سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
61. باب في الحكم في المخنثين
باب: ہجڑوں کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 4930
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَعَنَ الْمُخَنَّثِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنَ النِّسَاءِ، وَقَالَ: أَخْرِجُوهُمْ مِنْ بُيُوتِكُمْ" وَأَخْرِجُوا فُلَانًا وَفُلَانًا يَعْنِي الْمُخَنَّثِينَ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زنانے مردوں اور مردانی عورتوں پر لعنت فرمائی اور فرمایا: ”انہیں اپنے گھروں سے نکال دو اور فلاں فلاں کو نکال دو“ یعنی ہجڑوں کو۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4930]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ہیجڑے بننے والے مردوں اور مردانہ انداز اختیار کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے“ اور فرمایا: ”انہیں اپنے گھروں سے نکال باہر کرو، اور فلاں فلاں ہیجڑے کو باہر نکال دو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4930]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/ اللباس 61 (5886)، الحدود 33 (6834)، سنن الترمذی/ الأدب 34 (2785)، (تحفة الأشراف: 6240)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/365) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6834)
حدیث نمبر: 4097
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ لَعَنَ الْمُتَشَبِّهَاتِ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ، وَالْمُتَشَبِّهِينَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں سے مشابہت کرنے والی عورتوں پر اور عورتوں سے مشابہت کرنے والے مردوں پر لعنت فرمائی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4097]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ان عورتوں پر لعنت فرمائی ہے جو مردوں کی مشابہت اختیار کریں اور ان مردوں پر جو عورتوں کی مشابہت اختیار کریں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4097]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/اللباس 61 (5885)، الحدود 33 (6834)، سنن الترمذی/الأدب 34 (2784)، سنن ابن ماجہ/النکاح 22 (1904)، (تحفة الأشراف: 6188)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/251، 254، 330، 339)، سنن الدارمی/الاستئذان 21 (2691) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5885)
حدیث نمبر: 4098
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلَ يَلْبَسُ لِبْسَةَ الْمَرْأَةِ، وَالْمَرْأَةَ تَلْبَسُ لِبْسَةَ الرَّجُلِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرد پر جو عورتوں کا لباس پہنتا ہے اور اس عورت پر جو مردوں کا لباس پہنتی ہے لعنت فرمائی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4098]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے ایسے مرد پر جو عورت جیسا لباس پہنے اور ایسی عورت پر جو مردوں جیسا لباس پہنے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4098]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 12670)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/325) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (4469)
مشكوة المصابيح (4469)
حدیث نمبر: 4099
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنٌ وَبَعْضُهُ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: قِيلَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: إِنَّ امْرَأَةً تَلْبَسُ النَّعْلَ، فَقَالَتْ" لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلَةَ مِنَ النِّسَاءِ".
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ عورت جوتا پہنتی ہے (جو مردوں کے لیے مخصوص تھا) تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد بننے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4099]
جناب ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا گیا کہ (جو) عورت (مردوں کے لیے مخصوص) جوتا پہنتی ہے، (اس کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟) تو انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کی طرح بننے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4099]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16251) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن جريج عنعن
والحديثان السابقان (الأصل : 4097،4098) يغنيان عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 145
إسناده ضعيف
ابن جريج عنعن
والحديثان السابقان (الأصل : 4097،4098) يغنيان عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 145
حدیث نمبر: 4107
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِي، وَهِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ يَدْخُلُ عَلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُخَنَّثٌ فَكَانُوا يَعُدُّونَهُ مِنْ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ، فَدَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَهُوَ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِهِ وَهُوَ يَنْعَتُ امْرَأَةً، فَقَالَ:" إِنَّهَا إِذَا أَقْبَلَتْ أَقْبَلَتْ بِأَرْبَعٍ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ أَدْبَرَتْ بِثَمَانٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا أَرَى هَذَا يَعْلَمُ مَا هَاهُنَا، لَا يَدْخُلَنَّ عَلَيْكُنَّ هَذَا فَحَجَبُوهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے پاس ایک مخنث (ہجڑا) آتا جاتا تھا اسے لوگ اس صنف میں شمار کرتے تھے جنہیں عورتوں کی خواہش نہیں ہوتی تو ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے وہ مخنث آپ کی ایک بیوی کے پاس تھا، اور ایک عورت کی تعریف کر رہا تھا کہ جب وہ آتی ہے تو اس کے پیٹ میں چار سلوٹیں پڑی ہوتی ہیں اور جب پیٹھ پھیر کر جاتی ہے تو آٹھ سلوٹیں پڑ جاتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار! میں سمجھتا ہوں کہ یہ عورتوں کی باتیں جانتا ہے، اب یہ تمہارے پاس ہرگز نہ آیا کرے، تو وہ سب اس سے پردہ کرنے لگیں“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4107]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک ہیجڑا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے گھروں میں آتا جاتا تھا اور لوگ اس کے بارے میں سمجھتے تھے کہ اس میں عورتوں کی طرف کوئی میلان نہیں اور یہ ﴿غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ﴾ [سورة النور: 31] میں سے ہے۔ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیوی کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور ایک عورت کی تعریف میں یوں کہہ رہا تھا: ”وہ جب سامنے سے آتی ہے تو اس کے پیٹ پر چار بل پڑتے ہیں اور جب کمر پھیر کر جاتی ہے تو آٹھ سے واپس ہوتی ہے۔“ (یعنی پہلوؤں کی طرف سے چار چار بل نظر آتے ہیں جو اس کے فربہ اندام اور خوبصورت ہونے کی علامت ہیں) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نہیں سمجھتا تھا کہ یہ بھی ان عورتوں کی مخفی باتیں جانتا ہے، آئندہ یہ تمہارے ہاں ہرگز نہ آیا کرے۔“ چنانچہ اسے روک دیا گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4107]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/السلام 13 (2181)، (تحفة الأشراف: 16634، 17247)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری (9237)، مسند احمد (6/152) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2181)
حدیث نمبر: 4929
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ يَعْنِي ابْنَ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا مُخَنَّثٌ، وَهُوَ يَقُولُ لِعَبْدِ اللَّهِ أَخِيهَا: إِنْ يَفْتَحْ اللَّهُ الطَّائِفَ غَدًا دَلَلْتُكَ عَلَى امْرَأَةٍ تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَخْرِجُوهُمْ مِنْ بُيُوتِكُمْ" , قَالَ أَبُو دَاوُد: الْمَرْأَةُ كَانَ لَهَا أَرْبَعُ عُكَنٍ فِي بَطْنِهَا.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے ان کے پاس ایک ہجڑا بیٹھا ہوا تھا اور وہ ان کے بھائی عبداللہ سے کہہ رہا تھا: اگر کل اللہ طائف کو فتح کرا دے تو میں تمہیں ایک عورت بتاؤں گا، کہ جب وہ سامنے سے آتی ہے تو چار سلوٹیں لے کر آتی ہے، اور جب پیٹھ پھیر کر جاتی ہے تو آٹھ سلوٹیں لے کر جاتی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں اپنے گھروں سے نکال دو ۱؎“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «تقبل بأربع» کا مطلب ہے عورت کے پیٹ میں چار سلوٹیں ہوتی ہیں یعنی پیٹ میں چربی چھا جانے کی وجہ سے خوب موٹی اور تیار ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4929]
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے اور دیکھا کہ ان کے ہاں ایک ہیجڑا ہے اور وہ ان (ام سلمہ رضی اللہ عنہا) کے بھائی عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہہ رہا ہے کہ ”اگر کل اللہ تمہیں طائف فتح کرا دے تو میں تمہیں ایک عورت کے متعلق بتاؤں گا جو چار سے آتی اور آٹھ سے لوٹتی ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں اپنے گھروں سے نکال دو۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اس کا مطلب یہ تھا کہ عورت کے پیٹ پر (فربہ اندام ہونے کی وجہ سے) چار بل پڑتے ہیں۔ (عورت کے پیٹ پر سامنے کی جانب سے چار بل اور جب پشت پھیرے تو پہلوؤں کی جانب سے یہی بل چار چار ہو کر آٹھ بن جاتے ہیں تو عرب میں عورت کا اس انداز سے فربہ اندام ہونا حسن سمجھا جاتا ہے۔)“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4929]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المغازي 56 (4324)، اللباس 62 (587)، النکاح 113 (5235)، صحیح مسلم/السلام 13 (2180)، سنن ابن ماجہ/النکاح 22 (1902)، الحدود 38 (2614)، (تحفة الأشراف: 18263)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/290، 318) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کیوں کہ وہ عورتوں کی خوبی و خرابی کا شعور رکھتے ہیں گو جماع پر قادر نہیں ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2535) صحيح مسلم (2180)