🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. باب في التفضيل
باب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سب افضل کون ہے پھر اس کے بعد کون ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4627
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُنَّا نَقُولُ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا نَعْدِلُ بِأَبِي بَكْرٍ أَحَدًا ثُمَّ عُمَرَ، ثُمَّ عُثْمَانَ، ثُمَّ نَتْرُكُ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نُفَاضِلُ بَيْنَهُمْ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کہا کرتے تھے: ہم ابوبکر رضی اللہ عنہ کے برابر کسی کو نہیں جانتے، پھر عمر رضی اللہ عنہ کے، پھر عثمان رضی اللہ عنہ کے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو چھوڑ دیتے، ان میں کسی کو کسی پر فضیلت نہیں دیتے۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4627]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے برابر کسی کو نہ کرتے تھے۔ پھر ان کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور ان کے بعد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ (کا درجہ سمجھتے تھے)، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں کوئی تفضیل نہ سمجھتے تھے۔ (بلکہ سب کو مساوی سمجھتے تھے)۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4627]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/فضائل الصحابة 4 (3655)، 7 (3698)، (تحفة الأشراف: 8028) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (3698)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4628
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: قَالَ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: إِنَّ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ:" كُنَّا نَقُولُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حي أَفْضَلُ أُمَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَهُ أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ عُمَرُ، ثُمَّ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَجْمَعِينَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہم لوگ کہا کرتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل ابوبکر ہیں، پھر عمر، پھر عثمان ہیں، رضی اللہ عنہم اجمعین۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4628]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہم کہا کرتے تھے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حیات تھے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل ابوبکر ہیں، پھر عمر اور پھر عثمان رضی اللہ عنہم۔ اللہ ان سب سے راضی ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4628]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7016) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (6025)
أخرجه ابن أبي عاصم في السنة (1140 وسنده صحيح) نحو المعنٰي

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4629
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا جَامِعُ بْنُ أَبِي رَاشِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو يَعْلَى، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، قَالَ:" قُلْتُ لِأَبِي أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ثُمَّ عُمَرُ، قَالَ: ثُمَّ خَشِيتُ أَنْ أَقُولَ: ثُمَّ مَنْ؟ فَيَقُولَ: عُثْمَانُ، فَقُلْتُ: ثُمَّ أَنْتَ يَا أَبَةِ، قَالَ: مَا أَنَا إِلَّا رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ".
محمد بن حنفیہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد لوگوں میں سب سے بہتر کون تھا؟ انہوں نے کہا: ابوبکر رضی اللہ عنہ، میں نے کہا: پھر کون؟ پھر عمر رضی اللہ عنہ، پھر مجھے اس بات سے ڈر ہوا کہ میں کہوں پھر کون؟ اور وہ کہیں عثمان رضی اللہ عنہ، چنانچہ میں نے کہا: پھر آپ؟ اے ابا جان! وہ بولے: میں تو مسلمانوں میں کا صرف ایک فرد ہوں ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4629]
(سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے فرزند ارجمند) جناب محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد افضل کون ہے؟ انہوں نے کہا: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ۔ میں نے کہا: پھر کون؟ انہوں نے کہا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ۔ پھر مجھے اندیشہ ہوا کہ اگر میں نے پوچھا ان کے بعد کون ہے تو وہ کہیں گے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ، تو میں نے ازخود کہہ دیا: پھر تو آپ ہوں گے ابا جان! وہ کہنے لگے کہ میں تو مسلمانوں میں سے ایک عام آدمی ہوں۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4629]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/فضائل الصحابة 5 (6371)، (تحفة الأشراف: 10266)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المقدمة 11 (106) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہ علی رضی اللہ عنہ کی غایت درجہ تواضع و انکساری ہے ورنہ باجماع امت آپ عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بعد سب سے افضل ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (3671)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں