سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
36. باب الحد في الخمر
باب: شراب کی حد کا بیان۔
حدیث نمبر: 4479
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ الْمَعْنَى، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَدَ فِي الْخَمْرِ بِالْجَرِيدِ وَالنِّعَالِ وَجَلَدَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَرْبَعِينَ، فَلَمَّا وُلِّيَ عُمَرُ دَعَا النَّاسَ، فَقَالَ لَهُمْ: إِنَّ النَّاسَ قَدْ دَنَوْا مِنَ الرِّيفِ، وَقَالَ مُسَدَّدٌ: مِنَ الْقُرَى وَالرِّيفِ فَمَا تَرَوْنَ فِي حَدِّ الْخَمْرِ؟ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ: نَرَى أَنْ تَجْعَلَهُ كَأَخَفِّ الْحُدُودِ فَجَلَدَ فِيهِ ثَمَانِينَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ جَلَدَ بِالْجَرِيدِ وَالنِّعَالِ أَرْبَعِينَ، وَرَوَاهُ شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ضَرَبَ بِجَرِيدَتَيْنِ نَحْوَ الْأَرْبَعِينَ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب پینے پر کھجور کی ٹہنیوں اور جوتوں سے مارا، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چالیس کوڑے لگائے، پھر جب عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو آپ نے لوگوں کو بلایا، اور ان سے کہا: لوگ گاؤں سے قریب ہو گئے ہیں (اور مسدد کی روایت میں ہے) بستیوں اور گاؤں سے قریب ہو گئے ہیں (یعنی شراب زیادہ پینے لگے ہیں) تو اب شراب کی حد کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ تو عبدالرحمٰن بن عوف نے ان سے کہا: ہماری رائے یہ ہے کہ سب سے ہلکی جو حد ہے وہی آپ اس میں مقرر کر دیں، چنانچہ اسی (۸۰) کوڑے مارنے کا حکم ہوا (کیونکہ سب سے ہلکی حد یہی حدقذف تھی)۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن ابی عروبہ نے قتادہ سے، قتادہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی ٹہنیوں اور جوتوں سے چالیس مار ماریں۔ اور اسے شعبہ نے قتادہ سے، قتادہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ نے کھجور کی دو ٹہنیوں سے چالیس کے قریب مار ماریں۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4479]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب نوشی کی حد میں کھجور کی چھڑیوں اور جوتوں سے مارا ہے۔ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چالیس درے (کوڑے) لگائے۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے صحابہ کو بلایا اور ان سے مشورہ چاہا کہ ”لوگ اپنے کھیتوں اور زمینوں میں چلے گئے ہیں۔ (یعنی جہاں کھجوریں اور انگور وغیرہ کی فراوانی ہے اور وہ شراب پینے لگے ہیں)۔“ مسدد کے الفاظ میں ہے کہ ”لوگ بستیوں اور زمینوں میں چلے گئے ہیں۔ تو تم لوگ شراب کی حد کے بارے میں کیا کہتے ہو؟“ تو سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ہم سمجھتے ہیں کہ آپ اسے سب سے ہلکی حد کی مانند کر دیں۔“ چنانچہ انہوں نے اس میں اسی درے (کوڑے) لگائے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن ابی عروبہ نے بواسطہ قتادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث بیان کی کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی چھڑیوں اور جوتوں سے چالیس ضربیں لگائیں۔“ جبکہ شعبہ نے قتادہ سے بواسطہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا تو کہا کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی دو شاخوں سے تقریباً چالیس ضربیں لگائیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4479]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحدود 2 (6773)، صحیح مسلم/الحدود 8 (1706)، سنن الترمذی/الحدود 14 (1443)، سنن ابن ماجہ/الحدود 16 (2570)، (تحفة الأشراف: 1352)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/115، 180)، سنن الدارمی/الحدود 9 (2357) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6773) صحيح مسلم (1706)
حدیث نمبر: 4477
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ، فَقَالَ: اضْرِبُوهُ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَمِنَّا الضَّارِبُ بِيَدِهِ وَالضَّارِبُ بِنَعْلِهِ وَالضَّارِبُ بِثَوْبِهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: أَخْزَاكَ اللَّهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَقُولُوا هَكَذَا لَا تُعِينُوا عَلَيْهِ الشَّيْطَانَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا جس نے شراب پی رکھی تھی، تو آپ نے فرمایا: ”اسے مارو“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو ہم میں سے کسی نے ہاتھ سے، کسی نے جوتے سے، اور کسی نے کپڑے سے، اسے مارا، پھر جب فارغ ہوئے تو کسی نے کہا: اللہ تجھے رسوا کرے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا نہ کہو اس کے خلاف شیطان کی مدد نہ کرو“۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4477]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی لایا گیا جس نے شراب پی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مارو۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم میں سے کسی نے اسے ہاتھ سے مارا، کسی نے جوتے سے مارا اور کسی نے کپڑے سے مارا۔ جب وہ آدمی وہاں سے چلا تو قوم میں سے کسی نے کہہ دیا: ”اللہ تجھے رسوا کرے۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس طرح مت کہو، اس کے خلاف شیطان کی مدد مت کرو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4477]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحدود 4 (6777)، 5 (6781)، (تحفة الأشراف: 14999)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/299، 300) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6777)
مشكوة المصابيح (3621)
مشكوة المصابيح (3621)
حدیث نمبر: 4481
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ الدَّانَاجِ، عَنْ حُضَيْنِ بْنِ الْمُنْذِرِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" جَلَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمْرِ وَأَبُو بَكْرٍ أَرْبَعِينَ وَكَمَّلَهَا عُمَرُ ثَمَانِينَ، وَكُلٌّ سُنَّةٌ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وقَالَ الْأَصْمَعِيُّ: وَلِّ حَارَّهَا مَنْ تَوَلَّيْ قَارَّهَا وَلِّ شَدِيدَهَا مَنْ تَوَلَّى هَيِّنَهَا، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا كَانَ سَيِّدَ قَوْمِهِ حُضَيْنُ بْنُ الْمُنْذِرِ أَبُو سَاسَانَ.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے شراب میں چالیس کوڑے ہی مارے، اور عمر رضی اللہ عنہ نے اسی کوڑے پورے کئے، اور یہ سب سنت ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اصمعی کہتے ہیں: «من تولى قارها ول شديدها من تولى هينها» کے معنی یہ ہیں جو خلافت کی آسانیوں کا ذمہ دار رہا ہے اسی کو اس کی دشواریوں کا ذمہ دار رہنا چاہیئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ اپنی قوم کے سردار تھے یعنی حضین بن منذر ابوساسان۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4481]
حضین بن منذر، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ”شراب کی حد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چالیس ضربیں ماریں اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو اسی (80) سے پورا کیا، اور سب ہی سنت ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اصمعی نے «وَلِّ حَارَّهَا الخ» کا مفہوم یہ بیان کیا کہ ”اس معاملے کی سختی اور شدت اسی کے سپرد ہونی چاہیے جو اس کی نرمی اور راحت سے مستفید ہوتا ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”حضین بن منذر ابوساسان اپنی قوم کا سردار تھا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4481]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 10080) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1707)
حدیث نمبر: 4487
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ الْمِصْرِيُّ ابْنُ أَخِي رِشْدِينَ بْنِ سَعْدٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ حَدَّثَهُ،عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ، قَالَ:" كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْآنَ وَهُوَ فِي الرِّحَالِ يَلْتَمِسُ رَحْلَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ الْخَمْرَ، فَقَالَ لِلنَّاسِ: اضْرِبُوهُ، فَمِنْهُمْ مَنْ ضَرَبَهُ بِالنِّعَالِ وَمِنْهُمْ مَنْ ضَرَبَهُ بِالْعَصَا وَمِنْهُمْ مَنْ ضَرَبَهُ بِالْمِيتَخَةِ، قَالَ ابْنُ وَهْبٍ: الْجَرِيدَةُ الرَّطْبَةُ، ثُمَّ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُرَابًا مِنَ الْأَرْضِ فَرَمَى بِهِ فِي وَجْهِهِ".
عبدالرحمٰن بن ازہر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ گویا میں اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں آپ کجاؤں کے درمیان میں کھڑے تھے، خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا کجاوہ ڈھونڈ رہے تھے، آپ اسی حالت میں تھے کہ اتنے میں ایک شخص لایا گیا جس نے شراب پی رکھی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے کہا: ”اسے مارو“، تو کسی نے جوتے سے، کسی نے چھڑی سے، اور کسی نے کھجور کی ٹہنی سے اسے مارا (ابن وہب کہتے ہیں) «ميتخة» کے معنی کھجور کی تر ٹہنی کے ہیں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین سے مٹی لی اور اس کے چہرے پر ڈال دی۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4487]
سیدنا عبدالرحمٰن بن ازہر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ”گویا کہ میں اب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پالانوں میں کھڑے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا پالان تلاش کر رہے تھے کہ اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی لایا گیا جس نے شراب پی رکھی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے کہا: ”اس کو مارو۔“ چنانچہ بعض نے اس کو جوتوں سے مارا، بعض نے لاٹھی سے اور بعض نے «مِيتَخَة» سے۔ ابن وہب نے وضاحت کی کہ ”اس سے مراد کھجور کی تروتازہ چھڑی ہے۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین سے کچھ مٹی لی اور اس کے منہ پر ماری۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4487]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 9685)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/87، 88، 350، 351) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الزھري صرح بالسماع
الزھري صرح بالسماع
حدیث نمبر: 4488
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ خَالِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَزْهَرِ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَارِبٍ وَهُوَ بِحُنَيْنٍ، فَحَثَى فِي وَجْهِهِ التُّرَابَ ثُمَّ أَمَرَ أَصْحَابَهُ فَضَرَبُوهُ بِنِعَالِهِمْ وَمَا كَانَ فِي أَيْدِيهِمْ، حَتَّى قَالَ لَهُمْ: ارْفَعُوا فَرَفَعُوا، فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ جَلَدَ أَبُو بَكْرٍ فِي الْخَمْرِ أَرْبَعِينَ، ثُمَّ جَلَدَ عُمَرُ أَرْبَعِينَ صَدْرًا مِنْ إِمَارَتِهِ، ثُمَّ جَلَدَ ثَمَانِينَ فِي آخِرِ خِلَافَتِهِ، ثُمَّ جَلَدَ عُثْمَانُ الْحَدَّيْنِ كِلَيْهِمَا ثَمَانِينَ وَأَرْبَعِينَ، ثُمَّ أَثْبَتَ مُعَاوِيَةُ الْحَدَّ ثَمَانِينَ".
عبدالرحمٰن بن ازہر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شرابی لایا گیا، اور آپ حنین میں تھے، آپ نے اس کے منہ پر خاک ڈال دی، پھر اپنے اصحاب کو حکم دیا تو انہوں نے اسے اپنے جوتوں سے، اور جو چیزیں ان کے ہاتھوں میں تھیں ان سے مارا، یہاں تک کہ آپ فرمانے لگے: ”بس کرو، بس کرو“ تب لوگوں نے اسے چھوڑا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے تو آپ کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی شراب کی حد میں چالیس کوڑے مارتے رہے، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی خلافت کے شروع میں چالیس کوڑے ہی مارے، پھر خلافت کے اخیر میں انہوں نے اسی کوڑے مارے، پھر عثمان رضی اللہ عنہ نے کبھی اسی کوڑے اور کبھی چالیس کوڑے مارے، پھر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اسی کوڑوں کی تعیین کر دی۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4488]
جناب عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ازہر اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شرابی لایا گیا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حنین میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے منہ پر مٹی ماری۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا تو انہوں نے اس کو جوتوں سے اور جو ان کے ہاتھ میں تھا اس سے مارا، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بس کرو۔“ تو وہ رک گئے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے شراب پینے پر چالیس ضربیں لگائیں۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اپنے ابتدائی دور میں چالیس ضربیں ہی لگائیں اور آخری دور میں اسی لگانے لگے۔ پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے دونوں طرح عمل کیا، اسی بھی اور چالیس بھی۔ پھر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے یہ حد اسی (80) دروں پر پختہ کر دی۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4488]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 9685) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
أخرجه النسائي في الكبريٰ (5283)
أخرجه النسائي في الكبريٰ (5283)
حدیث نمبر: 4489
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ الْفَتْحِ وَأَنَا غُلَامٌ شَابٌّ يَتَخَلَّلُ النَّاسَ يَسْأَلُ عَنْ مَنْزِلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، فَأُتِيَ بِشَارِبٍ فَأَمَرَهُمْ فَضَرَبُوهُ بِمَا فِي أَيْدِيهِمْ فَمِنْهُمْ مَنْ ضَرَبَهُ بِالسَّوْطِ وَمِنْهُمْ مَنْ ضَرَبَهُ بِعَصًا وَمِنْهُمْ مَنْ ضَرَبَهُ بِنَعْلِهِ، وَحَثَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التُّرَابَ، فَلَمَّا كَانَ أَبُو بَكْرٍ أُتِيَ بِشَارِبٍ فَسَأَلَهُمْ عَنْ ضَرْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي ضَرَبَهُ فَحَزَرُوهُ أَرْبَعِينَ، فَضَرَبَ أَبُو بَكْرٍ أَرْبَعِينَ، فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ كَتَبَ إِلَيْهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ: إِنَّ النَّاسَ قَدِ انْهَمَكُوا فِي الشُّرْبِ وَتَحَاقَرُوا الْحَدَّ وَالْعُقُوبَةَ، قَالَ: هُمْ عِنْدَكَ فَسَلْهُمْ وَعِنْدَهُ الْمُهَاجِرُونَ الْأَوَّلُونَ، فَسَأَلَهُمْ فَأَجْمَعُوا عَلَى أَنْ يَضْرِبَ ثَمَانِينَ، قَالَ: وقَالَ عَلِيٌّ: إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا شَرِبَ افْتَرَى فَأَرَى أَنْ يَجْعَلَهُ كَحَدِّ الْفِرْيَةِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَدْخَلَ عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ بَيْنَ الزُّهْرِيِّ، وَبَيْنَ ابْنِ الْأَزْهَرِ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ: عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَزْهَرِ، عَنْ أَبِيهِ.
عبدالرحمٰن بن ازہر کہتے ہیں کہ میں نے فتح مکہ کے دوسرے دن صبح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا میں ایک کمسن لڑکا تھا، لوگوں میں گھس کر آیا جایا کرتا تھا، آپ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی قیام گاہ ڈھونڈ رہے تھے کہ اتنے میں ایک شرابی لایا گیا، آپ نے اسے مارنے کا حکم دیا، تو لوگوں کے ہاتھوں میں جو چیز بھی تھی اسی سے انہوں نے اس کی پٹائی کی، کسی نے اسے کوڑے سے، کسی نے لاٹھی سے، کسی نے جوتے سے پیٹا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے منہ پر مٹی ڈال دی، پھر جب ابوبکر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو ان کے پاس ایک شرابی لایا گیا تو انہوں نے لوگوں سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس مار کے متعلق دریافت کیا جسے آپ نے مارا تھا تو لوگوں نے اس کا اندازہ لگایا کہ یہ چالیس کوڑے رہے ہوں گے، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کی حد چالیس کوڑے مقرر کر دی، پھر جب عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو خالد بن ولید نے انہیں لکھا کہ لوگ کثرت سے شراب پینے لگے ہیں اور اس کی حد اور سزا کو کوئی اہمیت نہیں دیتے اور لکھا کہ لوگ آپ کے پاس ہیں ان سے پوچھ لیں، اس وقت ان کے پاس مہاجرین اولین موجود تھے، آپ نے ان سے پوچھا تو سب کا اس بات پر اتفاق ہو گیا کہ اسی کوڑے مارے جائیں، علی رضی اللہ عنہ نے کہا: آدمی جب شراب پیتا ہے تو بہتان باندھتا ہے اس لیے میری رائے یہ ہے کہ اس کی حد بہتان کی حد کر دی جائے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4489]
سیدنا عبدالرحمٰن بن ازہر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کی صبح کو دیکھا، میں اس موقع پر خوب جوان تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان میں سے جا رہے تھے اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا پڑاؤ دریافت فرما رہے تھے کہ ایک شرابی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا تو انہوں نے اس کو جو ان کے ہاتھ میں تھا، مارا۔ بعض نے کوڑا مارا، بعض نے لاٹھی ماری، بعض نے اپنا جوتا مارا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر مٹی پھینکی۔“ پھر جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا دور آیا تو ایک شراب نوش لایا گیا، تو انہوں نے صحابہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل دریافت فرمایا کہ انہوں نے کس قدر مارا تھا۔ تو انہوں نے اس کا اندازہ چالیس ضربوں کا لگایا۔ چنانچہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چالیس ضربیں لگائیں۔ پھر جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا دور آیا تو سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ان کو لکھا کہ لوگ شراب پینے میں منہمک ہو گئے ہیں اور اس حد اور سزا کو وہ معمولی سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا: ”صحابہ کرام آپ کے پاس ہیں ان سے دریافت کیجیے۔“ اور آپ کے پاس دورِ اول کے مہاجر صحابہ موجود تھے، تو آپ نے ان سے مشورہ کیا۔ انہوں نے اتفاق کیا کہ ایسے لوگوں کو اسی (80) ضربیں لگائی جائیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ”تحقیق شرابی جب شراب پیتا ہے تو جھوٹ بولتا اور تہمت لگاتا ہے، سو میں سمجھتا ہوں کہ اس حد کو تہمت کی حد کی مانند کر دیا جائے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: ”عقیل بن خالد نے اس روایت کی سند میں زہری اور عبدالرحمٰن بن ازہر کے مابین «عَبْدُ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ عَنْ أَبِيهِ» ”عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ازہر عن ابیہ“ کا اضافہ کر دیا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4489]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (4487)، (تحفة الأشراف: 9685) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (3620)
انظر الحديث السابق (4488)
مشكوة المصابيح (3620)
انظر الحديث السابق (4488)