سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
168. باب السجود على الأنف
باب: ناک پر سجدہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 911
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا عِيسَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رُئِيَ عَلَى جَبْهَتِهِ وَعَلَى أَرْنَبَتِهِ أَثَرُ طِينٍ مِنْ صَلَاةٍ صَلَّاهَا بِالنَّاسِ". قَالَ أَبُو عَلِيٍّ: هَذَا الْحَدِيثُ لَمْ يَقْرَأْهُ أَبُو دَاوُدَ فِي الْعَرْضَةِ الرَّابِعَةِ.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی، جس سے آپ کی پیشانی اور ناک پر مٹی کے نشانات دیکھے گئے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 911]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی اور ناک کے بانسے پر کیچڑ کا نشان تھا۔“ ابوعلی لؤلؤی کہتے ہیں کہ ”امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے جب چوتھی بار اپنی یہ کتاب تلامذہ پر پڑھی تو اس میں یہ حدیث نہ تھی۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 911]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 894، (تحفة الأشراف: 4419) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (894)
انظر الحديث السابق (894)
حدیث نمبر: 894
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رُئِيَ عَلَى جَبْهَتِهِ وَعَلَى أَرْنَبَتِهِ أَثَرُ طِينٍ مِنْ صَلَاةٍ صَلَّاهَا بِالنَّاسِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی اور ناک پر (شب قدر میں) اس نماز کی وجہ سے جو آپ نے لوگوں کو پڑھائی، مٹی کا اثر دیکھا گیا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 894]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ایک نماز پڑھائی تو اس میں دیکھا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی اور ناک کے بانسے پر کیچڑ کا نشان تھا۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 894]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 41 (669)، 135 (813)، 151 (836)، ولیلة القدر 2 (2016)، 3 (2018)، والاعتکاف 1 (2027)، 9 (2036)، 13 (204)، صحیح مسلم/الصوم 40 (1167)، سنن النسائی/التطبیق 42 (1096)، والسھو 98 (1357)، (تحفة الأشراف: 4419)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الاعتکاف 6 (9)، مسند احمد (3/94)، ویأتي برقم: (1382) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (813) صحيح مسلم (1167)