🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
132. باب في الرجل يسلم فيؤمر بالغسل
باب: آدمی اسلام لائے تو اسے غسل کا حکم دیا جائے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 355
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الْأَغَرُّ، عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ جَدِّهِ قَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرِيدُ الْإِسْلَامَ،" فَأَمَرَنِي أَنْ أَغْتَسِلَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ".
قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اسلام لانے کے ارادے سے حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پانی اور بیر کی پتی سے غسل کرنے کا حکم دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 355]
جناب خلیفہ بن حصین اپنے دادا سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا، میں اسلام قبول کرنا چاہتا تھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں غسل کروں اور پانی میں بیری کے پتے ملے ہوئے ہوں۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 355]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الصلاة 303 (605)، سنن النسائی/الطھارة 126 (188)، (تحفة الأشراف: 11100)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/61) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (543)
سنن النسائي (188) وسنده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 356
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أُخْبِرْتُ عَنْ عُثَيْمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: قَدْ أَسْلَمْتُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلْقِ عَنْكَ شَعْرَ الْكُفْرِ يَقُولُ: احْلِقْ، قَالَ: وأَخْبَرَنِي آخَرُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِآخَرَ مَعَهُ: أَلْقِ عَنْكَ شَعْرَ الْكُفْرِ وَاخْتَتِنْ".
کلیب کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بولے: میں اسلام لے آیا ہوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم اپنے (بدن) سے کفر کے بال صاف کراؤ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: بال منڈوا لو، عثیم کے والد کا بیان ہے کہ ایک دوسرے شخص نے مجھے یہ خبر دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے شخص سے جو ان کے ساتھ تھا فرمایا: تم اپنے (بدن) سے کفر کے بال صاف کرو اور ختنہ کرو۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 356]
جناب ابن جریج کہتے ہیں کہ مجھے عثیم بن کلیب سے خبر دی گئی، وہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (کلیب رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ میں نے اسلام قبول کر لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے کفر والے بال اتار دو۔ یعنی سر منڈاؤ۔ اور (کلیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ) مجھے ایک دوسرے صحابی نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دوسرے شخص سے فرمایا جو ان کے ساتھ تھا: اپنے کفر کے بال دور کرو اور ختنہ کراؤ۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 356]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 11168، 15666)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/415) (حسن)» ‏‏‏‏ (اس کی سند میں ضعف ہے: ابن جریج اور عثیم کے درمیان ایک راوی مجہول ہے، نیز خود عثیم اور ان کے والد کثیر بن کلیب بھی مجہول ہیں، اس کو تقویت قتادہ اور ابو ہشام کی حدیث سے ہے جو طبرانی میں ہے 19؍14) (صحیح ابی داود: 383)۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
السند منقطع (انظر الأصل)
وعثيم بن كليب مجهول الحال
وللحديث شاھدان ضعيفان
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 26

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2679
