🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

44. باب مَا يُؤْمَرُ بِهِ مِنْ غَضِّ الْبَصَرِ
باب: نظر نیچی رکھنے کا حکم۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2148
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَظْرَةِ الْفَجْأَةِ، فَقَالَ:" اصْرِفْ بَصَرَكَ".
جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (اجنبی عورت پر) اچانک نظر پڑ جانے کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی نظر پھیر لو ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2148]
سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اچانک نظر پڑ جانے کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی نظر پھیر لو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2148]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الآداب 10 (2159)، سنن الترمذی/الأدب 28 (2776)، (تحفة الأشراف: 3237)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/358، 361)، سنن الدارمی/الاستئذان 15 (2685) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اگر قصداً شہوت کی نظر سے اسے دیکھے تو گنہگار ہو گا کیوں کہ اگلی حدیث میں ہے: آنکھ کا زنا غیر محرم عورت کا دیکھنا ہے ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2159)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2149
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى الْفَزَارِيُّ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي رَبِيعَةَ الْإِيَادِيِّ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ:" يَا عَلِيُّ، لَا تُتْبِعِ النَّظْرَةَ النَّظْرَةَ، فَإِنَّ لَكَ الْأُولَى وَلَيْسَتْ لَكَ الْآخِرَةُ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا: علی! (اجنبی عورت پر) نگاہ پڑنے کے بعد دوبارہ نگاہ نہ ڈالو کیونکہ پہلی نظر تو تمہارے لیے جائز ہے، دوسری جائز نہیں ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2149]
ابن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے علی! نظر کے پیچھے نظر مت لگاؤ، پہلی تمہارے لیے معاف ہے (جو اچانک پڑ گئی) دوسری نہیں (عمدا دیکھنا)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2149]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الأدب 28 (2777)، (تحفة الأشراف: 2007)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/159، 5/351، 357) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: کیوں کہ پہلی نظر بغیر قصد و اختیار کے پڑی ہے اس لئے اس پر کوئی گناہ نہیں، اور دوسری نظر چونکہ قصداً ہو گی اس لئے اس پر گناہ ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (2777)
شريك القاضي مدلس وعنعن
وللحديث شاھد ضعيف عند الحاكم (3/ 123)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 81

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2150
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُبَاشِرُ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ لِتَنْعَتَهَا لِزَوْجِهَا كَأَنَّمَا يَنْظُرُ إِلَيْهَا".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت عورت سے بدن نہ چپکائے وہ اپنے شوہر سے اس کے بارے میں اس طرح بیان کرے گویا اس کا شوہر اسے دیکھ رہا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2150]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی عورت کسی دوسری عورت کے ساتھ بغل گیر ہو کر یا چمٹ کر نہ لیٹے اور پھر اپنے شوہر کو اس کے متعلق بتانے لگے گویا وہ اس کی طرف دیکھ رہا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2150]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/النکاح 118 (5241)، سنن الترمذی/الأدب 38 (2792)، (تحفة الأشراف: 9252)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الکبری/ عشرة النساء (9231)، مسند احمد (1/387، 440، 443، 462، 464) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5241)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2151
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى امْرَأَةً فَدَخَلَ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ فَقَضَى حَاجَتَهُ مِنْهَا، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ لَهُمْ:" إِنَّ الْمَرْأَةَ تُقْبِلُ فِي صُورَةِ شَيْطَانٍ، فَمَنْ وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَلْيَأْتِ أَهْلَهُ، فَإِنَّهُ يُضْمِرُ مَا فِي نَفْسِهِ".
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو دیکھا تو (اپنی بیوی) زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور ان سے اپنی ضرورت پوری کی، پھر صحابہ کرام کے پاس گئے اور ان سے عرض کیا: عورت شیطان کی شکل میں نمودار ہوتی ہے ۱؎، تو جس کے ساتھ اس طرح کا واقعہ پیش آئے وہ اپنی بیوی کے پاس آ جائے، کیونکہ یہ اس کے دل میں آنے والے احساسات کو ختم کر دے گا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2151]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی عورت دیکھی پھر (اپنے گھر) سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے ہاں آئے اور ان سے اپنی حاجت پوری کی۔ پھر اپنے اصحاب کے پاس گئے اور ان سے فرمایا: عورت شیطان کی صورت میں سامنے آتی ہے، جو شخص اس طرح کی کوئی کیفیت محسوس کرے تو اسے چاہیے کہ اپنی بیوی کے پاس چلا جائے، بلاشبہ (بیوی کے پاس جانا) اس کے نفس میں آنے والے وسوسے اور خیال کو نکال دے گا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2151]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/النکاح 2 (1403)، سنن الترمذی/الرضاع 9 (1158)، (تحفة الأشراف: 2975)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری/ عشرة النساء (9121)، مسند احمد (3/330) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: عورت کو شیطان کی شکل میں اس وجہ سے فرمایا کہ جیسے شیطان آدمی کو بہکاتا ہے ویسے بے پردہ عورت بھی بہکاتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1403)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2152
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَشْبَهَ بِاللَّمَمِ مِمَّا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ عَلَى ابْنِ آدَمَ حَظَّهُ مِنَ الزِّنَا أَدْرَكَ ذَلِكَ لَا مَحَالَةَ، فَزِنَا الْعَيْنَيْنِ النَّظَرُ، وَزِنَا اللِّسَانِ الْمَنْطِقُ، وَالنَّفْسُ تَمَنَّى وَتَشْتَهِي، وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ ذَلِكَ وَيُكَذِّبُهُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے (قرآن میں وارد لفظ) «لمم» (چھوٹے گناہ) کے مشابہ ان اعمال سے زیادہ کسی چیز کو نہیں پایا جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث میں مذکور ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے زنا کا جتنا حصہ ہر شخص کے لیے لکھ دیا ہے وہ اسے لازمی طور پر پا کر رہے گا، چنانچہ آنکھوں کا زنا (غیر محرم کو بنظر شہوت) دیکھنا ہے زبان کا زنا (غیر محرم سے شہوت کی) بات کرنی ہے، (انسان کا) نفس آرزو اور خواہش کرتا ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2152]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ «اللَّمَمِ» (چھوٹے موٹے گناہوں) کی تفسیر میں، میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے بڑھ کر اور کوئی چیز نہیں دیکھی۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے ابنِ آدم پر زنا سے اس کا حصہ لکھ دیا ہے جسے وہ پا کر رہے گا۔ تو آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے، زبان کا زنا بولنا ہے، اور دل تمنا اور خواہش کرتا ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2152]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الاستئذان 12 (4243)، والقدر 9 (2612)، صحیح مسلم/القدر 5 (2657)، (تحفة الأشراف: 13573)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/276) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6243) صحيح مسلم (2657)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2153
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لِكُلِّ ابْنِ آدَمَ حَظُّهُ مِنَ الزِّنَا"، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ:" وَالْيَدَانِ تَزْنِيَانِ فَزِنَاهُمَا الْبَطْشُ، وَالرِّجْلَانِ تَزْنِيَانِ فَزِنَاهُمَا الْمَشْيُ، وَالْفَمُ يَزْنِي فَزِنَاهُ الْقُبَلُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر انسان کے لیے زنا کا حصہ متعین ہے، ہاتھ زنا کرتے ہیں، ان کا زنا پکڑنا ہے، پیر زنا کرتے ہیں ان کا زنا چلنا ہے، اور منہ زنا کرتا ہے اس کا زنا بوسہ لینا ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2153]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر آدم زاد کے لیے زنا سے اس کا حصہ (لکھا گیا) ہے۔ اور مذکورہ قصہ بیان کیا، کہا: ہاتھ زنا کرتے ہیں، ان کی بدکاری پکڑنا ہے۔ پاؤں زنا کرتے ہیں، ان کی بدکاری چلنا ہے۔ منہ زنا کرتا ہے اور اس کی بدکاری بوسہ لینا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2153]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12625)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/343، 536) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: چوں کہ یہ امور زنا کے ذرائع ہیں، اس لئے تشدیداً انہیں بھی زنا سے تعبیر کیا گیا ہے، گو ان کا گناہ زنا کے گناہ کے برابر نہیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن م دون جملة الفم
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح، صحيح مسلم (2657)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2154
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ:" وَالْأُذُنُ زِنَاهَا الِاسْتِمَاعُ".
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ قصہ روایت کرتے ہیں اس میں ہے کہ آپ نے فرمایا: اور کانوں کا زنا سننا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2154]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ قصہ بیان کیا، فرمایا: کان زنا کرتے ہیں اور ان کی بدکاری سننا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2154]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12867)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/379) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
وله شاھد في صحيح مسلم (2657) وبه صح الحديث

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں