سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. باب الرجلين يدعيان شيئا وليست لهما بينة
باب: دو آدمی ایک چیز پر دعویٰ کریں اور گواہ کسی کے پاس نہ ہوں اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 3613
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيّ،" أَنَّ رَجُلَيْنِ ادَّعَيَا بَعِيرًا أَوْ دَابَّةً إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَتْ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةٌ، فَجَعَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دو شخصوں نے ایک اونٹ یا چوپائے کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دعویٰ کیا اور ان دونوں میں سے کسی کے پاس کوئی گواہ نہیں تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چوپائے کو ان کے درمیان تقسیم فرما دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3613]
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو آدمیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور ایک اونٹ یا کسی جانور کا دعویٰ کیا لیکن کسی کے پاس گواہ نہیں تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ان دونوں کے مابین (آدھا آدھا) کر دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3613]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/آداب القضاة 34 (5426)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 11 (2330)، (تحفة الأشراف والإرواء: 2656)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/402) (ضعیف)» (قتادة سے مروی ان احادیث میں روایت ابو موسی اشعری سے ہے، اور بعض رواة اسے سعید بن ابی بردہ عن ابیہ مرسلاً روایت کیا ہے، اور بعض حفاظ نے اسے حرب سے مرسلاً صحیح مانا ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
سعيد بن أبي عروبة تابعه شعبة عند أحمد (4/402) وللحديث شواھد عند ابن حبان (1201) وغيره
سعيد بن أبي عروبة تابعه شعبة عند أحمد (4/402) وللحديث شواھد عند ابن حبان (1201) وغيره
حدیث نمبر: 3616
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلَاسٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،" أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا فِي مَتَاعٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اسْتَهِمَا عَلَى الْيَمِينِ مَا كَانَ أَحَبَّا ذَلِكَ أَوْ كَرِهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دو آدمی ایک سامان کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جھگڑا لے کر گئے اور دونوں میں سے کسی کے پاس کوئی گواہ نہیں تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دونوں قسم پر قرعہ اندازی کرو ۱؎ خواہ تم اسے پسند کرو یا ناپسند“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3616]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو آدمی کسی مال کا تنازع لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ ان میں سے کسی کے پاس گواہ نہیں تھا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم کھانے کے لیے قرعہ ڈال لو، جس کا بھی نکل آئے، تمہیں یہ پسند ہو یا نہ۔“ (اس کا یہی حل ہے کہ جو قسم کھائے گا مال لے لے گا)۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3616]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الأحکام 11 (2329)، (تحفة الأشراف: 14662)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/489، 524) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: قسم (حلف) پر قرعہ اندازی کا مطلب یہ ہے کہ جس کے نام قرعہ نکلے وہ قسم کھا کر سامان لے لے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (2329،2346)
قتادة وسعيد بن أبي عروبة مدلسان وعنعنا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 128
إسناده ضعيف
ابن ماجه (2329،2346)
قتادة وسعيد بن أبي عروبة مدلسان وعنعنا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 128
حدیث نمبر: 3618
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، بِإِسْنَادِ ابْنِ مِنْهَالٍ مِثْلَهُ، قَالَ: فِي دَابَّةٍ وَلَيْسَ لَهُمَا بَيِّنَةٌ، فَأَمَرَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْتَهِمَا عَلَى الْيَمِينِ.
سعید بن ابی عروبہ سے ابن منہال کی سند سے اسی کے مثل مروی ہے اس میں «في متاع» کے بجائے «في دابة» کے الفاظ ہیں یعنی دو شخصوں نے ایک چوپائے کے سلسلہ میں جھگڑا کیا اور ان کے پاس کوئی گواہ نہیں تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قسم پر قرعہ اندازی کا حکم دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3618]
جناب سعید بن ابی عروبہ رحمہ اللہ نے حجاج بن منہال رحمہ اللہ کی سند سے اس حدیث کے مثل روایت کیا، انہوں نے کہا کہ ”دو آدمیوں نے ایک جانور کے سلسلے میں جھگڑا کیا اور کسی کے پاس گواہ نہیں تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ قسم کھانے کے لیے قرعہ ڈالیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3618]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (3616)، (تحفة الأشراف: 14662) (صحیح) بما قبلہ»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (2329)
قتادة وسعيد بن أبي عروبة مدلسان وعنعنا (معاذ علي زئي)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 128
إسناده ضعيف
ابن ماجه (2329)
قتادة وسعيد بن أبي عروبة مدلسان وعنعنا (معاذ علي زئي)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 128