سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب كم الوتر
باب: وتر میں کتنی رکعت ہے؟
حدیث نمبر: 1422
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنِي قُرَيْشُ بْنُ حَيَّانَ الْعِجْلِيُّ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ وَائِلٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْوِتْرُ حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِخَمْسٍ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِثَلَاثٍ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِوَاحِدَةٍ فَلْيَفْعَلْ".
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وتر ہر مسلمان پر حق ہے جو پانچ پڑھنا چاہے پانچ پڑھے، جو تین پڑھنا چاہے تین پڑھے اور جو ایک پڑھنا چاہے ایک پڑھے“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1422]
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وتر نماز ہر مسلمان پر حق ہے، چنانچہ جو پانچ پڑھنا چاہے، (پانچ) پڑھ لے۔ اور جو تین پڑھنا چاہے، (تین) پڑھ لے۔ اور جو ایک پڑھنا چاہے، وہ ایک پڑھ لے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1422]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/قیام اللیل 34 (171)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 123 (1190)، (تحفة الأشراف:3480)، وقد أخرجہ: مسند احمد 5/418، سنن الدارمی/الصلاة 210(1626) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (1265)
أخرجه النسائي (1712) والزھري صرح بالسماع عند ابن ماجه (1190 وسنده صحيح)
مشكوة المصابيح (1265)
أخرجه النسائي (1712) والزھري صرح بالسماع عند ابن ماجه (1190 وسنده صحيح)
حدیث نمبر: 1356
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قَيْسٍ الْأَسَدِيُّ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا أَمْسَى، فَقَالَ:" أَصَلَّى الْغُلَامُ؟" قَالُوا: نَعَمْ،" فَاضْطَجَعَ حَتَّى إِذَا مَضَى مِنَ اللَّيْلِ مَا شَاءَ اللَّهُ قَامَ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ صَلَّى سَبْعًا أَوْ خَمْسًا أَوْتَرَ بِهِنَّ لَمْ يُسَلِّمْ إِلَّا فِي آخِرِهِنَّ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں ایک رات اپنی خالہ ام المؤمنین میمونہ کے پاس رہا، شام ہو جانے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور پوچھا: ”کیا بچے نے نماز پڑھ لی؟“ لوگوں نے کہا: ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ گئے یہاں تک کہ جب رات اس قدر گزر گئی جتنی اللہ کو منظور تھی تو آپ اٹھے اور وضو کر کے سات یا پانچ رکعتیں وتر کی پڑھیں اور صرف آخر میں سلام پھیرا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1356]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں رات گزاری، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے جبکہ رات ہو چکی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا لڑکے نے نماز پڑھ لی ہے؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں۔“ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی لیٹ گئے حتیٰ کہ جب رات کا کچھ حصہ گزر گیا جو اللہ نے چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور وضو کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات یا پانچ رکعات پڑھیں اور انہیں وتر بنایا اور ان رکعات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (درمیان میں) کوئی تشہد نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1356]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العلم 41 (117)، الأذان 57 (697)، سنن النسائی/الإمامة 22 (807)، (تحفة الأشراف:5496)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/341، 354)، دی/الطہارة 3 (684) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (117)
حدیث نمبر: 1421
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ، فَقَالَ بِأُصْبُعَيْهِ هَكَذَا:" مَثْنَى مَثْنَى، وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ دیہات کے ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تہجد کی نماز کے بارے میں پوچھا تو آپ نے اپنی دونوں انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ”اس طرح دو دو رکعتیں ہیں اور آخر رات میں وتر ایک رکعت ہے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1421]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ”اس طرح دو دو رکعت، اور وتر ایک رکعت ہے رات کے آخر میں۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1421]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 20 (749)، سنن النسائی/ قیام اللیل 32 (1692)، (تحفة الأشراف:7267)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/40، 58، 71، 76، 79، 81، 100) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: وتر کی رکعتوں کی تعداد کے سلسلہ میں متعدد روایتیں آئی ہیں جن میں ایک رکعت سے لے کر تیرہ رکعت تک کا ذکر ہے ان روایات کو صحیح مان کر انہیں اختلاف احوال پر محمول کرنا مناسب ہو گا، اور یہ واضح رہے کہ وتر کا مطلب دن بھر کی سنن و نوافل اور تہجد (اگر پڑھتا ہے تو) کو طاق بنا دینا ہے، اب چاہے اخیر میں ایک رکعت پڑھ کر طاق بنا دے یا تین یا پانچ، اور اسی طرح طاق رکعتیں ایک ساتھ پڑھ کر، اور یہ سب صورتیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں، نیز یہ بھی واضح رہے کہ وتر کا لفظ تہجد کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے، پانچ، سات، نو، یا تیرہ رکعت وتر کا یہی مطلب ہے، نہ کہ تہجد کے علاوہ مزید پانچ تا تیرہ وتر الگ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (749)