🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
76. باب في الرخصة في الجمع بينهما
باب: محمد نام اور ابوالقاسم کنیت جمع کرنے کی اجازت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4968
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ الْحَجَبِيُّ، عَنْ جَدَّتِهِ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ وَلَدْتُ غُلَامًا، فَسَمَّيْتُهُ مُحَمَّدًا، وَكَنَّيْتُهُ: أَبَا الْقَاسِمِ، فَذُكِرَ لِي أَنَّكَ تَكْرَهُ ذَلِكَ , فَقَالَ: مَا الَّذِي أَحَلَّ اسْمِي، وَحَرَّمَ كُنْيَتِي، أَوْ مَا الَّذِي حَرَّمَ كُنْيَتِي، وَأَحَلَّ اسْمِي".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: اللہ کے رسول! میرے ایک لڑکا پیدا ہوا ہے، میں نے اس کا نام محمد اور اس کی کنیت ابوالقاسم رکھ دی ہے، تو مجھے بتایا گیا کہ آپ اسے ناپسند کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: کیا سبب ہے کہ میرا نام رکھنا درست ہے اور کنیت رکھنا نا درست یا یوں فرمایا: کیا سبب ہے کہ میری کنیت رکھنا نا درست ہے اور نام رکھنا درست؟ ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4968]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! میرے ہاں بچہ پیدا ہوا ہے اور میں نے اس کا نام محمد اور کنیت ابوالقاسم رکھی ہے اور مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ اسے ناپسند فرماتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا وجہ ہے کہ میرا نام تو جائز ہو اور کنیت حرام۔ یا فرمایا: کس چیز نے میری کنیت حرام ٹھہرا دی اور نام جائز کر دیا؟ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4968]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17856)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/135، 209) (ضعیف)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس سلسلہ میں علماء کا اختلاف ہے، بعض لوگوں نے کہا کہ ممانعت کا تعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ تک ہے، اس کے بعد اگر کوئی آپ کا نام مع کنیت رکھتا ہے تو کچھ قباحت نہیں، بعض نے کہا کہ نام اور کنیت ایک ساتھ رکھنا منع ہے، کچھ کا کہنا ہے کہ ممانعت کا تعلق صرف کنیت سے ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
محمد بن عمران الحجبي مستور (تق: 6199)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 173

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4967
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ , وَأَبُو بَكْرٍ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ فِطْرٍ، عَنْ مُنْذِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَحِمَهُ اللَّهُ" قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ وُلِدَ لِي مِنْ بَعْدِكَ: وَلَدٌ أُسَمِّيهِ بِاسْمِكَ، وَأُكَنِّيهِ بِكُنْيَتِكَ , قال: نَعَمْ" , وَلَمْ يَقُلْ أَبُو بَكْرٍ، قُلْتُ: قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ عَلَيْهِ السَّلَام لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
محمد بن حنفیہ کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر آپ کے بعد میرے بیٹا پیدا ہو تو میں اس کا نام اور اس کی کنیت آپ کے نام اور آپ کی کنیت پر رکھوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4967]
جناب محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ کے بعد میرے ہاں بچہ پیدا ہو، تو کیا میں اس کا نام اور کنیت آپ کے نام اور کنیت پر رکھ سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ (راویِ حدیث) ابوبکر بن ابی شیبہ کے الفاظ میں «قُلْتُ» کا لفظ نہیں ہے، بلکہ یوں ہے کہ «قَالَ عَلِيٌّ عَلَيْهِ السَّلَامُ لِلنَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم » سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4967]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الأدب 68 (2843)، (تحفة الأشراف: 10267)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/95) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (4772)
أخرجه الترمذي (2843 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں