🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
44. باب ما يؤمر به من غض البصر
باب: نظر نیچی رکھنے کا حکم۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2149
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى الْفَزَارِيُّ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي رَبِيعَةَ الْإِيَادِيِّ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ:" يَا عَلِيُّ، لَا تُتْبِعِ النَّظْرَةَ النَّظْرَةَ، فَإِنَّ لَكَ الْأُولَى وَلَيْسَتْ لَكَ الْآخِرَةُ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا: علی! (اجنبی عورت پر) نگاہ پڑنے کے بعد دوبارہ نگاہ نہ ڈالو کیونکہ پہلی نظر تو تمہارے لیے جائز ہے، دوسری جائز نہیں ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2149]
ابن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے علی! نظر کے پیچھے نظر مت لگاؤ، پہلی تمہارے لیے معاف ہے (جو اچانک پڑ گئی) دوسری نہیں (عمدا دیکھنا)۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2149]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الأدب 28 (2777)، (تحفة الأشراف: 2007)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/159، 5/351، 357) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: کیوں کہ پہلی نظر بغیر قصد و اختیار کے پڑی ہے اس لئے اس پر کوئی گناہ نہیں، اور دوسری نظر چونکہ قصداً ہو گی اس لئے اس پر گناہ ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (2777)
شريك القاضي مدلس وعنعن
وللحديث شاھد ضعيف عند الحاكم (3/ 123)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 81

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2148
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَظْرَةِ الْفَجْأَةِ، فَقَالَ:" اصْرِفْ بَصَرَكَ".
جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (اجنبی عورت پر) اچانک نظر پڑ جانے کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی نظر پھیر لو ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2148]
سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اچانک نظر پڑ جانے کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی نظر پھیر لو۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2148]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الآداب 10 (2159)، سنن الترمذی/الأدب 28 (2776)، (تحفة الأشراف: 3237)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/358، 361)، سنن الدارمی/الاستئذان 15 (2685) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اگر قصداً شہوت کی نظر سے اسے دیکھے تو گنہگار ہو گا کیوں کہ اگلی حدیث میں ہے: آنکھ کا زنا غیر محرم عورت کا دیکھنا ہے ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2159)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں