سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. باب دية الخطإ شبه العمد
باب: قتل خطا یعنی شبہ عمد کے قتل کی دیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4554
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ" في الْمُغَلَّظَةِ: أَرْبَعُونَ جَذَعَةً خَلِفَةً، وَثَلَاثُونَ حِقَّةً، وَثَلَاثُونَ بَنَاتِ لَبُونٍ، وَفِي الْخَطَإِ: ثَلَاثُونَ حِقَّةً، وَثَلَاثُونَ بَنَاتِ لَبُونٍ، وَعِشْرُونَ بَنُو لَبُونٍ ذُكُورٍ، وَعِشْرُونَ بَنَاتِ مَخَاضٍ".
عثمان بن عفان اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ دیت مغلظہ یعنی شبہ عمد میں چالیس گابھن جزعہ، تیس حقہ اور تیس بنت لبون ہیں، اور دیت خطا میں تیس حقہ، تیس بنت لبون، بیس ابن لبون، اور بیس بنت مخاض ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4554]
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مغلظ دیت کی تفصیل یہ ہے کہ: ”چالیس اونٹنیاں چار سالہ اور حاملہ، تیس اونٹنیاں تین سالہ اور تیس اونٹنیاں دو سالہ ہوں اور قتلِ خطا میں تیس اونٹنیاں تین سالہ، تیس اونٹنیاں دو سالہ، بیس اونٹ مذکر دو سالہ اور بیس اونٹنیاں ایک سالہ۔“ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4554]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قتادة عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 161
إسناده ضعيف
قتادة عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 161
حدیث نمبر: 4541
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ. ح وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنَّ مَنْ قُتِلَ خَطَأً فَدِيَتُهُ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ: ثَلَاثُونَ بِنْتَ مَخَاضٍ، وَثَلَاثُونَ بِنْتَ لَبُونٍ، وَثَلَاثُونَ حِقَّةً، وَعَشَرَةُ بَنِي لَبُونٍ ذَكَرٍ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا: ”جو غلطی سے مارا گیا تو اس کی دیت سو اونٹ ہے تیس بنت مخاض ۱؎ تیس بنت لبون ۲؎ تیس حقے ۳؎ اور دس نر اونٹ جو دو برس کے ہو چکے ہوں“۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4541]
جناب عمرو بن شعیب رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا: ”جو شخص غلطی سے قتل کیا گیا ہو تو اس کی دیت ایک سو اونٹ ہے: تیس اونٹنیاں مؤنث ایک سالہ، تیس اونٹنیاں مؤنث دو سالہ، تیس اونٹنیاں مؤنث تین سالہ اور دس عدد اونٹ مذکر دو سالہ۔“ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4541]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/االدیات 1 (1387)، سنن ابن ماجہ/الدیات 4 (2626)، (تحفة الأشراف: 8708)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/183، 184، 185، 186، 217، 224) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: ایسی اونٹنی جو ایک برس کی ہو چکی ہو۔
۲؎: ایسی اونٹنی جو دو برس کی ہو چکی ہو۔
۳؎: ایسی اونٹنی جو تین برس کی ہو چکی ہو۔
۲؎: ایسی اونٹنی جو دو برس کی ہو چکی ہو۔
۳؎: ایسی اونٹنی جو تین برس کی ہو چکی ہو۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه النسائي (4805 وسنده حسن) وابن ماجه (2630 وسنده حسن)
أخرجه النسائي (4805 وسنده حسن) وابن ماجه (2630 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 4547
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُسَدَّدٌ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ يَوْمَ الْفَتْحِ بِمَكَّةَ فَكَبَّرَ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ صَدَقَ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ، إِلَى هَاهُنَا حَفِظْتُهُ، عَنْ مُسَدَّدٍ، ثُمَّ اتَّفَقَا، أَلَا إِنَّ كُلَّ مَأْثُرَةٍ كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تُذْكَرُ وَتُدْعَى مِنْ دَمٍ أَوْ مَالٍ تَحْتَ قَدَمَيَّ، إِلَّا مَا كَانَ مِنْ سِقَايَةِ الْحَاجِّ وَسِدَانَةِ الْبَيْتِ، ثُمَّ قَالَ: أَلَا إِنَّ دِيَةَ الْخَطَإِ شِبْهِ الْعَمْدِ مَا كَانَ بِالسَّوْطِ وَالْعَصَا مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ مِنْهَا أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِ أَوْلَادِهَا"، وَحَدِيثُ مُسَدَّدٍ أَتَمُّ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مسدد کی روایت کے مطابق) فتح مکہ کے دن مکہ میں خطبہ دیا، آپ نے تین بار اللہ اکبر کہا، پھر فرمایا: «لا إله إلا الله وحده صدق وعده ونصر عبده وهزم الأحزاب وحده» ”اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ تنہا ہے، اس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا، اپنے بندے کی مدد کی، اور تنہا لشکروں کو شکست دی“ (یہاں تک کہ حدیث مجھ سے صرف مسدد نے بیان کی ہے صرف انہیں کے واسطہ سے میں نے اسے یاد کیا ہے اور اس کے بعد سے اخیر حدیث تک سلیمان اور مسدد دونوں نے مجھ سے بیان کیا ہے آگے یوں ہے) سنو! وہ تمام فضیلتیں جو جاہلیت میں بیان کی جاتی تھیں اور خون یا مال کے جتنے دعوے کئے جاتے تھے وہ سب میرے پاؤں تلے ہیں (یعنی لغو اور باطل ہیں) سوائے حاجیوں کو پانی پلانے اور بیت اللہ کی خدمت کے (یہ اب بھی ان کے ہی سپرد رہے گی جن کے سپر د پہلے تھی“ پھر فرمایا: ”سنو! قتل خطا یعنی قتل شبہ عمد کوڑے یا لاٹھی سے ہونے کی دیت سو اونٹ ہے جن میں چالیس اونٹنیاں ایسی ہوں گی جن کے پیٹ میں بچے ہوں“ (اور مسدد والی روایت زیادہ کامل ہے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4547]
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن خطبہ دیا اور تین بار «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا۔ پھر فرمایا: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ، صَدَقَ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ» ”ایک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اس نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا، اپنے بندے کی مدد کی اور اس ایک اکیلے ہی نے تمام گروہوں کو پسپا کر دیا۔“ یہاں تک کی روایت مجھے مسدد سے یاد ہے۔ پھر سلیمان بن حرب اور مسدد دونوں روایت کرنے میں متفق ہیں، فرمایا: ”خبردار! جاہلیت میں ذکر کیے جانے والے تمام مفاخر یا خون اور مال کے مطالبات میرے پاؤں تلے روندے جا رہے ہیں (ان کی کوئی حیثیت نہیں اور کوئی مطالبہ نہیں ہو گا) سوائے اس کے جو حاجیوں کو پانی پلانے کی خدمت تھی یا بیت اللہ کی خدمت کا شرف تھا (وہ باقی رہے گا)۔“ پھر فرمایا: ”خبردار! قتل خطا جو عمد کے مشابہ ہو، جو سانٹے یا لاٹھی کی مار سے ہوا ہو، اس کی دیت سو اونٹ ہے، ان میں چالیس اونٹنیاں ایسی ہوں جن کے پیٹوں میں بچے ہوں۔“ اور مسدد کی روایت زیادہ کامل ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4547]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/القسامة 27 (4797)، سنن ابن ماجہ/الدیات 5 (2628)، (تحفة الأشراف: 8889) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (3490)
أخرجه ابن ماجه (2627) ورواه النسائي (4797)
مشكوة المصابيح (3490)
أخرجه ابن ماجه (2627) ورواه النسائي (4797)
حدیث نمبر: 4588
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُسَدَّدٌ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ مُسَدَّدٌ:" خَطَبَ يَوْمَ الْفَتْحِ، ثُمَّ اتَّفَقَا، فَقَالَ: أَلَا إِنَّ كُلَّ مَأْثُرَةٍ كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِنْ دَمٍ أَوْ مَالٍ تُذْكَرُ وَتُدْعَى تَحْتَ قَدَمَيَّ، إِلَّا مَا كَانَ مِنْ سِقَايَةِ الْحَاجِّ وَسِدَانَةِ الْبَيْتِ، ثُمَّ قَالَ: أَلَا إِنَّ دِيَةَ الْخَطَإِ شِبْهِ الْعَمْدِ مَا كَانَ بِالسَّوْطِ وَالْعَصَا مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ مِنْهَا أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن خطبہ دیا آپ نے فرمایا: ”سنو! جاہلیت کے خون یا مال کی جتنی فضیلتیں بھی تھیں جن کا ذکر کیا جاتا تھا یا جن کے دعوے کئے جاتے تھے وہ سب میرے قدموں تلے ہیں، سوائے حاجیوں کو پانی پلانے اور بیت اللہ کی دیکھ ریکھ کے“ پھر فرمایا: ”سنو! قتل خطا جو کوڑے یا لاٹھی سے ہوا ہو شبہ عمد ہے، اس کی دیت سو اونٹ ہے، جن میں چالیس اونٹنیاں ایسی ہوں گی جن کے پیٹ میں بچے ہوں گے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4588]
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے، بقول مسدد فتح والے دن خطبہ ارشاد فرمایا، پھر سلیمان بن حرب اور مسدد دونوں اپنے بیان میں متفق ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار! تحقیق جاہلیت کے دور کی فخر کی ہر بات خون سے متعلق ہو یا مال سے، جس کا ذکر کیا جاتا ہو یا دعویٰ کیا جاتا ہو، وہ میرے قدموں تلے (روندی جا رہی) ہے، سوائے حاجیوں کو پانی پلانے اور بیت اللہ کی خدمت کے عمل کے۔“ (وہ حسب سابق بحال ہے) پھر فرمایا: ”خبردار! قتل خطا جو عمد کے مشابہ ہو سانٹے یا لاٹھی وغیرہ سے جیسے بھی ہو، اس کی دیت سو اونٹ ہے، ان میں چالیس اونٹنیاں ایسی ہوں جن کے پیٹوں میں بچے ہوں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4588]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (4547)، (تحفة الأشراف: 8889) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: یہ اس سے پہلے حدیث نمبر (۴۵۴۷) کے تحت بھی گزر چکا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (4547)
انظر الحديث السابق (4547)