سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
97. باب ما جاء في التثاؤب
باب: جمائی لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5028
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعُطَاسَ وَيَكْرَهُ التَّثَاؤُبَ، فَإِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَرُدَّهُ مَا اسْتَطَاعَ، وَلَا يَقُلْ هَاهْ هَاهْ، فَإِنَّمَا ذَلِكُمْ مِنَ الشَّيْطَانِ يَضْحَكُ مِنْهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی کو ناپسند، لہٰذا جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے، تو جہاں تک ہو سکے اسے روکے رہے، اور ہاہ ہاہ نہ کہے، اس لیے کہ یہ شیطان کی طرف سے ہوتی ہے، وہ اس پر ہنستا ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5028]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند اور جمائی کو ناپسند کرتا ہے۔ چنانچہ جب کسی کو جمائی آئے تو جہاں تک ہو سکے اسے روکے اور ”ہاء ہاء“ کی آواز نہ نکالے۔ بلاشبہ یہ شیطان کی طرف سے ہوتی ہے اور وہ اس سے ہنستا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5028]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/بدء الخلق 11 (3289)، الأدب 125 (6223)، 126 (6262)، سنن الترمذی/الصلاة 6 15 (370)، الأدب 7 (2747)، (تحفة الأشراف: 14322)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الزہد والرقاق 9 (2995)، مسند احمد (2 /265، 428، 517) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6226)
حدیث نمبر: 2026
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَفْوَانَ، قَالَ: قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: كَيْفَ صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ؟ قَالَ:" صَلَّى رَكْعَتَيْنِ".
عبدالرحمٰن بن صفوان کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کعبہ میں داخل ہوئے تو آپ نے کیا کیا؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 2026]
عبدالرحمن بن صفوان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کعبہ میں داخل ہوئے تو کیا کیا تھا؟“ انہوں نے کہا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھی تھیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 2026]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10590)، وقد أخرجہ: (حم 3/430، 431) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
وللمتن شواھد عند البخاري (397) وغيره، فالحديث صحيح
وللمتن شواھد عند البخاري (397) وغيره، فالحديث صحيح
حدیث نمبر: 2028
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: كُنْتُ أُحِبُّ أَنْ أَدْخُلَ الْبَيْتَ فَأُصَلِّيَ فِيهِ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي فَأَدْخَلَنِي فِي الْحِجْرِ، فَقَالَ:" صَلِّي فِي الْحِجْرِ إِذَا أَرَدْتِ دُخُولَ الْبَيْتِ، فَإِنَّمَا هُوَ قَطْعَةٌ مِنْ الْبَيْتِ، فَإِنَّ قَوْمَكِ اقْتَصَرُوا حِينَ بَنَوْا الْكَعْبَةَ فَأَخْرَجُوهُ مِنْ الْبَيْتِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میری خواہش تھی کہ میں بیت اللہ میں داخل ہو کر اس میں نماز پڑھوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے حطیم میں داخل کر دیا، اور فرمایا: ”جب تم بیت اللہ میں داخل ہونا چاہو تو حطیم کے اندر نماز پڑھ لیا کرو کیونکہ یہ بھی بیت اللہ ہی کا ایک ٹکڑا ہے، تمہاری قوم کے لوگوں نے جب کعبہ تعمیر کیا تو اسی پر اکتفا کیا تو لوگوں نے اسے بیت اللہ سے خارج ہی کر دیا ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 2028]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں چاہتی تھی کہ کعبہ کے اندر داخل ہوں اور اس میں نماز پڑھوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور «حِجْر» (یعنی حطیم) میں داخل کر دیا اور فرمایا: ”جب تم کعبہ میں داخل ہونا چاہو تو «حِجْر» میں نماز پڑھ لیا کرو، یہ بھی «بَیْتُ اللہ» ہی کا حصہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تیری قوم نے تعمیرِ کعبہ کے وقت اسی قدر پر اکتفا کیا اور اسے تعمیر سے خارج کر دیا تھا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 2028]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الحج 129 (2915)، سنن الترمذی/الحج 48 (876)، (تحفة الأشراف: 17961)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 42 (1583)، وأحادیث الأنبیاء 10 (3368)، وتفسیر سورة البقرة 10 (4484)، والتمنی 9 (7243)، صحیح مسلم/الحج 69 (398)، سنن ابن ماجہ/المناسک 31 (2955)، موطا امام مالک/الحج 33(104)، مسند احمد (6/67، 92، 93)، سنن الدارمی/المناسک 44 (1911) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: حطیم کے حصہ کو عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اپنے دور خلافت میں کعبے کے اندر شامل کر دیا تھا، لیکن حجاج بن یوسف نے جب ان پر چڑھائی کی اور کعبہ کی عمارت کو نقصان پہنچا تو اس نے پھر نئے سرے سے اس کی تعمیر کروائی اور حطیم کو چھوڑ دیا اور آج تک ویسے ہی ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أخرجه الترمذي (876 وسنده صحيح) والنسائي (2915 وسنده صحيح)
أخرجه الترمذي (876 وسنده صحيح) والنسائي (2915 وسنده صحيح)
حدیث نمبر: 5027
حَدَّثَنَا ابْنُ الْعَلَاءِ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سُهَيْلٍ نَحْوَهُ، قَالَ: فِي الصَّلَاةِ فَلْيَكْظِمْ مَا اسْتَطَاعَ.
سہیل سے بھی اسی طرح مروی ہے اس میں یہ ہے ”(جب جمائی) نماز میں ہو تو جہاں تک ہو سکے منہ بند رکھے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5027]
سیدنا سہیل رضی اللہ عنہ سے مذکورہ بالا حدیث کی مانند مروی ہے (مگر اس میں ہے) ”جمائی اگر نماز میں آئے تو جہاں تک ہو سکے منہ بند رکھنے کی کوشش کرے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5027]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 4119) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2995)