🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. باب القود من الضربة وقص الأمير من نفسه
باب: مار پیٹ کا قصاص اور امیر کو اپنے سے قصاص دلوانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4536
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ عُبَيْدَةَ بْنِ مُسَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ:" بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ قَسْمًا أَقْبَلَ رَجُلٌ فَأَكَبَّ عَلَيْهِ، فَطَعَنَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُرْجُونٍ كَانَ مَعَهُ فَجُرِحَ بِوَجْهِهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعَالَ فَاسْتَقِدْ فَقَالَ بَلْ عَفَوْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ تقسیم کر رہے تھے کہ اسی دوران ایک شخص آیا اور آپ کے اوپر جھک گیا تو اس کے چہرے پر خراش آ گئی تو آپ نے ایک لکڑی جو آپ کے پاس تھی اسے چبھو دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: آؤ قصاص لے لو ۱؎ وہ بولا: اللہ کے رسول! میں نے معاف کر دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4536]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ تقسیم کر رہے تھے کہ ایک آدمی آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر جھک گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کھجور کی لاٹھی سے جو آپ کے پاس تھی اسے کچوکا دیا، پس اس سے اس کا چہرہ زخمی ہو گیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: آؤ اور اپنا بدلہ لے لو۔ اس نے جواب دیا: اے اللہ کے رسول! میں نے معاف کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4536]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/القسامة 16 (4777)، (تحفة الأشراف: 4147)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/28) (ضعیف)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: سبحان اللہ! رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کس قدر عادل تھے کہ جو تکلیف کسی کو غلطی سے پہنچ جاتی اس سے بھی قصاص لینے کو کہتے اور اپنی عظمت کا خیال نہ کرتے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (4777)
عبيدة بن مسافح،لم يوثقه غير ابن حبان فھو مجھول الحال
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 159

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5224
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ , أَخْبَرَنَا خَالِدٌ , عَنْ حُصَيْنٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ , قال:" يُحَدِّثُ الْقَوْمَ وَكَانَ فِيهِ مِزَاحٌ بَيْنَا يُضْحِكُهُمْ , فَطَعَنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَاصِرَتِهِ بِعُودٍ , فَقَالَ: أَصْبِرْنِي , فَقَالَ: اصْطَبِرْ , قَالَ: إِنَّ عَلَيْكَ قَمِيصًا وَلَيْسَ عَلَيَّ قَمِيصٌ , فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَمِيصِهِ , فَاحْتَضَنَهُ وَجَعَلَ يُقَبِّلُ كَشْحَهُ , قَالَ: إِنَّمَا أَرَدْتُ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ".
اسید بن حضیرانصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ کچھ لوگوں سے باتیں کر رہے تھے اور وہ مسخرے والے آدمی تھے لوگوں کو ہنسا رہے تھے کہ اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی کوکھ میں لکڑی سے ایک کونچہ دیا، تو وہ بولے: اللہ کے رسول! مجھے اس کا بدلہ دیجئیے، آپ نے فرمایا: بدلہ لے لو تو انہوں نے کہا: آپ تو قمیص پہنے ہوئے ہیں میں تو ننگا تھا، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قمیص اٹھا دی، تو وہ آپ سے چمٹ گئے، اور آپ کے پہلو کے بوسے لینے لگے، اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! میرا منشأ یہی تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 5224]
جناب عبدالرحمٰن بن ابو لیلیٰ، سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں اور یہ انصار میں سے تھے کہ یہ ایک دفعہ اپنی قوم سے باتیں کر رہے تھے، مزاحیہ آدمی تھے اور انہیں ہنسا رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی کوکھ میں ایک لکڑی چبھو دی۔ تو انہوں نے (اسید بن حضیر نے) کہا: مجھے بدلہ دیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لے لو۔ انہوں نے کہا: آپ پر تو قمیص ہے اور مجھ پر قمیص نہیں تھی۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قمیص اوپر کر دی۔ تو اسید رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے بازوؤں میں لے لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو پر بوسے دینے لگے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! میری یہی نیت تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 5224]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 151) (صحیح الإسناد)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (4685)
وله لون الآخر عند الحاكم (3/288 ح5262 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں