سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب في الأوعية
باب: شراب میں استعمال ہونے والے برتنوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 3698
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا مُعْرِّفُ بْنُ وَاصِلٍ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَيْتُكُمْ عَنْ ثَلَاثٍ، وَأَنَا آمُرُكُمْ بِهِنَّ: نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا فَإِنَّ فِي زِيَارَتِهَا تَذْكِرَةً، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ الْأَشْرِبَةِ أَنْ تَشْرَبُوا إِلَّا فِي ظُرُوفِ الْأَدَمِ فَاشْرَبُوا فِي كُلِّ وِعَاءٍ غَيْرَ أَنْ لَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ أَنْ تَأْكُلُوهَا بَعْدَ ثَلَاثٍ فَكُلُوا وَاسْتَمْتِعُوا بِهَا فِي أَسْفَارِكُمْ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں تین چیزوں سے روک دیا تھا، اب میں تمہیں ان کا حکم دیتا ہوں: میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے روکا تھا اب تم ان کی زیارت کرو کیونکہ یہ آخرت کو یاد دلاتی ہے ۱؎ اور میں نے تمہیں چمڑے کے علاوہ برتنوں میں پینے سے منع کیا تھا، لیکن اب تم ہر برتن میں پیو، البتہ کوئی نشہ آور چیز نہ پیو، اور میں نے تمہیں تین روز کے بعد قربانی کے گوشت کھانے سے منع کر دیا تھا، لیکن اب اسے بھی (جب تک چاہو) کھاؤ اور اپنے سفروں میں اس سے فائدہ اٹھاؤ“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3698]
جناب سلیمان بن بریدہ رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں تین باتوں سے روکا تھا، اب میں تمہیں ان کے بارے میں حکم دیتا ہوں؛ میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے روکا تھا، اب ان کی زیارت کو جایا کرو، بے شک ان کی زیارت میں عبرت اور نصیحت ہے، میں نے تمہیں چمڑوں کے برتنوں کے علاوہ کئی برتنوں میں پینے سے منع کیا تھا، تو سب قسم کے برتنوں میں پی سکتے ہو لیکن کوئی نشہ آور چیز مت پیو، میں نے تمہیں کہا تھا کہ قربانی کا گوشت تین دن کے بعد استعمال کرنا منع ہے تو اب اسے کھا سکتے ہو اور اپنے سفروں میں اس سے فائدہ اٹھاؤ۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3698]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجنائز 36 (977)، الأضاحي 5 (1977)، الأشربة 6 (1999)، سنن النسائی/الجنائز 100 (2034)، الأضاحي 36 (4434)، الأشربة 40 (5654، 5655)، (تحفة الأشراف: 2001)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأشربة 6 (1869)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 14 (3405)، مسند احمد (5/350، 355، 356، 357، 361) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ابتدائے اسلام میں لوگ بت پرستی چھوڑ کر نئے نئے مسلمان ہوئے تھے اس لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس خوف سے قبر کی زیارت سے منع فرما دیا کہ کہیں دوبارہ یہ شرک میں گرفتار نہ ہو جائیں لیکن جب عقیدہ توحید لوگوں کے دلوں میں راسخ ہو گیا اور شرک اور توحید کا فرق واضح طور پر دل و دماغ میں رچ بس گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف یہ کہ انہیں زیارت قبور کی اجازت دی بلکہ اس کا فائدہ بھی بیان کر دیا کہ اس سے عبرت حاصل ہوتی ہے اور یہ آخرت کو یاد دلاتی ہے اور یہ فائدہ اس لئے بھی بتایا کہ ایسا نہ ہو کہ لوگ اہل قبور سے حاجت روائی چاہنے لگیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (977)
حدیث نمبر: 3234
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيَسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرَ أُمِّهِ، فَبَكَى وَأَبْكَى مَنْ حَوْلَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي تَعَالَى عَلَى أَنْ أَسْتَغْفِرَ لَهَا، فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي، فَاسْتَأْذَنْتُ أَنْ أَزُورَ قَبْرَهَا، فَأَذِنَ لِي، فَزُورُوا الْقُبُورَ، فَإِنَّهَا تُذَكِّرُ بِالْمَوْتِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی والدہ کی قبر پر آئے تو رو پڑے اور اپنے آس پاس کے لوگوں کو (بھی) رلا دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب سے اپنی ماں کی مغفرت طلب کرنے کی اجازت مانگی تو مجھے اجازت نہیں دی گئی، پھر میں نے ان کی قبر کی زیارت کرنے کی اجازت چاہی تو مجھے اس کی اجازت دے دی گئی، تو تم بھی قبروں کی زیارت کیا کرو کیونکہ وہ موت کو یاد دلاتی ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3234]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی والدہ کی قبر پر آئے تو رو پڑے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد ساتھی بھی رو دیے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب تعالیٰ سے اجازت چاہی کہ اس کے لیے بخشش کی دعا کروں مگر مجھے اجازت نہیں دی گئی، پھر میں نے اجازت چاہی کہ اس کی قبر کی زیارت کر لوں تو مجھے اجازت دے دی گئی، چنانچہ تم بھی قبروں کی زیارت کیا کرو، بلاشبہ اس سے موت یاد آتی ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3234]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجنائز 36 (976)، سنن النسائی/الجنائز 101 (2036)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 48 (1572)، (تحفة الأشراف: 13439)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/441) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (976)
حدیث نمبر: 3235
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا مُعَرِّفُ بْنُ وَاصِلٍ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ، فَزُورُوهَا، فَإِنَّ فِي زِيَارَتِهَا تَذْكِرَةً".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تم کو قبروں کی زیارت سے روکا تھا سو اب زیارت کرو کیونکہ ان کی زیارت میں موت کی یاددہانی ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3235]
سیدنا (سلیمان) ابن بریدہ اپنے والد (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے روکا تھا، چنانچہ اب ان کی زیارت کیا کرو۔ بلاشبہ ان کی زیارت میں (موت کی) یاد دہانی ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3235]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجنائز 36 (977)، والأضاحي 5 (1977)، والأشربة 6 (1999)، سنن النسائی/الجنائز 100 (2034)، الأضاحي 36 (4441)، الأشربة 40 (5654، 5655، 5656، 5557)، (تحفة الأشراف: 2001)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/350، 355، 356، 357، 361) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (977)
حدیث نمبر: 3679
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى فِي آخَرِينَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ، وَمَنْ مَاتَ وَهُوَ يَشْرَبُ الْخَمْرَ يُدْمِنُهَا لَمْ يَشْرَبْهَا فِي الْآخِرَةِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز شراب ہے، اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۱؎، اور جو مر گیا اور وہ شراب پیتا تھا اور اس کا عادی تھا تو وہ آخرت میں اسے نہیں پئے گا (یعنی جنت کی شراب سے محروم رہے گا)“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3679]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نشہ آور شے «خَمْرٌ» (شراب) ہے اور ہر نشہ آور حرام ہے، اور جو شخص اس حالت پر مر گیا کہ وہ شراب پیتا تھا تو وہ آخرت میں نہیں پیے گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3679]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الأشربة 8 (2003) سنن الترمذی/الأشربة 1 (1861)، سنن النسائی/الأشربة 46 (5676، 5677)، (تحفة الأشراف: 7516)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأشربة 1 (5575)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 1 (3377)، مسند احمد (2/19، 22، 28، 35، 198، 123) سنن الدارمی/الأشربة 3 (2135) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بدمست کر دینے والی اور نشہ لانے والی چیزوں کو شراب کہا جاتا ہے اور یہ حرام ہے، یہ نشہ آور شراب کھجور سے ہو یا منقی، شہد، گیہوں اور جوار باجرہ سے، یا کسی درخت کا نچوڑا ہوا عرق ہو جیسے تاڑی یا کوئی گھاس ہو جیسے بھانگ وغیرہ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2003)
حدیث نمبر: 3681
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ بَكْرِ بْنِ أَبِي الْفُرَاتِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ آور ہو اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3681]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس چیز کی کثیر مقدار نشہ آور ہو اس کی قلیل مقدار بھی حرام ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3681]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الأشربة 3 (1865)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 10 (3393)، (تحفة الأشراف: 3014)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/343) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3645)
أخرجه الترمذي (1865 وسنده حسن) ورواه ابن ماجه (3393 وسنده حسن)
مشكوة المصابيح (3645)
أخرجه الترمذي (1865 وسنده حسن) ورواه ابن ماجه (3393 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 3685
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو: أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" نَهَى عَنِ الْخَمْرِ، وَالْمَيْسِرِ، وَالْكُوبَةِ، وَالْغُبَيْرَاءِ، وَقَالَ: كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ ابْنُ سَلَامٍ أَبُو عُبَيْدٍ: الْغُبَيْرَاءُ: السُّكْرُكَةُ تُعْمَلُ مِنَ الذُّرَةِ، شَرَابٌ يَعْمَلُهُ الْحَبَشَةُ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب، جوا، کوبہ (چوسر یا ڈھولک) اور غبیراء سے منع کیا، اور فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن سلام ابو عبید نے کہا ہے: غبیراء ایسی شراب ہے جو مکئی سے بنائی جاتی ہے حبشہ کے لوگ اسے بناتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3685]
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب، جوئے، سارنگی اور «الْغُبَيْرَاءُ» ”غبیراء“ سے منع فرمایا ہے، اور فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن سلام ابو عبید نے کہا کہ: ” «الْغُبَيْرَاءُ» ”غبیراء“ مکئی، جوار وغیرہ سے بنائی جانے والی شراب ہے جو اہل حبشہ بناتے ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3685]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 8942)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/158، 171) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (3652، 4504)
وللحديث شواھد انظر الحديث السابق (3696)
مشكوة المصابيح (3652، 4504)
وللحديث شواھد انظر الحديث السابق (3696)
حدیث نمبر: 3696
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ، حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ حَبْتَرٍ النَّهْشَلِيُّ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ، قَالُوا:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، فِيمَ نَشْرَبُ؟، قَالَ: لَا تَشْرَبُوا فِي الدُّبَّاءِ، وَلَا فِي الْمُزَفَّتِ، وَلَا فِي النَّقِيرِ، وَانْتَبِذُوا فِي الْأَسْقِيَةِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنِ اشْتَدَّ فِي الْأَسْقِيَةِ؟، قَالَ: فَصُبُّوا عَلَيْهِ الْمَاءَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ لَهُمْ فِي الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ: أَهْرِيقُوهُ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيَّ أَوْ حُرِّمَ الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْكُوبَةُ، قَالَ: وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ"، قَالَ سُفْيَانُ: فَسَأَلْتُ عَلِيَّ بْنَ بَذِيمَةَ عَنْ الْكُوبَةِ، قَالَ: الطَّبْلُ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں وفد عبدالقیس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کس برتن میں پیئیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دباء، مزفت اور نقیر میں مت پیو، اور تم نبیذ مشکیزوں میں بنایا کرو“ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول اگر مشکیزے میں تیزی آ جائے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس میں پانی ڈال دیا کرو“ وفد کے لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! (اگر پھر بھی تیزی نہ جائے تو) آپ نے ان سے تیسری یا چوتھی مرتبہ فرمایا: ”اسے بہا دو ۱؎“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھ پر شراب، جوا، اور ڈھولک کو حرام قرار دیا ہے“ یا یوں کہا: ”شراب، جوا، اور ڈھول ۲؎ حرام قرار دے دی گئی ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے“۔ سفیان کہتے ہیں: میں نے علی بن بذیمہ سے کوبہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: وہ ڈھول ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3696]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وفدِ عبدالقیس کے لوگوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہم کس میں پیئیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کدو کے برتن (تونبے)، تارکول لگے برتن اور لکڑی کے برتن میں مت پیو، اپنے مشکیزوں میں نبیذ بنایا کرو۔“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! اگر مشکیزوں میں ہوتے ہوئے بھی اس میں شدت آ جائے تو؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس میں مزید پانی ڈال لیا کرو۔“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول!“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری یا چوتھی بار فرمایا: ”اسے بہا ڈالو۔“ پھر فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مجھ پر حرام فرمایا ہے“ یا کہا: ”حرام کی گئی ہے: «الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْكُوبَةُ» ”شراب، جوا اور کوبہ“۔“ اور فرمایا: ”ہر نشہ دینے والی چیز حرام ہے۔“ سفیان ثوری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے علی بن بذیمہ رحمہ اللہ سے «الْكُوبَةُ» کی وضاحت پوچھی تو انہوں نے کہا: ”اس سے مراد ڈھول ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3696]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم:(3690)، (تحفة الأشراف: 6333)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/274، 289، 350) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نبیذ کا استعمال صرف اس وقت تک درست ہے جب تک کہ اس میں تیزی سے جھاگ نہ اٹھنے لگے، اگر اس میں تیزی کے ساتھ جھاگ اٹھنے لگے تو اس کا استعمال جائز نہیں ہے۔
۲؎: حدیث میں «کوبۃ» کا لفظ ہے جس کے معنی: شطرنج، نرد، ڈگڈگی، بربط اور دوا وغیرہ پیسنے کے بٹہ کے آتے ہیں، یہاں پر علی بن بذیمۃ کی تفسیر کے مطابق «کوبۃ» کا ترجمہ ”ڈھول“ سے کیا گیا ہے۔
۲؎: حدیث میں «کوبۃ» کا لفظ ہے جس کے معنی: شطرنج، نرد، ڈگڈگی، بربط اور دوا وغیرہ پیسنے کے بٹہ کے آتے ہیں، یہاں پر علی بن بذیمۃ کی تفسیر کے مطابق «کوبۃ» کا ترجمہ ”ڈھول“ سے کیا گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (4503)
مشكوة المصابيح (4503)
حدیث نمبر: 3699
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" لَمَّا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْأَوْعِيَةِ، قَالَ: قَالَتْ الْأَنْصَارُ: إِنَّهُ لَا بُدَّ لَنَا، قَالَ: فَلَا إذًا".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتنوں کے استعمال سے منع فرمایا تو انصار کے لوگوں نے آپ سے عرض کیا: وہ تو ہمارے لیے بہت ضروری ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تب ممانعت نہیں رہی“ (تمہیں ان کی اجازت ہے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3699]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتنوں سے منع فرمایا تو انصار نے کہا: ہمیں ان برتنوں کے استعمال سے کوئی چارہ نہیں ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر کوئی حرج نہیں۔“ (استعمال کر سکتے ہو)۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3699]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأشربة 8 (5592)، سنن الترمذی/الأ شربة 6 (1870)، سنن النسائی/الأشربة 40 (5659)، (تحفة الأشراف: 2240)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/302) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5592)
حدیث نمبر: 3700
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ زِيَادِ بْنِ فَيَّاضٍ، عَنْ أَبِي عَيَّاضٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ:" ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَوْعِيَةَ الدُّبَّاءَ، وَالْحَنْتَمَ، وَالْمُزَفَّتَ، وَالنَّقِيرَ، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: إِنَّهُ لَا ظُرُوفَ لَنَا، فَقَالَ: اشْرَبُوا مَا حَلَّ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء، حنتم، مزفت، اور نقیر کے برتنوں کا ذکر کیا ۱؎ تو ایک دیہاتی نے عرض کیا: ہمارے پاس تو اور کوئی برتن ہی نہیں رہا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا جو حلال ہوا سے پیو“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3700]
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے برتنوں کا ذکر فرمایا، یعنی کدو کا برتن (تونبہ)، روغن ملا ہوا سبز برتن، روغن زفت لگا ہوا برتن اور لکڑی کھود کر بنایا جانے والا برتن، تو ایک اعرابی نے کہا: ”(ان کے علاوہ) ہمارے پاس اور کوئی برتن ہی نہیں ہوتے“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(تو پھر صرف) وہی پیو جو حلال ہو۔“ (یعنی محض برتن سے کوئی چیز حلال یا حرام نہیں ہوتی مشروب کے حرام نہ ہونے کی صورت میں ان برتنوں کو استعمال کر سکتے ہو)۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3700]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأشربة 8 (5594)، صحیح مسلم/الأشربة 6 (2000)، (تحفة الأشراف: 8895)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/211) (صحیح) (کلاھمابلفظ: ''فأرخص لہ في الجر غیر المزفت'')»
وضاحت: ۱؎: یعنی ان کے استعمال سے منع کیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5593) صحيح مسلم (2000)