سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
110. باب ما يؤمر المصلي أن يدرأ عن الممر بين يديه
باب: نمازی کو حکم ہے کہ وہ اپنے سامنے سے گزرنے والے کو روکے۔
حدیث نمبر: 699
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيْجٍ الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، أَخْبَرَنَا مَسَرَّةُ بْنُ مَعْبَدٍ اللَّخْمِيُّ لَقِيتُهُ بِالْكُوفَةِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدٍ حَاجِبُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: رَأَيْتُ عَطَاءَ بْنَ زَيْدٍ اللَّيْثِيَّ قَائِمًا يُصَلِّي، فَذَهَبْتُ أَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ فَرَدَّنِي، ثُمَّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ لَا يَحُولَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قِبْلَتِهِ أَحَدٌ فَلْيَفْعَلْ".
سلیمان بن عبدالملک کے دربان ابو عبید بیان کرتے ہیں کہ میں نے عطاء بن زید لیثی کو کھڑے ہو کر نماز پڑھتے دیکھا، تو میں ان کے سامنے سے گزرنے لگا، تو انہوں نے مجھے واپس کر دیا، پھر (نماز سے فارغ ہونے کے بعد) کہا: ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو شخص طاقت رکھے کہ کوئی شخص اس کے اور قبلہ کے بیچ میں حائل نہ ہو تو وہ ایسا کرے (یعنی سامنے سے گزرنے والے کو روکے)“۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب السترة /حدیث: 699]
جناب ابوعبیدہ حاجبِ سلیمان کہتے ہیں کہ میں نے عطا بن یزید لیثی کو نماز میں کھڑے دیکھا اور میں ان کے آگے سے گزرنے لگا تو انہوں نے مجھے روکا، پھر (نماز کے بعد) مجھ سے کہا کہ مجھے سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی یہ کر سکتا ہو کہ کسی کو اپنے اور قبلے کے درمیان میں سے نہ گزرنے دے تو چاہیے کہ وہ ایسا کرے۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب السترة /حدیث: 699]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 4159) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 697
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي فَلَا يَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلْيَدْرَأْهُ مَا اسْتَطَاعَ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تم میں سے کوئی نماز پڑھ رہا ہو تو کسی کو نہ چھوڑے کہ اس کے آگے سے گزرے۔ جہاں تک ہو سکے اس کو روکے۔ اگر وہ انکار و اصرار کرے تو چاہیئے کہ اس کے ساتھ لڑائی کرے، بیشک وہ شیطان ہے“۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب السترة /حدیث: 697]
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز پڑھ رہا ہو تو کسی کو نہ چھوڑے کہ اس کے آگے سے گزرے۔ جہاں تک ہو سکے اس کو روکے۔ اگر وہ انکار و اصرار کرے تو چاہیے کہ اس کے ساتھ لڑائی کرے، بے شک وہ شیطان ہے۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب السترة /حدیث: 697]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 48 (505)، سنن النسائی/القبلة 8 (758)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 39 (954)، (تحفة الأشراف: 4117)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/قصر الصلاة 10(33)، مسند احمد (3/34، 43، 44، 49، 57، 93)، سنن الدارمی/الصلاة 125 (1451) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اگر کوئی شخص سترہ کے باوجود نمازی کے آگے سے گزرنے کی کوشش کرتا اور اس پر اصرار کرتا ہے تو وہ شیطان صفت ہے۔ شیطانوں کا سا کام کر رہا ہے روکنے سے بھی نہیں مانتا۔ اس کو اثنائے نماز ہی میں روکنا چاہیے اور روکنے کی کیفیت ہاتھ سے اشارہ کرنا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (505)
حدیث نمبر: 700
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ هِلَالٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو صَالِحٍ: أُحَدِّثُكَ عَمَّا رَأَيْتُ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ وَسَمِعْتُهُ مِنْهُ، دَخَلَ أَبُو سَعِيدٍ عَلَى مَرْوَانَ، فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى شَيْءٍ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ فَأَرَادَ أَحَدٌ أَنْ يَجْتَازَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلْيَدْفَعْ فِي نَحْرِهِ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ فَإِنَّمَا هُوَ الشَّيْطَانُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ: يَمُرُّ الرَّجُلُ يَتَبَخْتَرُ بَيْنَ يَدَيَّ وَأَنَا أُصَلِّي فَأَمْنَعُهُ وَيَمُرُّ الضَّعِيفُ فَلَا أَمْنَعُهُ.
ابوصالح کہتے ہیں میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو جو کچھ کرتے ہوئے دیکھا اور سنا، وہ تم سے بیان کرتا ہوں: ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ مروان کے پاس گئے، تو عرض کیا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب تم میں سے کوئی شخص کسی چیز کو (جسے وہ لوگوں کے لیے سترہ بنائے) سامنے کر کے نماز پڑھے، پھر کوئی اس کے آگے سے گزرنا چاہے تو اسے چاہیئے کہ سینہ پر دھکا دے کر اسے ہٹا دے، اگر وہ نہ مانے تو اس سے لڑے (یعنی سختی سے دفع کرے) کیونکہ وہ شیطان ہے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سفیان ثوری کا بیان ہے کہ میں نماز پڑھتا ہوں اور کوئی آدمی میرے سامنے سے اتراتے ہوئے گزرتا ہے تو میں اسے روک دیتا ہوں، اور کوئی ضعیف العمر کمزور گزرتا ہے تو اسے نہیں روکتا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب السترة /حدیث: 700]
جناب ابوصالح نے کہا: ”میں نے سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے جو دیکھا سنا ہے تمہیں بتاتا ہوں۔“ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ مروان کے پاس گئے اور بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”جب تم میں سے کوئی کسی چیز کی طرف نماز پڑھ رہا ہو، جو اس کے لیے لوگوں سے سترہ ہو اور کوئی اس کے آگے سے گزرنے کی کوشش کرے تو اس کے سینے کے آگے ہاتھ کر کے اسے روک دے، اگر وہ انکار کرے تو اس سے لڑائی کرے، بلاشبہ وہ شیطان ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ سفیان ثوری رحمہ اللہ نے کہا: ”ایک آدمی تکبر کرتے ہوئے میرے آگے سے نماز کی حالت میں گزرتا ہے تو میں اسے روک لیتا ہوں اور کبھی کوئی ضعیف انسان ہوتا ہے تو اسے منع نہیں کرتا۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب السترة /حدیث: 700]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 100 (509)، صحیح مسلم/الصلاة 48 (505)، (تحفة الأشراف: 4000)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/63) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (509) صحيح مسلم (505)