حَدَّثَنَا عيسي بن حماد المصري، وَقُتَيْبَةُ، قَالَ قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْلًا قِبَلَ نَجْدٍ فَجَاءَتْ بِرَجُلٍ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ يُقَالُ لَهُ: ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ، سَيِّدُ أَهْلِ الْيَمَامَةِ فَرَبَطُوهُ بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ فَخَرَجَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" مَاذَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ؟، قَالَ: عِنْدِي يَا مُحَمَّدُ خَيْرٌ إِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ وَإِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ وَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْمَالَ فَسَلْ تُعْطَ مِنْهُ مَا شِئْتَ فَتَرَكَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَ الْغَدُ، ثُمَّ قَالَ لَهُ: مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ؟ فَأَعَادَ مِثْلَ هَذَا الْكَلَامِ فَتَرَكَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَانَ بَعْدَ الْغَدِ فَذَكَرَ مِثْلَ هَذَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَطْلِقُوا ثُمَامَةَ، فَانْطَلَقَ إِلَى نَخْلٍ قَرِيبٍ مِنَ الْمَسْجِدِ فَاغْتَسَلَ فِيهِ ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ" وَسَاقَ الْحَدِيثَ، قَالَ عِيسَى: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، وَقَالَ ذَا ذِمٍّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ سواروں کو نجد کی جانب بھیجا وہ قبیلہ بنی حنیفہ کے ثمامہ بن اثال نامی آدمی کو گرفتار کر کے لائے، وہ اہل یمامہ کے سردار تھے، ان کو مسجد کے ایک کھمبے سے باندھ دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گئے اور پوچھا: ثمامہ! تمہارے پاس کیا ہے؟ کہا: اے محمد! میرے پاس خیر ہے، اگر آپ مجھے قتل کریں گے تو ایک مستحق شخص کو قتل کریں گے، اور اگر احسان کریں گے، تو ایک قدرداں پر احسان کریں گے، اور اگر آپ مال چاہتے ہیں تو کہئے جتنا چاہیں گے دیا جائے گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں چھوڑ کر واپس آ گئے، یہاں تک کہ جب دوسرا دن ہوا تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ثمامہ تمہارے پاس کیا ہے؟ تو انہوں نے پھر اپنی وہی بات دہرائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر انہیں یوں ہی چھوڑ دیا، پھر جب تیسرا دن ہوا تو پھر وہی بات ہوئی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ثمامہ کو آزاد کر دو، چنانچہ وہ مسجد کے قریب ایک باغ میں گئے، غسل کیا، پھر مسجد میں داخل ہوئے اور «أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدًا عبده ورسوله» پڑھ کر اسلام میں داخل ہو گئے، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کیا۔ عیسیٰ کہتے ہیں: مجھ سے لیث نے «ذَاْ دَمٍ» کے بجائے «ذَا ذِمٍّ» (یعنی ایک عزت دار کو قتل کرو گے) روایت کی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 2679]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی طرف ایک جہادی دستہ روانہ فرمایا۔ وہ قبیلہ بنو حنیفہ کا ایک آدمی پکڑ لائے جس کا نام ثمامہ بن اثال تھا اور وہ اہل یمامہ کا سردار تھا۔ چنانچہ انہوں نے اسے مسجد کے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے اور پوچھا: ثمامہ! تیرے پاس کیا ہے؟ (یا تیرا کیا خیال ہے؟) اس نے کہا: اے محمد! میرے پاس خیر ہے۔ اگر تم نے قتل کیا تو ایک خون والے کو قتل کرو گے۔ اور اگر احسان کرو گے تو ایک شکر گزار پر احسان کرو گے۔ اگر آپ کو مال کی ضرورت ہو تو کہیے جتنا چاہتے ہو ملے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اسی حال پر رہنے دیا۔ اگلا دن ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پھر پوچھا: ثمامہ! تیرے پاس کیا ہے؟ (یا تیرا کیا خیال ہے؟) تو اس نے پہلے جیسی بات دہرائی۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اسی حال پر رہنے دیا۔ حتیٰ کہ اگلا دن ہوا تو بھی یہ مکالمہ ہوا۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ثمامہ کو آزاد کر دو۔ چنانچہ وہ چلا گیا اور مسجد کے قریب نخلستان میں پہنچا، وہاں جا کر غسل کیا اور پھر مسجد میں واپس آ گیا اور کہنے لگا: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اور دونوں نے پوری حدیث بیان کی۔ عیسیٰ بن حماد رحمہ اللہ نے کہا: ہم کو لیث بن سعد رحمہ اللہ نے خبر دی تو اس میں «إِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ» کی بجائے «ذَا ذَمٍّ» کے لفظ بیان کیے۔ (اگر قتل کیا تو) ایک صاحبِ ذمہ اور احترام والے کو قتل کرو گے، (مفہوم دونوں کا یہ ہے کہ میری قوم بدلہ لے گی)۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 2679]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الصلاة 76 (462)، والمغازي 70 (4372)، صحیح مسلم/الجھاد 19 (1764)، سنن النسائی/الطھارة 127 (189)، المساجد 20 (713)، (تحفة الأشراف: 13007)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/452) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (469) صحيح مسلم (1764)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں