🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
55. باب في الاستنثار
باب: ناک میں پانی ڈال کر جھاڑنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 141
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ قَارِظٍ، عَنْ أَبِي غَطَفَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اسْتَنْثِرُوا مَرَّتَيْنِ بَالِغَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ناک میں پانی ڈال کر اسے دو یا تین بار اچھی طرح سے جھاڑو۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 141]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ناک جھاڑو (اور صاف کرو) دو بار یا تین بار، خوب اچھی طرح۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 141]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الطھارة 44 (408)، (تحفة الأشراف: 6567)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/228) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 108
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ زِيَادٍ الْمُؤَذِّنُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيِّ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنِ الْوُضُوءِ، فَقَالَ: رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ سُئِلَ عَنِ الْوُضُوءِ،" فَدَعَا بِمَاءٍ، فَأُتِيَ بِمِيضَأَةٍ فَأَصْغَى عَلَى يَدِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ أَدْخَلَهَا فِي الْمَاءِ، فَتَمَضْمَضَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا وَغَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى ثَلَاثًا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَأَخَذَ مَاءً فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ فَغَسَلَ بُطُونَهُمَا وَظُهُورَهُمَا مَرَّةً وَاحِدَةً ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: أَيْنَ السَّائِلُونَ عَنِ الْوُضُوءِ؟ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَحَادِيثُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الصِّحَاحُ كُلُّهَا تَدُلُّ عَلَى مَسْحِ الرَّأْسِ أَنَّهُ مَرَّةٌ فَإِنَّهُمْ ذَكَرُوا الْوُضُوءَ ثَلَاثًا وَقَالُوا فِيهَا: وَمَسَحَ رَأْسَهُ، وَلَمْ يَذْكُرُوا عَدَدًا كَمَا ذَكَرُوا فِي غَيْرِهِ.
عثمان بن عبدالرحمٰن تیمی کہتے ہیں کہ ابن ابی ملیکہ سے وضو کے متعلق پوچھا گیا، تو انہوں نے کہا: میں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ سے وضو کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ نے پانی منگایا، پانی کا لوٹا لایا گیا، آپ نے اسے اپنے داہنے ہاتھ پر انڈیلا (اور اس سے اپنا ہاتھ دھویا) پھر ہاتھ کو پانی میں داخل کیا، تین بار کلی کی، تین بار ناک میں پانی ڈالا، تین بار منہ دھویا، پھر اپنا داہنا ہاتھ تین بار دھویا، تین بار اپنا بایاں ہاتھ دھویا، پھر پانی میں اپنا ہاتھ داخل کیا اور پانی لے کر اپنے سر کا اور اپنے دونوں کانوں کے اندر اور باہر کا ایک ایک بار مسح کیا، پھر اپنے دونوں پیر دھوئے پھر کہا: وضو سے متعلق سوال کرنے والے کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے دیکھا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے وضو کے باب میں جو صحیح حدیثیں مروی ہیں، وہ سب اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ سر کا مسح ایک ہی بار ہے کیونکہ ناقلین حدیث نے ہر عضو کو تین بار دھونے کا ذکر کیا ہے اور سر کے مسح کا ذکر مطلقاً کیا ہے اس کی کوئی تعداد ذکر نہیں کی جیسا کہ ان لوگوں نے اور چیزوں میں ذکر کی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 108]
عثمان بن عبدالرحمٰن تیمی کہتے ہیں کہ ابن ابی ملیکہ سے وضو کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا: میں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو دیکھا، ان سے وضو کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے پانی منگوایا، چنانچہ ایک برتن لایا گیا۔ انہوں نے اسے اپنے دائیں ہاتھ پر جھکایا، پھر اپنا دایاں ہاتھ پانی میں ڈالا اور تین بار کلی کی، تین بار ناک میں پانی ڈال کر جھاڑا، تین بار اپنا چہرہ دھویا، پھر اپنا دایاں ہاتھ دھویا تین بار اور بایاں ہاتھ تین بار، پھر اپنا ہاتھ (برتن میں) ڈالا اور پانی لیا اور سر اور دونوں کانوں کا مسح کیا، ان کے اندر اور باہر سے ایک بار، پھر اپنے پاؤں دھوئے اور فرمایا: کہاں ہیں وضو کے بارے میں سوال کرنے والے؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی وضو کرتے دیکھا تھا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی تمام صحیح روایات دلالت کرتی ہیں کہ انہوں نے سر کا مسح ایک ہی بار کیا تھا۔ سب راوی وضو کو تین تین بار ذکر کرتے ہیں مگر (مسح کے بارے میں اتنا ہی) کہتے کہ انہوں نے اپنے سر کا مسح کیا۔ اور اس میں عدد کا ذکر نہیں کرتے جیسے کہ باقی اعضاء میں کرتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 108]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 9820) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سعيد بن زياد المؤذن: مجھول الحال،وثقه ابن حبان وحده
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 16

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 111
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، قَالَ: أَتَانَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَقَدْ صَلَّى، فَدَعَا بِطَهُورٍ، فَقُلْنَا: مَا يَصْنَعُ بِالطَّهُورِ، وَقَدْ صَلَّى؟ مَا يُرِيدُ إِلَّا لِيُعَلِّمَنَا، فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ وَطَسْتٍ فَأَفْرَغَ مِنَ الْإِنَاءِ عَلَى يَمِينِهِ فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا، فَمَضْمَضَ وَنَثَرَ مِنَ الْكَفِّ الَّذِي يَأْخُذُ فِيهِ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا وَغَسَلَ يَدَهُ الشِّمَالَ ثَلَاثًا، ثُمَّ جَعَلَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّةً وَاحِدَةً، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا وَرِجْلَهُ الشِّمَالَ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ:" مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَعْلَمَ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ هَذَا".
عبد خیر کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے آپ نماز پڑھ چکے تھے، پانی منگوایا، ہم لوگوں نے (آپس میں) کہا آپ پانی منگوا کر کیا کریں گے، آپ تو نماز پڑھ چکے ہیں؟ شاید (پانی منگوا کر) آپ ہمیں وضو کا طریقہ ہی سکھانا چاہتے ہوں گے، خیر ایک برتن جس میں پانی تھا اور ایک طشت لایا گیا، آپ نے برتن سے اپنے داہنے ہاتھ پر پانی ڈالا اور دونوں ہاتھوں کو (کلائی تک) تین بار دھویا پھر کلی کی اور تین بار ناک جھاڑی، آپ کلی کرتے پھر اسی چلو سے آدھا پانی ناک میں ڈال کر اسے جھاڑتے، پھر آپ نے اپنا چہرہ تین بار دھویا پھر دایاں اور بایاں ہاتھ تین تین بار دھویا، پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا اور (پانی نکال کر) اپنے سر کا ایک بار مسح کیا، اس کے بعد اپنا دایاں پیر پھر بایاں پیر تین تین بار دھویا پھر فرمایا: جو شخص اس بات سے خوش ہو کہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا طریقہ معلوم ہو جائے تو (جان لے کہ) وہ یہی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 111]
عبد خیر کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہمارے ہاں تشریف لائے اور وہ نماز پڑھ چکے تھے، انہوں نے وضو کے لیے پانی منگوایا تو ہم نے کہا کہ وہ پانی کا کیا کریں گے، حالانکہ نماز پڑھ چکے ہیں، یہ شاید ہمیں سکھانا چاہتے ہیں۔ چنانچہ ایک برتن میں پانی لایا گیا اور ساتھ ایک تسلا (کھلا برتن) بھی تھا۔ انہوں نے برتن سے اپنے دائیں ہاتھ پر پانی ڈالا اور ہاتھوں کو تین بار دھویا، پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈال کر جھاڑا تین بار، آپ نے اسی چلو سے کلی کی اور ناک جھاڑی، جس میں کہ پانی لیا تھا، پھر اپنا چہرہ دھویا تین بار اور دایاں بازو تین بار، پھر بایاں بازو تین بار، پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا اور اپنے سر کا مسح کیا ایک بار، پھر اپنا دایاں پاؤں دھویا تین بار، پھر بایاں تین بار، پھر فرمایا: جس کو پسند آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو معلوم کرے تو وہ یہی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 111]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الطھارة 74 (91)، 75 (92)، 76 (93)، 77 (94)، (تحفة الأشراف: 10203)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطھارة 37 (48)، مسند احمد (1/122)، سنن الدارمی/الطھارة 31 (728) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 117
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيُّ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: دَخَلَ عَلَيَّ عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ وَقَدْ أَهْرَاقَ الْمَاءَ، فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَأَتَيْنَاهُ بِتَوْرٍ فِيهِ مَاءٌ حَتَّى وَضَعْنَاهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، أَلَا أُرِيكَ كَيْفَ كَانَ يَتَوَضَّأُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَ:" فَأَصْغَى الْإِنَاءَ عَلَى يَدِهِ فَغَسَلَهَا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فَأَفْرَغَ بِهَا عَلَى الْأُخْرَى، ثُمَّ غَسَلَ كَفَّيْهِ، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَيْهِ فِي الْإِنَاءِ جَمِيعًا فَأَخَذَ بِهِمَا حَفْنَةً مِنْ مَاءٍ فَضَرَبَ بِهَا عَلَى وَجْهِهِ، ثُمَّ أَلْقَمَ إِبْهَامَيْهِ مَا أَقْبَلَ مِنْ أُذُنَيْهِ ثُمَّ الثَّانِيَةَ ثُمَّ الثَّالِثَةَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ أَخَذَ بِكَفِّهِ الْيُمْنَى قَبْضَةً مِنْ مَاءٍ فَصَبَّهَا عَلَى نَاصِيَتِهِ فَتَرَكَهَا تَسْتَنُّ عَلَى وَجْهِهِ، ثُمَّ غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ وَظُهُورَ أُذُنَيْهِ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَيْهِ جَمِيعًا فَأَخَذَ حَفْنَةً مِنْ مَاءٍ فَضَرَبَ بِهَا عَلَى رِجْلِهِ وَفِيهَا النَّعْلُ فَفَتَلَهَا بِهَا، ثُمَّ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، قَالَ: قُلْتُ: وَفِي النَّعْلَيْنِ؟ قَالَ: وَفِي النَّعْلَيْنِ، قَالَ: قُلْتُ: وَفِي النَّعْلَيْنِ؟ قَالَ: وَفِي النَّعْلَيْنِ، قَالَ: قُلْتُ: وَفِي النَّعْلَيْنِ؟ قَالَ: وَفِي النَّعْلَيْنِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَحَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ شَيْبَةَ، يُشْبِهُ حَدِيثَ عَلِيٍّ لِأَنَّهُ قَالَ فِيهِ حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جُرَيْجٍ: وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّةً وَاحِدَةً، وَقَالَ ابْنُ وَهْبٍ فِيهِ: عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ثَلَاثًا.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ استنجاء کر کے میرے پاس آئے، اور وضو کے لیے پانی مانگا، ہم ایک پیالہ لے کر ان کے پاس آئے جس میں پانی تھا یہاں تک کہ ہم نے انہیں ان کے سامنے رکھا تو انہوں نے مجھ سے کہا: اے ابن عباس! کیا میں تمہیں دکھاؤں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح وضو کرتے تھے؟ میں نے کہا: ہاں، ضرور دکھائیے، تو آپ نے برتن جھکا کر ہاتھ پر پانی ڈالا پھر اسے دھویا پھر اپنا داہنا ہاتھ (برتن میں) داخل کیا (اور پانی لے کر) اسے دوسرے پر ڈالا پھر اپنی دونوں ہتھیلیوں کو دھویا، پھر کلی کی اور ناک جھاڑی، پھر اپنے دونوں ہاتھ (ملا کر) ایک ساتھ برتن میں ڈالے اور لپ بھر پانی لیا اور اسے اپنے منہ پر مارا پھر دونوں انگوٹھوں کو کانوں کے اندر یعنی سامنے کے رخ پر پھیرا، پھر دوسری اور تیسری بار (بھی) ایسا ہی کیا، پھر اپنی داہنی ہتھیلی میں ایک چلو پانی لے کر اپنی پیشانی پر ڈالا اور اسے چھوڑ دیا، وہ آپ کے چہرے پر بہہ رہا تھا، پھر دونوں ہاتھ تین تین بار کہنیوں تک دھوئے، اس کے بعد سر اور دونوں کانوں کے اوپری حصہ کا مسح کیا، پھر اپنے دونوں ہاتھ پانی میں ڈال کر ایک لپ بھر پانی لیا اور اسے (دائیں) پیر پر ڈالا، اس وقت وہ پیر میں جوتا پہنے ہوئے تھے اور اس سے پیر دھویا پھر دوسرے پیر پر بھی اسی طرح پانی ڈال کر اسے دھویا ۱؎۔ عبیداللہ خولانی کہتے ہیں کہ میں نے (عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے) پوچھا: علی رضی اللہ عنہ نے دونوں پیر میں جوتا پہنے پہنے ایسا کیا؟ آپ نے کہا: ہاں، جوتا پہنے پہنے کیا، میں نے کہا: جوتا پہنے پہنے؟ آپ نے کہا: ہاں، جوتا پہنے پہنے، پھر میں نے کہا: جوتا پہنے پہنے؟ آپ نے کہا: ہاں چپل پہنے پہنے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن جریج کی حدیث جسے انہوں نے شیبہ سے روایت کیا ہے علی رضی اللہ عنہ کی حدیث کے مشابہ ہے اس لیے کہ اس میں حجاج بن محمد نے ابن جریج سے «مسح برأسه مرة واحدة» کہا ہے اور ابن وہب نے اس میں ابن جریج سے «ومسح برأسه ثلاثا» روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 117]
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ میرے ہاں تشریف لائے، آپ استنجاء کر چکے تھے، آپ نے وضو کے لیے پانی منگوایا، ہم ایک چھوٹے برتن میں پانی لائے اور آپ کے سامنے رکھ دیا تو آپ نے فرمایا: اے ابن عباس! کیا تمہیں دکھلاؤں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے وضو کیا کرتے تھے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں! چنانچہ انہوں نے برتن کو اپنے ہاتھ پر ٹیڑھا کیا اور ہاتھ دھویا، پھر اپنا دایاں ہاتھ اس میں ڈالا اور دوسرے ہاتھ پر پانی ڈالا اور دونوں ہاتھ دھوئے، پھر کلی کی اور ناک جھاڑی، پھر اپنے دونوں ہاتھ اکٹھے ہی برتن میں ڈالے اور دونوں ہاتھوں سے ایک لپ پانی لیا اور اپنے چہرے پر ڈالا، پھر اپنے دونوں انگوٹھوں کو کانوں میں ڈالا یعنی جو حصہ چہرے کی جانب تھا، (اسے بھی دھویا) پھر دوسری بار، پھر تیسری بار ایسے ہی کیا۔ پھر دائیں ہاتھ سے ایک چلو پانی لیا اور اسے پیشانی پر ڈالا اور اسے اپنے چہرے پر بہنے دیا، پھر اپنی دونوں کلائیاں کہنیوں تک دھوئیں تین تین بار، پھر اپنے سر کا مسح کیا اور کانوں کے باہر کا (بھی) پھر اپنے دونوں ہاتھ برتن میں ڈالے اور پانی کی ایک لپ لے کر اپنے پاؤں پر ڈالی اور اس میں (چپل کا سا) جوتا تھا، اپنے پاؤں کو اس پانی کے ساتھ ملا، پھر دوسرے پاؤں کو بھی ایسے ہی۔ عبداللہ خولانی رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے کہا: جوتوں سمیت؟! سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: جوتوں سمیت! میں نے پھر کہا: جوتے پہنے پہنے ہی؟ میں نے پھر کہا: جوتوں سمیت؟ انہوں نے کہا: (ہاں) جوتوں سمیت۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن جریج کی شیبہ (شیبہ بن نصاح) سے روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی حدیث کے مشابہ ہے۔ اس روایت میں حجاج بن محمد نے ابن جریج سے نقل کیا ہے: اور اپنے سر کا ایک بار مسح کیا۔ اور ابن وہب نے یہی روایت ابن جریج سے نقل کی تو کہا: سر کا مسح تین بار کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 117]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، تحفة الأشراف (10198)، وحدیث ابن جریج عن شیبة أخرجہ: سنن النسائی/الطہارة 78 (95)، تحفة الأشراف (10075)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/82) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (بتصریح امام ترمذی: امام بخاری نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے)
وضاحت: ۱؎: متن حدیث میں «ففتلها» کا لفظ وارد ہوا ہے جس کے معنی بہت تھوڑی چیز کے ہیں یعنی بہت ہلکا دھویا شیعہ اس حدیث سے ننگے اور کھلے پاؤں پر مسح کی دلیل پکڑتے ہیں، حالانکہ ایک نسخہ میں «ففتلها» کی جگہ «فغسلها» وارد ہوا ہے، نیز یہ حدیث بتصریح امام بخاری ضعيف ہے اس میں کوئی علت خفیہ ہے، بفرض صحت امام خطابی اور ابن القیم نے چند تاویلات کی ہیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
ابن اسحاق صرح بالسماع عند احمد: 1/ 82

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 118
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ وَهُوَ جَدُّ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ: هَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُرِيَنِي كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ: نَعَمْ،" فَدَعَا بِوَضُوءٍ، فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ فَغَسَلَ يَدَيْهِ، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ، بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ ثُمَّ ذَهَبَ بِهِمَا إِلَى قَفَاهُ ثُمَّ رَدَّهُمَا حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ".
یحییٰ مازنی کہتے ہیں کہ انہوں نے عبداللہ بن زید بن عاصم (جو عمرو بن یحییٰ مازنی کے نانا ہیں) سے کہا: کیا آپ مجھے دکھا سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح وضو فرماتے تھے؟ تو عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں، پس آپ نے وضو کے لیے پانی منگایا، اور اپنے دونوں ہاتھوں پر ڈالا اور اپنے دونوں ہاتھ دھوئے، پھر تین بار کلی کی، اور تین بار ناک جھاڑی، پھر تین بار اپنا چہرہ دھویا، پھر دونوں ہاتھ کہنیوں تک دو دو بار دھوئے، پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کا مسح کیا، ان دونوں کو آگے لے آئے اور پیچھے لے گئے اس طرح کہ اس کی ابتداء اپنے سر کے اگلے حصے سے کی، پھر انہیں اپنی گدی تک لے گئے پھر انہیں اسی جگہ واپس لے آئے جہاں سے شروع کیا تھا، پھر اپنے دونوں پیر دھوئے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 118]
عمرو بن یحییٰ مازنی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے والد (یحییٰ مازنی) نے سیدنا عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ سے کہا، اور یہ عمرو بن یحییٰ کے دادا ہیں: کیا آپ مجھے دکھا سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کیسے کیا کرتے تھے؟ عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں! چنانچہ انہوں نے وضو کا پانی منگوایا اور اپنے دونوں ہاتھوں پر ڈالا اور ہاتھ دھوئے، پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈال کر جھاڑا تین بار، پھر چہرہ دھویا تین بار، پھر دونوں ہاتھ دھوئے کہنیوں تک دو دو بار، پھر دونوں ہاتھوں سے سر کا مسح کیا اور انہیں آگے لائے اور پیچھے لے گئے، سر کے اگلے حصے سے شروع کیا اور گدی تک لے گئے، پھر انہیں واپس لائے اور وہاں تک لے آئے جہاں سے شروع کیا تھا، پھر اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 118]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الوضوء 38 (185)، 39 (186)، 41 (191)، 42 (192)، 45 (197)، صحیح مسلم/الطھارة 7 (235)، سنن الترمذی/الطھارة 22 (28)، 24 (32)، 36 (47)، سنن النسائی/الطھارة 80 (97)، 81 (98)، 82 (99)، (تحفة الأشراف: 5308)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطھارة 1 (1)، مسند احمد (4/38، 39، سنن الدارمی/الطھارة 28 (721) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (185) صحيح مسلم (235)
مشكوة المصابيح (393)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 140
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:"إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَجْعَلْ فِي أَنْفِهِ مَاءً ثُمَّ لِيَنْثُرْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی وضو کرے تو اپنی ناک میں پانی ڈالے، پھر جھاڑے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 140]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی وضو کرے تو اپنی ناک میں پانی لے، پھر اسے جھاڑے (یعنی صاف کرے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 140]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الوضوء 26 (162)، صحیح مسلم/الطھارة 8 (237)، سنن النسائی/الطھارة 70 (86)، موطا امام مالک/الطھارة 1(2)، (تحفة الأشراف: 13820)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الطھارة 44 (406)، مسند احمد (2/242، 278)، سنن الدارمی/الطھارة 32 (730) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (162) صحيح مسلم (141)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2366
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ لَقِيطِ بْنِ صَبْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَالِغْ فِي الِاسْتِنْشَاقِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا".
لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ناک میں پانی ڈالنے میں مبالغہ کرو سوائے اس کے کہ تم روزے سے ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 2366]
سیدنا لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (وضو کرتے ہوئے) ناک میں خوب پانی چڑھاؤ، سوائے اس کے کہ روزے سے ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 2366]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (142)، (تحفة الأشراف: 11172) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أخرجه الترمذي (788 وسنده صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں