4572)، صحیح مسلم/المسافرین 26 (763)، سنن الترمذی/الشمائل (265)، سنن النسائی/قیام اللیل 9 (1621)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 181 (1363)، (تحفة الأشراف: 6362)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صلاة اللیل 2 (11)، مسند احمد 1 (222، 358) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (992) صحيح مسلم (763)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں