🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
183. باب من ذكر التورك في الرابعة
باب: چوتھی رکعت میں تورک (سرین پر بیٹھنے) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 965
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ،حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الْعَامِرِيِّ، قَالَ: كُنْتُ فِي مَجْلِسٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ فِيهِ:" فَإِذَا قَعَدَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَعَدَ عَلَى بَطْنِ قَدَمِهِ الْيُسْرَى وَنَصَبَ الْيُمْنَى، فَإِذَا كَانَتِ الرَّابِعَةُ أَفْضَى بِوَرِكِهِ الْيُسْرَى إِلَى الْأَرْضِ وَأَخْرَجَ قَدَمَيْهِ مِنْ نَاحِيَةٍ وَاحِدَةٍ".
محمد بن عمرو عامری کہتے ہیں کہ میں ایک مجلس میں تھا، پھر انہوں نے یہی حدیث بیان کی جس میں ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعت پڑھ کر بیٹھتے تو اپنے بائیں قدم کے تلوے پر بیٹھتے اور اپنا داہنا پیر کھڑا رکھتے پھر جب چوتھی رکعت ہوتی تو اپنی بائیں سرین کو زمین سے لگاتے اور اپنے دونوں قدموں کو ایک طرف نکال لیتے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 965]
جناب محمد بن عمرو عامری بیان کرتے ہیں کہ میں اس مجلس میں موجود تھا (جس میں کہ دس اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے تھے اور سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ نے ان کو نماز پڑھ کر دکھائی تھی) انہوں نے اس میں بیان کیا: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتوں کے بعد بیٹھتے، تو اپنے بائیں پاؤں کے تلوے پر بیٹھتے اور دائیں کو کھڑا کر لیتے تھے، اور جب چوتھی رکعت ہوتی تو اپنی بائیں سرین کو زمین پر رکھ لیتے اور اپنے دونوں پاؤں کو ایک جانب نکال لیتے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 965]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم:733، (تحفة الأشراف: 11897) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن لھيعة عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 47

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 958
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ:"سُنَّةُ الصَّلَاةِ أَنْ تَنْصِبَ رِجْلَكَ الْيُمْنَى وَتَثْنِيَ رِجْلَكَ الْيُسْرَى".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نماز کی سنت یہ ہے کہ تم اپنا دایاں پیر کھڑا رکھو اور بایاں پیر موڑ کر رکھو۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 958]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ نماز میں سنت یہ ہے کہ آپ اپنے دائیں پاؤں کو کھڑا کر لیں اور بائیں پاؤں کو بچھا کر بیٹھیں۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 958]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأذان 145 (827)، سنن النسائی/التطبیق 96 (1157)، (تحفة الأشراف: 7269)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة 12(51) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (827)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 959
حَدَّثَنَا ابْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ:" مِنْ سُنَّةِ الصَّلَاةِ أَنْ تُضْجِعَ رِجْلَكَ الْيُسْرَى وَتَنْصِبَ الْيُمْنَى".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں نماز کی سنت میں سے یہ ہے کہ تم اپنا بایاں پیر بچھائے رکھو اور داہنا پیر کھڑا رکھو۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 959]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے تھے کہ: تمہارا اپنے بائیں پاؤں کو بچھا لینا اور دائیں کو کھڑا کر کے بیٹھنا نماز کی سنتوں میں سے ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 959]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 7269) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (958)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 963
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُهُ فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ أَحْمَدُ: قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ أَبُو قَتَادَةَ، قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: فَاعْرِضْ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ:" وَيَفْتَحُ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ إِذَا سَجَدَ، ثُمَّ يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، وَيَرْفَعُ وَيَثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرَى فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا، ثُمَّ يَصْنَعُ فِي الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ"، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ:" حَتَّى إِذَا كَانَتِ السَّجْدَةُ الَّتِي فِيهَا التَّسْلِيمُ أَخَّرَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى، وَقَعَدَ مُتَوَرِّكًا عَلَى شِقِّهِ الْأَيْسَرِ". زَادَ أَحْمَدُ، قَالُوا: صَدَقْتَ، هَكَذَا كَانَ يُصَلِّي، وَلَمْ يَذْكُرَا فِي حَدِيثِهِمَا الْجُلُوسَ فِي الثِّنْتَيْنِ كَيْفَ جَلَسَ.
محمد بن عمرو کہتے کہ میں نے ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دس اصحاب کی موجودگی میں سنا، اور احمد بن حنبل کی روایت میں ہے کہ محمد بن عمرو بن عطاء کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دس اصحاب کی موجودگی میں، جن میں ابوقتادہ بھی تھے، ابوحمید کو یہ کہتا سنا کہ میں تم لوگوں میں سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ نماز کو جانتا ہوں، لوگوں نے کہا: تو آپ پیش کیجئے، پھر راوی نے حدیث ذکر کی اس میں ہے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے تو پاؤں کی انگلیاں کھلی رکھتے پھر «الله أكبر» کہتے اور سجدے سے سر اٹھاتے اور اپنا بایاں پاؤں موڑتے اور اس پر بیٹھتے پھر دوسری رکعت میں ایسا ہی کرتے، پھر راوی نے حدیث ذکر کی اس میں ہے یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس (آخری) سجدے سے فارغ ہوتے جس کے بعد سلام پھیرنا رہتا ہے تو بایاں پاؤں ایک طرف نکال لیتے اور بائیں سرین پر ٹیک لگا کر بیٹھتے۔ احمد نے اپنی روایت میں اضافہ کیا ہے: پھر لوگوں نے ان سے کہا: آپ نے سچ کہا، آپ اسی طرح نماز پڑھتے تھے، لیکن ان دونوں نے یہ نہیں ذکر کیا کہ دو رکعت پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح بیٹھے تھے؟ ۱؎۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 963]
سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دس افراد کی جماعت میں بیان کیا، ان میں سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تم میں سے سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق جانتا ہوں۔ انہوں نے کہا: بیان کرو۔ تو انہوں نے حدیث بیان کی اور کہا: اور سجدے میں اپنے پاؤں کی انگلیاں (قبلہ رخ) موڑ لیتے، پھر «اللهُ أَكْبَرُ» کہہ کر اپنا سر اٹھاتے اور اپنا بایاں پاؤں ٹیڑھا (موڑ) کر کے اس پر بیٹھ جاتے۔ پھر دوسری رکعت میں ایسے ہی کرتے۔ اور حدیث تفصیل سے ذکر کی اور بیان کیا کہ جب اس رکعت میں ہوتے جس میں سلام ہوتا ہے، تو اپنے بائیں پاؤں کو ایک طرف نکال لیتے اور اپنے بائیں حصے پر بیٹھ جاتے۔ امام احمد رحمہ اللہ نے اس قدر اضافہ کیا کہ ان صحابہ رضی اللہ عنہم نے (سیدنا ابوحمید سے) کہا: آپ نے سچ اور صحیح کہا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ہی نماز پڑھا کرتے تھے۔ اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اور مسدد رحمہ اللہ نے دو رکعتوں پر بیٹھنے کی کیفیت بیان نہیں کی۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 963]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم:730، (تحفة الأشراف: 11897) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی ان دونوں نے پہلے تشہد میں بیٹھنے کی کیفیت کا ذکر نہیں کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
انظر الحديث السابق (730)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 988
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَعَدَ فِي الصَّلَاةِ جَعَلَ قَدَمَهُ الْيُسْرَى تَحْتَ فَخْذِهِ الْيُمْنَى وَسَاقِهِ، وَفَرَشَ قَدَمَهُ الْيُمْنَى وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُسْرَى، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخْذِهِ الْيُمْنَى وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ". وَأَرَانَا عَبْدُ الْوَاحِدِ وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ.
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں بیٹھتے تو اپنا بایاں پاؤں داہنی ران اور پنڈلی کے نیچے کرتے اور داہنا پاؤں بچھا دیتے اور بایاں ہاتھ اپنے بائیں گھٹنے پر رکھتے اور اپنا داہنا ہاتھ اپنی داہنی ران پر رکھتے اور اپنی انگلی سے اشارہ کرتے، عبدالواحد نے ہمیں شہادت کی انگلی سے اشارہ کر کے دکھایا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 988]
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں بیٹھا کرتے تو اپنے بائیں پاؤں کو اپنی دائیں ران اور پنڈلی کے نیچے کر لیتے اور اپنے دائیں پاؤں کو بچھا لیتے اور بایاں ہاتھ اپنے بائیں گھٹنے پر اور دایاں ہاتھ دائیں ران پر رکھتے اور اپنی انگلی سے اشارہ کرتے۔ اور عبدالواحد نے ہم کو دکھایا اور انگشت شہادت سے اشارہ کیا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 988]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المساجد 21 (579)، سنن النسائی/التطبیق 99 (1162)، والسھو 35 (1271)، 39 (1276)، (تحفة الأشراف: 5263)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/3) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (579)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں