سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
133. باب في حق الجوار
باب: پڑوسی کے حق کا بیان۔
حدیث نمبر: 5152
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ بَشِيرٍ أَبِي إِسْمَاعِيل، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو" أَنَّهُ ذَبَحَ شَاةً، فَقَالَ: أَهْدَيْتُمْ لِجَارِي الْيَهُودِيِّ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ، حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک بکری ذبح کی تو (گھر والوں) سے کہا: کیا تم لوگوں نے میرے یہودی پڑوسی کو ہدیہ بھیجا (نہ بھیجا ہو تو بھیج دو) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ فرماتے تھے: ”جبرائیل مجھے برابر پڑوسی، کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت فرماتے رہے یہاں تک کہ مجھے گمان گزرا کہ وہ اسے وارث بنا دیں گے“۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5152]
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے متعلق مروی ہے کہ انہوں نے ایک بکری ذبح کی اور پھر پوچھا: ”کیا تم نے میرے یہودی ہمسائے کی طرف بھی کچھ بھیجا ہے؟“ بلاشبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جبرائیل امین مجھے ہمسائے کے متعلق وصیت کرتے رہے حتیٰ کہ مجھے خیال ہوا کہ وہ اسے وارث ہی بنا دیں گے۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5152]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/البر والصلة 29 (1943)، (تحفة الأشراف: 8919)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/160) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أخرجه الترمذي (1943 وسنده صحيح)
أخرجه الترمذي (1943 وسنده صحيح)
حدیث نمبر: 5151
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ، حَتَّى قُلْتُ لَيُوَرِّثَنَّهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبرائیل مجھے برابر پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین اور وصیت کرتے رہے، یہاں تک کہ میں (دل میں) کہنے لگا کہ وہ ضرور اسے وارث بنا دیں گے“۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5151]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبرائیل امین مجھے ہمسائے کے متعلق وصیت کرتے رہے حتیٰ کہ مجھے خیال ہوا کہ وہ اسے وارث ہی بنا دیں گے۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5151]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأدب 28 (6014)، صحیح مسلم/البر والصلة 42 (2624)، سنن الترمذی/البر والصلة 28 (1942)، سنن ابن ماجہ/الأدب 4 (3673)، (تحفة الأشراف: 17947)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/91، 125، 238) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6014) صحيح مسلم (2624)