🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب في الجدة
باب: دادی اور نانی کی میراث کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2895
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ، أَخْبَرَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ أَبُو الْمُنِيبِ الْعَتَكِيِّ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" جَعَلَ لِلْجَدَّةِ السُّدُسَ إِذَا لَمْ يَكُنْ دُونَهَا أُمٌّ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نانی کا چھٹا حصہ مقرر فرمایا ہے اگر ماں اس کے درمیان حاجب نہ ہو (یعنی اگر میت کی ماں زندہ ہو گی تو وہ نانی کو حصے سے محروم کر دے گی)۔ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2895]
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے «الْجَدَّةِ» (دادی، نانی) کے لیے چھٹا حصہ مقرر کیا تھا، لیکن جب اس سے پہلے (ورے) ماں نہ ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2895]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 1985) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی عبیداللہ کے بارے میں کلام ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3049)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2894
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ إِسْحَاق بْنِ خَرَشَةَ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، أَنَّهُ قَالَ: جَاءَتِ الْجَدَّةُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا، فَقَالَ: مَا لَكِ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى شَيْءٌ، وَمَا عَلِمْتُ لَكِ فِي سُنَّةِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، فَارْجِعِي حَتَّى أَسْأَلَ النَّاسَ، فَسَأَلَ النَّاسَ، فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ: حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهَا السُّدُسَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَلْ مَعَكَ غَيْرُكَ؟، فَقَامَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ فَقَالَ: مِثْلَ مَا قَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فَأَنْفَذَهُ لَهَا أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ جَاءَتِ الْجَدَّةُ الأُخْرَى إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا، فَقَالَ: مَا لَكِ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى شَيْءٌ، وَمَا كَانَ الْقَضَاءُ الَّذِي قُضِيَ بِهِ إِلَّا لِغَيْرِكِ وَمَا أَنَا بِزَائِدٍ فِي الْفَرَائِضِ، وَلَكِنْ هُوَ ذَلِكَ السُّدُسُ فَإِنِ اجْتَمَعْتُمَا فِيهِ فَهُوَ بَيْنَكُمَا وَأَيَّتُكُمَا خَلَتْ بِهِ فَهُوَ لَهَا.
قبیصہ بن ذویب کہتے ہیں کہ میت کی نانی ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس میراث میں اپنا حصہ دریافت کرنے آئی تو انہوں نے کہا: اللہ کی کتاب (قرآن پاک) میں تمہارا کچھ حصہ نہیں ہے، اور مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں بھی تمہارے لیے کچھ نہیں معلوم، تم جاؤ میں لوگوں سے دریافت کر کے بتاؤں گا، پھر انہوں نے لوگوں سے پوچھا تو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، آپ نے اسے چھٹا حصہ دلایا ہے، اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تمہارے ساتھ کوئی اور بھی ہے (جو اس معاملے کو جانتا ہو) تو محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے بھی وہی بات کہی جو مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کہی تھی، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کے لیے اسی کو نافذ کر دیا، پھر عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں دادی عمر رضی اللہ عنہ کے پاس اپنا میراث مانگنے آئی، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی کتاب (قرآن) میں تمہارے حصہ کا ذکر نہیں ہے اور پہلے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں) جو حکم ہو چکا ہے وہ نانی کے معاملے میں ہوا ہے، میں اپنی طرف سے فرائض میں کچھ بڑھا نہیں سکتا، لیکن وہی چھٹا حصہ تم بھی لو، اگر نانی بھی ہو تو تم دونوں ( «سدس») کو بانٹ لو اور جو تم دونوں میں اکیلی ہو (یعنی صرف نانی یا صرف دادی) تو اس کے لیے وہی چھٹا حصہ ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2894]
سیدنا قبیصہ بن ذؤیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک (میت کی) نانی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئی، وہ اپنا حق وراثت طلب کر رہی تھی، ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی کتاب میں تیرا کوئی حصہ (مذکور) نہیں ہے اور نہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے کچھ معلوم ہے، تم لوٹ جاؤ حتیٰ کہ میں لوگوں سے پوچھ لوں۔ چنانچہ انہوں نے لوگوں (صحابہ) سے پوچھا تو سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں حاضر تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے (نانی کو) چھٹا حصہ دیا تھا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا اس خبر کے سلسلے میں تمہارے ساتھ کوئی اور بھی ہے؟ تو محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ اٹھے اور انہوں نے اسی طرح کہا: جیسے کہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا تھا۔ چنانچہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نانی کو یہ حصہ دیا۔ پھر ایک اور دادی سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئی، وہ اپنا حق وراثت طلب کر رہی تھی۔ انہوں نے کہا: اللہ کی کتاب میں تمہارا کوئی حق (مذکور) نہیں۔ اور جو فیصلہ اس سے پہلے ہوا ہے وہ دوسری (نانی) کے لیے تھا اور میں حقوق وراثت میں کچھ نہیں بڑھا سکتا۔ لیکن وہ چھٹا حصہ ہی ہے۔ اگر تم دونوں (نانی اور دادی) جمع ہو جاؤ تو یہ حصہ تم دونوں کے مابین ہو گا۔ اور جو تم میں سے کوئی اکیلی ہو (دادی ہو، نانی نہ ہو، یا نانی ہو، دادی نہ ہو) تو یہ چھٹا حصہ پورے کا پورا لے گی۔ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2894]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الفرائض 10 (2101)، سنن ابن ماجہ/الفرائض 4 (2724)، (تحفة الأشراف: 11232، 11522)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ الفرائض 8 (4)، مسند احمد (4/225) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کی سند میں قبیصہ اور ابوبکر صدیق کے درمیان انقطاع ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (3061، 4084)
الزھري صرح بالسماع عند النسائي في الكبريٰ (4/73 ح 6339 وسنده صحيح) وخالفه النسائي فأخطأ والله أعلم، قبيصة صحابي صغير رضي الله عنه و ھذا من مراسيل الصحابة و مراسيل الصحابة مقبولة

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2896
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنً، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" إِنَّ ابْنَ ابْنِي مَاتَ فَمَا لِي مِنْ مِيرَاثِهِ، فَقَالَ: لَكَ السُّدُسُ فَلَمَّا أَدْبَرَ دَعَاهُ، فَقَالَ: لَكَ سُدُسٌ آخَرُ فَلَمَّا أَدْبَرَ دَعَاهُ، فَقَالَ: إِنَّ السُّدُسَ الْآخَرَ طُعْمَةٌ، قَالَ قَتَادَةُ: فَلَا يَدْرُونَ مَعَ أَيِّ شَيْءٍ وَرَّثَهُ قَالَ قَتَادَةُ: أَقَلُّ شَيْءٍ وَرِثَ الْجَدُّ السُّدُسُ".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میرا پوتا مر گیا ہے، مجھے اس کی میراث سے کیا ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے چھٹا حصہ ہے، جب وہ واپس ہونے لگا تو آپ نے اس کو بلایا اور فرمایا: تمہارے لیے ایک اور چھٹا حصہ ہے، جب وہ واپس ہونے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اسے بلایا اور فرمایا: یہ دوسرا «سدس» تمہارے لیے تحفہ ہے۔ قتادہ کہتے ہیں: معلوم نہیں دادا کو کس کے ساتھ سدس حصہ دار بنایا؟۔ قتادہ کہتے ہیں: سب سے کم حصہ جو دادا پاتا ہے وہ «سدس» ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2896]
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا: میرا پوتا فوت ہو گیا ہے، تو میرے لیے اس کی وراثت میں سے کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرے لیے چھٹا حصہ ہے۔ جب اس نے پشت پھیری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور فرمایا: تیرے لیے ایک اور چھٹا حصہ بھی ہے۔ جب اس نے پشت پھیری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور فرمایا: یہ دوسرا چھٹا حصہ تحفہ ہے۔ قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگ نہیں جان سکے کہ کس چیز کے ساتھ اسے وارث بنایا۔ قتادہ نے (یہ بھی) کہا: دادا کا کم از کم حصہ وراثت چھٹا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2896]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الفرائض 9 (2099)، (تحفة الأشراف: 10801)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/428، 436) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے رواة قتادة اور حسن مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں، نیز حسن کے عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے سماع میں بھی سخت اختلاف ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (2099)
قتادة عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 104

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2897
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الْحَسَنِ، أَنَّ عُمَرَ قَالَ:" أَيُّكُمْ يَعْلَمُ مَا وَرَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَدَّ، فَقَالَ مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ: أَنَا وَرَّثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السُّدُسَ قَالَ: مَعَ مَنْ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي، قَالَ: لَا دَرَيْتَ فَمَا تُغْنِي إِذًا؟".
حسن بصری کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دادا کو ترکے میں سے جو دلایا ہے اسے تم میں کون جانتا ہے؟ معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے کہا: میں (جانتا ہوں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو چھٹا حصہ دلایا ہے، انہوں نے پوچھا: کس وارث کے ساتھ؟ وہ کہنے لگے: یہ تو معلوم نہیں، اس پر انہوں نے کہا: تمہیں پوری بات معلوم نہیں پھر کیا فائدہ تمہارے جاننے کا؟۔ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2897]
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا تم میں سے کوئی جانتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دادا کو کیا وراثت دی تھی؟ تو سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے کہا: میں جانتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھٹا حصہ دیا تھا۔ انہوں نے پوچھا: کس کے ساتھ؟ کہا: مجھے نہیں معلوم۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے نہیں جانا (تمہارا ادھوری بات بتانے کا) کیا فائدہ؟ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2897]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/ الکبری (6335)، سنن ابن ماجہ/الفرائض 3 (2723)، (تحفة الأشراف: 11467)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/27) (صحیح)» ‏‏‏‏ (حسن بصری کا عمر رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں ہے، لیکن دوسرے طرق اور شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود 8؍ 251)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (2723)
الحسن عن عمر : لم يدركه (تحفة الأشراف 20/8) فالسند منقطع
والحديث السابق (الأصل : 2895) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 104

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں