🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
40. باب من أنكر ذلك على فاطمة
باب: فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا پر نکیر کرنے والوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2295
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُمَا يَذْكُرَانِ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ طَلَّقَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَكَمِ الْبَتَّةَ، فَانْتَقَلَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، فَأَرْسَلَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ، فَقَالَتْ لَهُ:" اتَّقِ اللَّهَ، وَارْدُدِ الْمَرْأَةَ إِلَى بَيْتِهَا"، فَقَالَ مَرْوَانُ فِي حَدِيثِ سُلَيْمَانَ:" إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ غَلَبَنِي"، وَقَالَ مَرْوَانُ فِي حَدِيثِ الْقَاسِمِ:" أَوَ مَا بَلَغَكِ شَأْنُ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ؟" فَقَالَتْ عَائِشَةُ:" لَا يَضُرُّكَ أَنْ لَا تَذْكُرَ حَدِيثَ فَاطِمَةَ"، فَقَالَ مَرْوَانُ:" إِنْ كَانَ بِكِ الشَّرُّ، فَحَسْبُكِ مَا كَانَ بَيْنَ هَذَيْنِ مِنَ الشَّرِّ".
یحییٰ بن سعید قاسم بن محمد اور سلیمان بن یسار سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ان دونوں کو ذکر کرتے ہوئے سنا کہ یحییٰ بن سعید بن عاص نے عبدالرحمٰن بن حکم کی بیٹی کو تین طلاق دے دی تو عبدالرحمٰن نے انہیں اس گھر سے منتقل کر لیا تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس وقت مدینہ کے امیر مروان بن حکم کو کہلا بھیجا کہ اللہ کا خوف کھاؤ اور عورت کو اس کے گھر واپس بھیج دو، بروایت سلیمان: مروان نے کہا: عبدالرحمٰن مجھ پر غالب آ گئے یعنی انہوں نے میری بات نہیں مانی، اور بروایت قاسم: کیا آپ کو فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کا قصہ معلوم نہیں؟ تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: فاطمہ والی حدیث نہ بیان کرو تو تمہارا کوئی نقصان نہیں ہے، تو مروان نے کہا: اگر آپ نزدیک وہاں برائی کا اندیشہ تھا تو سمجھ لو یہاں ان دونوں (عمرہ اور ان کے شوہر یحییٰ) کے درمیان بھی اسی برائی کا اندیشہ ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2295]
قاسم بن محمد اور سلیمان بن یسار کا بیان ہے کہ یحییٰ بن سعید بن العاص نے (اپنی بیوی عمرہ) بنت عبدالرحمٰن بن حکم کو طلاق دے دی، «طَلَاقُ الْبَتَّةِ» طلاقِ بتہ (تین طلاقیں)، تو عبدالرحمٰن نے اپنی بیٹی کو (اپنے گھر) منتقل کر لیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مروان بن حکم کو پیغام بھیجا اور وہ ان دنوں مدینہ کا حاکم تھا، کہ اللہ سے ڈرو اور عورت کو اس کے (خاوند کے) گھر لوٹا دو۔ مروان نے کہا (بالفاظِ سلیمان): عبدالرحمٰن مجھ پر غالب آ گیا ہے۔ اور (بالفاظِ قاسم) مروان نے کہا: کیا آپ کو فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کا احوال نہیں پہنچا؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اگر آپ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث بیان نہ کریں تو آپ کو کوئی نقصان نہ ہو گا۔ (اس کو ایک خاص وجہ سے اجازت دی گئی تھی) مروان نے کہا: اگر آپ ایک شر کو انتقال کی وجہ جواز سمجھتی ہیں تو ان زوجین کے درمیان موجود شر بھی اس کی وجہ جواز ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2295]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الطلاق (5321)، صحیح مسلم/الطلاق 6 (1481)، (تحفة الأشراف: 16137، 17560، 18022، 18035)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطلاق 22 (63) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5321، 5322)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2292
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَقَدْ عَابَتْ ذَلِكَ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَشَدَّ الْعَيْبِ يَعْنِي حَدِيثَ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، وَقَالَتْ: إِنَّ فَاطِمَةَ كَانَتْ فِي مَكَانٍ وَحْشٍ فَخِيفَ عَلَى نَاحِيَتِهَا، فَلِذَلِكَ رَخَّصَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عروہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی حدیث پر سخت نکیر کرتی تھیں اور کہتی تھیں: چونکہ فاطمہ ایک ویران مکان میں رہتی تھیں جس کی وجہ سے ان کے بارے میں خدشہ لاحق ہوا اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (مکان بدلنے کی) رخصت دی تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2292]
ہشام بن عروہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس روایت پر بہت سخت عیب لگایا ہے (انکار کیا ہے) یعنی فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی حدیث پر اور کہا کہ فاطمہ بنت قیس ایک خالی مکان میں رہائش پذیر تھی اور اس طرف سے کوئی خطرہ سا بھی تھا اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو (گھر تبدیل کرنے کی) رخصت عنایت فرمائی تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2292]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الطلاق 41 (5326)تعلیقاً، سنن ابن ماجہ/الطلاق 8 (2032)، (تحفة الأشراف: 17018) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه ابن ماجه (2032 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2293
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ قِيلَ لِعَائِشَةَ: أَلَمْ تَرَيْ إِلَى قَوْلِ فَاطِمَةَ؟ قَالَتْ: أَمَا إِنَّهُ لَا خَيْرَ لَهَا فِي ذِكْرِ ذَلِكَ.
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے فاطمہ (فاطمہ بنت قیس) رضی اللہ عنہا کے بیان پر اظہار خیال کرنے کے لیے کہا گیا تو انہوں نے کہا اس میں اس کے لیے کوئی فائدہ نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2293]
عروہ بن زبیر سے مروی ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا گیا کہ کیا آپ کو فاطمہ کی بات معلوم نہیں ہوئی؟ تو انہوں نے کہا: اس بات کو ذکر کرنے میں اس کے لیے خیر نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2293]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود،، (تحفة الأشراف: 16380) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5325، 5326) صحيح مسلم (1481)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں