🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. باب ما جاء في الذهب للنساء
باب: عورتوں کے سونا پہننے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4239
حَدَّثَنَ حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ مَيْمُونٍ الْقَنَّادِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيًانَ:" أَنّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ رُكُوبِ النِّمَارِ وَعَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ إِلَّا مُقَطَّعًا"، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبُو قِلَابَةَ لَمْ يَلْقَ مُعَاوِيَةَ.
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چیتوں کی کھال پر سواری کرنے اور سونا پہننے سے منع فرمایا ہے مگر جب «مقطّع» یعنی تھوڑا اور معمولی ہو ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوقلابہ کی ملاقات معاویہ رضی اللہ عنہ سے نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الخاتم /حدیث: 4239]
سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چیتوں کے چمڑے کی گدی یا زین پوش پر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے اور سونا پہننے سے بھی منع کیا ہے الا یہ کہ معمولی ہو۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابوقلابہ کی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الخاتم /حدیث: 4239]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الزینة 40 (5152)، (تحفة الأشراف: 11461)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/92، 93، 95، 98، 99) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہ رخصت عورتوں کے لئے ہے مردوں کے لئے سونا مطلقا حرام ہے چاہے کم ہو یا زیادہ،عورتوں کے لئے جنس سونا حرام نہیں، سونے کی اتنی مقدار جس میں زکاۃ واجب نہیں وہ اپنے استعمال میں لا سکتی ہیں، البتہ اس سے زائد مقدار ان کے لئے بھی درست نہیں کیونکہ بسا اوقات بخل کے سبب وہ زکاۃ سے گریز کرنے لگتی ہیں جو ان کے گناہ اور حرج میں پڑ جانے کا سبب بن جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (4395)
وله شاھد عند النسائي (5162 وسنده صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4129
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ أَبِي الْمُعْتَمِرِ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَا تَرْكَبُوا الْخَزَّ وَلَا النِّمَارَ"، قَالَ: وَكَانَ مُعَاوِيَةُ لَا يُتَّهَمُ فِي الْحَدِيثِ عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَنَا أَبُو سَعِيدٍ: قَالَ لَنَا أَبُو دَاوُدَ: أَبُو الْمُعْتَمِرِ اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ طَهْمَانَ كَانَ يَنْزِلُ الْحِيَرَةَ.
امیر المؤمنین معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ریشمی زینوں پر اور چیتوں کی کھال پر سواری نہ کرو۔ ابن سیرین کہتے ہیں: معاویہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث کی روایت میں متہم نہ تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الخاتم /حدیث: 4129]
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «خَزّ» (ریشم) کے کپڑے اور چیتے کی کھال کو اپنی گدی مت بناؤ۔ (انہیں بطور زین یا زین پوش استعمال نہ کرو۔) ابن سیرین رحمہ اللہ نے کہا: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت حدیث میں متہم نہیں تھے۔ (ان کی سیاسی آراء سے کسی کو اختلاف ہو تو الگ بات ہے ورنہ فرامین رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نقل میں نہایت قابل اعتماد تھے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الخاتم /حدیث: 4129]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11429)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/اللباس 47 (3656)، مسند احمد (4/93، 94) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (4357)
أخرجه ابن ماجه (3656 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں