سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
40. باب في تقبيل الميت
باب: میت کو بوسہ دینا۔
حدیث نمبر: 3163
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُقَبِّلُ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ وَهُوَ مَيِّتٌ. حتَّى رَأَيْتُ الدُّمُوعَ تَسِيلُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عثمان بن مظعون ۱؎ رضی اللہ عنہ کو بوسہ لیتے ہوئے دیکھا ہے، ان کا انتقال ہو چکا تھا، میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3163]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو بوسہ دیا جبکہ وہ فوت ہو گئے تھے، میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنسو بہہ رہے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3163]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الجنائز 14 (989)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 7 (1456)، (تحفة الأشراف: 17459)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/43، 55، 206) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رضاعی بھائی تھے، مدینہ میں مہاجرین میں سب سے پہلے انہیں کا انتقال ہوا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (989) ابن ماجه (1456)
عاصم بن عبيداللّٰه ضعيف
وللحديث شواھد ضعيفة عند البزار (الكشف : 806) و أبي نعيم (حلية الأولياء :105/1) وغيرھما
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 117
إسناده ضعيف
ترمذي (989) ابن ماجه (1456)
عاصم بن عبيداللّٰه ضعيف
وللحديث شواھد ضعيفة عند البزار (الكشف : 806) و أبي نعيم (حلية الأولياء :105/1) وغيرھما
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 117
حدیث نمبر: 3206
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ. ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْفَضْلِ السِّجِسْتَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيل، بِمَعْنَاهُ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ الْمَدَنِيِّ، عَنِ الْمُطَّلِبِ، قَالَ: لَمَّا مَاتَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ، أُخْرِجَ بِجَنَازَتِهِ فَدُفِنَ، أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا أَنْ يَأْتِيَهُ بِحَجَرٍ، فَلَمْ يَسْتَطِعْ حَمْلَهُ، فَقَامَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَسَرَ عَنْ ذِرَاعَيْهِ، قَالَ كَثِيرٌ: قَالَ الْمُطَّلِبُ: قَالَ الَّذِي يُخْبِرُنِي ذَلِكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ ذِرَاعَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ حَسَرَ عَنْهُمَا، ثُمَّ حَمَلَهَا فَوَضَعَهَا عِنْدَ رَأْسِهِ، وَقَالَ: أَتَعَلَّمُ بِهَا قَبْرَ أَخِي، وَأَدْفِنُ إِلَيْهِ مَنْ مَاتَ مِنْ أَهْلِي".
مطلب کہتے ہیں جب عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو ان کا جنازہ لے جایا گیا اور وہ دفن کئے گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو ایک پتھر اٹھا کر لانے کا حکم دیا (تاکہ اسے علامت کے طور پر رکھا جائے) وہ اٹھا نہ سکا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف اٹھ کر گئے اور اپنی دونوں آستینیں چڑھائیں۔ کثیر (راوی) کہتے ہیں: مطلب نے کہا: جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث مجھ سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں: گویا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں ہاتھوں کی سفیدی جس وقت کہ آپ نے اسے کھولا دیکھ رہا ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اٹھا کر ان کے سر کے قریب رکھا اور فرمایا: ”میں اسے اپنے بھائی کی قبر کی پہچان کے لیے لگا رہا ہوں، میرے خاندان کا جو مرے گا میں اسے انہیں کے آس پاس میں دفن کروں گا ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3206]
جناب مطلب (مطلب بن عبداللہ بن حنطب رضی اللہ عنہ) نے بیان کیا کہ جب سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی اور ان کا جنازہ لایا گیا اور دفن کیا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: ”ایک پتھر لاؤ۔“ مگر وہ اسے اٹھا نہ سکا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف اٹھے، اپنی کلائیوں سے کپڑا ہٹایا۔ (راویِ حدیث) کثیر نے کہا کہ مطلب کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرنے والے نے بتایا: گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بازوؤں کی سفیدی دیکھ رہا ہوں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کپڑا ہٹایا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اٹھایا اور قبر پر سر کی طرف رکھ دیا اور فرمایا: ”میں اس سے اپنے بھائی کی قبر پہچان سکوں گا اور میرے اہل میں سے جو کوئی فوت ہوا میں اسے اس کے قریب دفن کروں گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3206]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15672) (حسن)» (متابعات و شواہد سے تقویت پا کر یہ صحیح بھی حسن ہے، ورنہ کثیر بن زید سے روایت میں غلطیاں ہو جایا کرتی تھی)۔
وضاحت: ۱؎: عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا بھائی فرمایا کہ وہ آپ کے رضاعی بھائی تھے، انہوں نے ساری عمر کبھی شراب نہیں پی، اور مہاجرین میں سب سے پہلے مدینہ میں انتقال ہوا اور بقیع میں تدفین ہوئی، اس سے معلوم ہوا کہ قبر کی شناخت کے لئے قبر کے پاس کوئی پتھر رکھنا یا کوئی تختی نصب کرنا درست ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1711)
مشكوة المصابيح (1711)