🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. باب الدية كم هي
باب: دیت کی مقدار کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4542
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ:" كَانَتْ قِيمَةُ الدِّيَةِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانَ مِائَةِ دِينَارٍ أَوْ ثَمَانِيَةَ آلَافِ دِرْهَمٍ، وَدِيَةُ أَهْلِ الْكِتَابِ يَوْمَئِذٍ النِّصْفُ مِنْ دِيَةِ الْمُسْلِمِينَ، قَالَ: فَكَانَ ذَلِكَ كَذَلِكَ حَتَّى اسْتُخْلِفَ عُمَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ فَقَامَ خَطِيبًا، فَقَالَ: أَلَا إِنَّ الْإِبِلَ قَدْ غَلَتْ، قَالَ: فَفَرَضَهَا عُمَرُ عَلَى أَهْلِ الذَّهَبِ أَلْفَ دِينَارٍ، وَعَلَى أَهْلِ الْوَرِقِ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا، وَعَلَى أَهْلِ الْبَقَرِ مِائَتَيْ بَقَرَةٍ، وَعَلَى أَهْلِ الشَّاءِ أَلْفَيْ شَاةٍ، وَعَلَى أَهْلِ الْحُلَلِ مِائَتَيْ حُلَّةٍ، قَالَ: وَتَرَكَ دِيَةَ أَهْلِ الذِّمَّةِ لَمْ يَرْفَعْهَا فِيمَا رَفَعَ مِنَ الدِّيَةِ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دیت کی قیمت ۱؎ آٹھ سو دینار، یا آٹھ ہزار درہم تھی، اور اہل کتاب کی دیت اس وقت مسلمانوں کی دیت کی آدھی تھی، پھر اسی طرح حکم چلتا رہا، یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو آپ نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا، اور فرمایا: سنو، اونٹوں کی قیمت بڑھ گئی ہے، تو عمر رضی اللہ عنہ نے سونے والوں پر ایک ہزار دینار، اور چاندی والوں پر بارہ ہزار (درہم) دیت ٹھہرائی، اور گائے بیل والوں پر دو سو گائیں، اور بکری والوں پر دو ہزار بکریاں، اور کپڑے والوں پر دو سو جوڑوں کی دیت مقرر کی، اور ذمیوں کی دیت چھوڑ دی، ان کی دیت میں (مسلمانوں کی دیت کی طرح) اضافہ نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4542]
جناب عمرو بن شعیب اپنے والد سے، وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں دیت کی قیمت آٹھ سو دینار (سونے کے) یا آٹھ ہزار درہم (چاندی کے) تھی اور ان دنوں اہل کتاب کی دیت مسلمانوں کی دیت کے مقابلے میں آدھی ہوتی تھی۔ چنانچہ معاملہ ایسے ہی رہا حتیٰ کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے، تو انہوں نے خطبہ دیا اور کہا: بلاشبہ اونٹ مہنگے ہو گئے ہیں۔ پھر آپ نے یہ دیت سونے والوں پر ایک ہزار دینار اور چاندی والوں پر بارہ ہزار دینار کر دی، گائے والوں کے لیے دو سو گائے اور بکریوں والوں کے لیے دو ہزار بکریاں، حلے (خاص قسم کے کپڑے) تیار کرنے والوں کے لیے دو سو حلے مقرر کیے، اور ذمی لوگوں کی دیت ویسے ہی رہنے دی اور اسے نہیں بڑھایا۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4542]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 8688) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی دیت کے اونٹوں کی قیمت۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3498)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4541
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ. ح وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنَّ مَنْ قُتِلَ خَطَأً فَدِيَتُهُ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ: ثَلَاثُونَ بِنْتَ مَخَاضٍ، وَثَلَاثُونَ بِنْتَ لَبُونٍ، وَثَلَاثُونَ حِقَّةً، وَعَشَرَةُ بَنِي لَبُونٍ ذَكَرٍ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا: جو غلطی سے مارا گیا تو اس کی دیت سو اونٹ ہے تیس بنت مخاض ۱؎ تیس بنت لبون ۲؎ تیس حقے ۳؎ اور دس نر اونٹ جو دو برس کے ہو چکے ہوں۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4541]
جناب عمرو بن شعیب رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا: جو شخص غلطی سے قتل کیا گیا ہو تو اس کی دیت ایک سو اونٹ ہے: تیس اونٹنیاں مؤنث ایک سالہ، تیس اونٹنیاں مؤنث دو سالہ، تیس اونٹنیاں مؤنث تین سالہ اور دس عدد اونٹ مذکر دو سالہ۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4541]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/االدیات 1 (1387)، سنن ابن ماجہ/الدیات 4 (2626)، (تحفة الأشراف: 8708)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/183، 184، 185، 186، 217، 224) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ایسی اونٹنی جو ایک برس کی ہو چکی ہو۔
۲؎: ایسی اونٹنی جو دو برس کی ہو چکی ہو۔
۳؎: ایسی اونٹنی جو تین برس کی ہو چکی ہو۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه النسائي (4805 وسنده حسن) وابن ماجه (2630 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4543
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي الدِّيَةِ عَلَى أَهْلِ الْإِبِلِ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ، وَعَلَى أَهْلِ الْبَقَرِ مِائَتَيْ بَقَرَةٍ، وَعَلَى أَهْلِ الشَّاءِ أَلْفَيْ شَاةٍ، وَعَلَى أَهْلِ الْحُلَلِ مِائَتَيْ حُلَّةٍ، وَعَلَى أَهْلِ الْقَمْحِ شَيْئًا لَمْ يَحْفَظْهُ مُحَمَّدٌ".
عطا بن ابی رباح سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت کے سلسلے میں فیصلہ فرمایا کہ اونٹ والوں پر سو اونٹ، گائے بیل والوں پر دو سو گائیں، بکری والوں پر دو ہزار بکریاں، اور کپڑے والوں پر دو سو جوڑے کپڑے، اور گیہوں والوں پر بھی کچھ مقرر کیا جو محمد (محمد بن اسحاق) کو یاد نہیں رہا۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4543]
جناب عطاء بن ابی رباح رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت کی شرح یوں مقرر فرمائی تھی کہ اونٹوں والوں پر ایک سو اونٹ، گائے والوں پر دو سو گائے، بکریوں والوں پر دو ہزار بکریاں، حلے والوں پر دو سو حلے اور گندم والوں پر بھی کچھ مقرر کی تھی جو محمد بن اسحاق کو یاد نہیں رہی۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4543]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2482) (ضعیف)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن إسحاق عنعن والسند مرسل
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 160

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4545
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ خِشْفِ بْنِ مَالِكٍ الطَّائِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فِي دِيَةِ الْخَطَإِ عِشْرُونَ حِقَّةً، وَعِشْرُونَ جَذَعَةً، وَعِشْرُونَ بِنْتَ مَخَاضٍ، وَعِشْرُونَ بِنْتَ لَبُونٍ، وَعِشْرُونَ بَنِي مَخَاضٍ ذُكُرٍ، وَهُوَ قَوْلُ عَبْدِ اللَّهِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قتل خطا کی دیت میں بیس حقے، بیس جزعے، بیس بنت مخاض، بیس بنت لبون اور بیس ابن مخاض ہیں اور یہی عبداللہ بن مسعود کا قول ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4545]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قتل خطا کی دیت بیس اونٹنیاں تین سالہ، بیس اونٹنیاں چار سالہ، بیس اونٹنیاں ایک سالہ، بیس اونٹنیاں دو سالہ اور بیس اونٹ مذکر ایک سالہ۔ اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا قول بھی یہی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4545]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الدیات 1 (1386)، سنن النسائی/القسامة 28 (4806)، سنن ابن ماجہ/الدیات 6 (2631)، (تحفة الأشراف: 9198)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/384، 450)، دی/ الدیات 13 (2412) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں حجاج بن ارطاة مدلس اور کثیر الخطاء راوی ہیں اور خشف طائی مجہول)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1386) نسائي (4806) ابن ماجه (2631)
حجاج بن أرطاة ضعيف مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 160

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4547
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُسَدَّدٌ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ يَوْمَ الْفَتْحِ بِمَكَّةَ فَكَبَّرَ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ صَدَقَ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ، إِلَى هَاهُنَا حَفِظْتُهُ، عَنْ مُسَدَّدٍ، ثُمَّ اتَّفَقَا، أَلَا إِنَّ كُلَّ مَأْثُرَةٍ كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تُذْكَرُ وَتُدْعَى مِنْ دَمٍ أَوْ مَالٍ تَحْتَ قَدَمَيَّ، إِلَّا مَا كَانَ مِنْ سِقَايَةِ الْحَاجِّ وَسِدَانَةِ الْبَيْتِ، ثُمَّ قَالَ: أَلَا إِنَّ دِيَةَ الْخَطَإِ شِبْهِ الْعَمْدِ مَا كَانَ بِالسَّوْطِ وَالْعَصَا مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ مِنْهَا أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِ أَوْلَادِهَا"، وَحَدِيثُ مُسَدَّدٍ أَتَمُّ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مسدد کی روایت کے مطابق) فتح مکہ کے دن مکہ میں خطبہ دیا، آپ نے تین بار اللہ اکبر کہا، پھر فرمایا: «لا إله إلا الله وحده صدق وعده ونصر عبده وهزم الأحزاب وحده» اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ تنہا ہے، اس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا، اپنے بندے کی مدد کی، اور تنہا لشکروں کو شکست دی (یہاں تک کہ حدیث مجھ سے صرف مسدد نے بیان کی ہے صرف انہیں کے واسطہ سے میں نے اسے یاد کیا ہے اور اس کے بعد سے اخیر حدیث تک سلیمان اور مسدد دونوں نے مجھ سے بیان کیا ہے آگے یوں ہے) سنو! وہ تمام فضیلتیں جو جاہلیت میں بیان کی جاتی تھیں اور خون یا مال کے جتنے دعوے کئے جاتے تھے وہ سب میرے پاؤں تلے ہیں (یعنی لغو اور باطل ہیں) سوائے حاجیوں کو پانی پلانے اور بیت اللہ کی خدمت کے (یہ اب بھی ان کے ہی سپرد رہے گی جن کے سپر د پہلے تھی پھر فرمایا: سنو! قتل خطا یعنی قتل شبہ عمد کوڑے یا لاٹھی سے ہونے کی دیت سو اونٹ ہے جن میں چالیس اونٹنیاں ایسی ہوں گی جن کے پیٹ میں بچے ہوں (اور مسدد والی روایت زیادہ کامل ہے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4547]
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن خطبہ دیا اور تین بار «اللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے کہا۔ پھر فرمایا: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ، صَدَقَ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ» ایک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اس نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا، اپنے بندے کی مدد کی اور اس ایک اکیلے ہی نے تمام گروہوں کو پسپا کر دیا۔ یہاں تک کی روایت مجھے مسدد سے یاد ہے۔ پھر سلیمان بن حرب اور مسدد دونوں روایت کرنے میں متفق ہیں، فرمایا: خبردار! جاہلیت میں ذکر کیے جانے والے تمام مفاخر یا خون اور مال کے مطالبات میرے پاؤں تلے روندے جا رہے ہیں (ان کی کوئی حیثیت نہیں اور کوئی مطالبہ نہیں ہو گا) سوائے اس کے جو حاجیوں کو پانی پلانے کی خدمت تھی یا بیت اللہ کی خدمت کا شرف تھا (وہ باقی رہے گا)۔ پھر فرمایا: خبردار! قتل خطا جو عمد کے مشابہ ہو، جو سانٹے یا لاٹھی کی مار سے ہوا ہو، اس کی دیت سو اونٹ ہے، ان میں چالیس اونٹنیاں ایسی ہوں جن کے پیٹوں میں بچے ہوں۔ اور مسدد کی روایت زیادہ کامل ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4547]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/القسامة 27 (4797)، سنن ابن ماجہ/الدیات 5 (2628)، (تحفة الأشراف: 8889) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (3490)
أخرجه ابن ماجه (2627) ورواه النسائي (4797)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4588
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُسَدَّدٌ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ مُسَدَّدٌ:" خَطَبَ يَوْمَ الْفَتْحِ، ثُمَّ اتَّفَقَا، فَقَالَ: أَلَا إِنَّ كُلَّ مَأْثُرَةٍ كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِنْ دَمٍ أَوْ مَالٍ تُذْكَرُ وَتُدْعَى تَحْتَ قَدَمَيَّ، إِلَّا مَا كَانَ مِنْ سِقَايَةِ الْحَاجِّ وَسِدَانَةِ الْبَيْتِ، ثُمَّ قَالَ: أَلَا إِنَّ دِيَةَ الْخَطَإِ شِبْهِ الْعَمْدِ مَا كَانَ بِالسَّوْطِ وَالْعَصَا مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ مِنْهَا أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن خطبہ دیا آپ نے فرمایا: سنو! جاہلیت کے خون یا مال کی جتنی فضیلتیں بھی تھیں جن کا ذکر کیا جاتا تھا یا جن کے دعوے کئے جاتے تھے وہ سب میرے قدموں تلے ہیں، سوائے حاجیوں کو پانی پلانے اور بیت اللہ کی دیکھ ریکھ کے پھر فرمایا: سنو! قتل خطا جو کوڑے یا لاٹھی سے ہوا ہو شبہ عمد ہے، اس کی دیت سو اونٹ ہے، جن میں چالیس اونٹنیاں ایسی ہوں گی جن کے پیٹ میں بچے ہوں گے۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4588]
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے، بقول مسدد فتح والے دن خطبہ ارشاد فرمایا، پھر سلیمان بن حرب اور مسدد دونوں اپنے بیان میں متفق ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خبردار! تحقیق جاہلیت کے دور کی فخر کی ہر بات خون سے متعلق ہو یا مال سے، جس کا ذکر کیا جاتا ہو یا دعویٰ کیا جاتا ہو، وہ میرے قدموں تلے (روندی جا رہی) ہے، سوائے حاجیوں کو پانی پلانے اور بیت اللہ کی خدمت کے عمل کے۔ (وہ حسب سابق بحال ہے) پھر فرمایا: خبردار! قتل خطا جو عمد کے مشابہ ہو سانٹے یا لاٹھی وغیرہ سے جیسے بھی ہو، اس کی دیت سو اونٹ ہے، ان میں چالیس اونٹنیاں ایسی ہوں جن کے پیٹوں میں بچے ہوں۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4588]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (4547)، (تحفة الأشراف: 8889) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہ اس سے پہلے حدیث نمبر (۴۵۴۷) کے تحت بھی گزر چکا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (4547)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں