سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. باب : الاختلاف على محمد بن إبراهيم فيه
باب: اس حدیث میں محمد بن ابراہیم پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2180
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعْدِ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّ ابْنَ الْهَادِ حَدَّثَهُ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" لَقَدْ كَانَتْ إِحْدَانَا تُفْطِرُ فِي رَمَضَانَ، فَمَا تَقْدِرُ عَلَى أَنْ تَقْضِيَ حَتَّى يَدْخُلَ شَعْبَانُ، وَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ فِي شَهْرٍ مَا يَصُومُ فِي شَعْبَانَ، كَانَ يَصُومُهُ كُلَّهُ إِلَّا قَلِيلًا بَلْ كَانَ يَصُومُهُ كُلَّهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: ہم (ازواج مطہرات) میں سے کوئی رمضان میں (حیض کی وجہ سے) روزہ نہیں رکھتی تو اس کی قضاء نہیں کر پاتی یہاں تک کہ شعبان آ جاتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی مہینے میں اتنے روزے نہیں رکھتے جتنا شعبان میں رکھتے تھے، آپ چند دن چھوڑ کر پورے ماہ روزے رکھتے، بلکہ (بسا اوقات) پورے (ہی) ماہ روزے رکھتے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2180]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم ازواجِ مطہرات میں سے کسی ایک کو رمضان المبارک کے کچھ روزے (حیض کی بنا پر) چھوڑنے پڑتے تھے، وہ ان کی قضا نہیں دے سکتی تھیں حتیٰ کہ ماہ شعبان آجاتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی مہینے میں اتنے روزے نہ رکھتے تھے جتنے شعبان میں رکھتے تھے، صرف چند دن چھوڑ کر باقی روزے رکھتے تھے بلکہ (یہی کہہ لیجیے کہ) سارا مہینہ ہی روزے رکھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2180]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصوم 26 (1146)، (تحفة الأشراف: 17741)، مسند احمد 6/89 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2177
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ:" مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ، إِلَّا أَنَّهُ كَانَ يَصِلُ شَعْبَانَ بِرَمَضَانَ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی لگاتار دو مہینہ روزے رکھتے نہیں دیکھا، البتہ آپ شعبان کو رمضان سے ملا دیتے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2177]
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پے در پے دو ماہ کے روزے رکھتے نہیں دیکھا، البتہ آپ شعبان (کے روزوں) کو رمضان المبارک (کے روزوں) سے ملا لیتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2177]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصوم 11 (2336)، سنن الترمذی/الصوم 37 (736)، سنن ابن ماجہ/الصوم 4 (1648)، (تحفة الأشراف: 18232)، مسند احمد 6/293، 300، 311، سنن الدارمی/الصوم 33 (1780)، ویأتی عند المؤلف برقم: 2354 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی آپ شعبان میں برابر روزے رکھتے کہ وہ رمضان کے روزوں سے مل جاتا تھا، چونکہ آپ کو روحانی قوت حاصل تھی اس لیے روزے آپ کے لیے کمزوری کا سبب نہیں بنتا تھا، لیکن امت کے لیے حکم یہ ہے کہ وہ شعبان کے نصف ثانی میں روزہ نہ رکھیں، تاکہ ان کی قوت و توانائی رمضان کے فرض روزوں کے لیے برقرار رہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 2178
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا النَّضْرُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ تَوْبَةَ الْعنبري , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصِلُ شَعْبَانَ بِرَمَضَانَ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کو رمضان سے ملا دیتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2178]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان (کے روزوں) کو رمضان المبارک (کے روزوں) کے ساتھ ملا لیتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2178]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصوم 11 (2336)، (تحفة الأشراف: 18238)، مسند احمد 6/311 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2182
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَهْرٍ مِنَ السَّنَةِ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ، كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سال کے کسی مہینے میں شعبان سے زیادہ روزے نہیں رکھتے تھے، آپ (تقریباً) پورے شعبان ہی روزے رکھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2182]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سال کے کسی مہینے میں شعبان سے زیادہ (نفل) روزے نہ رکھتے تھے، (یوں سمجھیے کہ) پورا شعبان ہی روزے رکھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2182]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصوم 52 (1970)، صحیح مسلم/الصیام 34 (782)، (تحفة الأشراف: 17780)، مسند احمد 6/84، 128، 189، 233، 244، 249 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 2183
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَعْبَانَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شعبان میں روزہ رکھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2183]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم شعبان میں (بہت زیادہ) روزے رکھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2183]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16063) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2188
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ بَقِيَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَحِيرٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عَائِشَةَ عَنِ الصِّيَامِ، فَقَالَتْ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ، وَيَتَحَرَّى صِيَامَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ".
جبیر بن نفیر سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روزوں کے متعلق پوچھا: تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پورے شعبان روزے رکھتے، اور دو شنبہ (پیر) اور جمعرات کے روزے کا اہتمام فرماتے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2188]
حضرت جبیر بن نفیر سے منقول ہے کہ ایک آدمی نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے (نفل) روزوں کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان (کے تقریباً) سبھی روزے رکھتے تھے اور سوموار اور جمعرات کا روزہ قصداً رکھا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2188]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16050)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصوم 44 (745)، سنن ابن ماجہ/الصوم 42 (1739)، مسند احمد 6/80، 89، 106 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح ق الشطر الأول فقط
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 2189
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَوْرٌ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ رَبِيعَةَ الْجُرَشِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَعْبَانَ وَرَمَضَانَ، وَيَتَحَرَّى الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان اور رمضان میں روزے رکھتے، اور پیر اور جمعرات کے روزے کا خاص خیال رکھتے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2189]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان اور رمضان المبارک کے مکمل روزے رکھتے تھے اور سوموار اور جمعرات کا روزہ قصداً رکھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2189]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصوم 44 (745)، سنن ابن ماجہ/الصوم 42 (1739)، (تحفة الأشراف: 16081)، ویأتي عند المؤلف: 2363 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2352
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَيْسٍ حَدَّثَهُ , أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ، تَقُولُ:" كَانَ أَحَبَّ الشُّهُورِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَصُومَهُ شَعْبَانُ بَلْ كَانَ يَصِلُهُ بِرَمَضَانَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک روزہ رکھنے کے لیے سب سے زیادہ پسندیدہ مہینہ شعبان کا تھا، بلکہ آپ اسے رمضان سے ملا دیتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2352]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ روزے رکھنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے زیادہ پسندیدہ مہینہ شعبان تھا، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تقریباً اسے رمضان المبارک سے ملا ہی دیتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2352]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصوم 56 (2431)، (تحفة الأشراف: 6280)، مسند احمد 6/188 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2354
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَصُومُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ إِلَّا شَعْبَانَ وَرَمَضَانَ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوائے شعبان اور رمضان کے مسلسل دو مہینے روزہ نہیں رکھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2354]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان و رمضان کے علاوہ دو مہینے مسلسل روزے نہیں رکھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2354]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2177 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2355
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ تَوْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يَصُومُ مِنَ السَّنَةِ شَهْرًا تَامًّا، إِلَّا شَعْبَانَ وَيَصِلُ بِهِ رَمَضَانَ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سال کے کسی بھی مہینہ میں پورا روزہ نہیں رکھتے تھے سوائے شعبان کے، آپ اسے رمضان سے ملا دیتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2355]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کے علاوہ سال بھر کے کسی مہینے میں مکمل (نفل) روزے نہیں رکھتے تھے، شعبان کو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تقریباً رمضان المبارک کے ساتھ ہی ملا دیتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2355]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2178 (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2356
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِشَهْرٍ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ لِشَعْبَانَ كَانَ يَصُومُهُ أَوْ عَامَّتَهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی بھی مہینے میں شعبان سے زیادہ روزہ نہیں رکھتے تھے، آپ شعبان کے پورے یا اکثر دن روزہ رہتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2356]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان سے زیادہ کسی مہینے میں روزے نہیں رکھتے تھے، شعبان کے مہینے میں آپ اکثر روزے رکھا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2356]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 17750) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2357
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَعْبَانَ إِلَّا قَلِيلًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پورے شعبان روزہ رکھتے تھے سوائے چند دنوں کے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2357]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کے روزے رکھا کرتے تھے، صرف چند دن ناغہ فرماتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2357]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 17778) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 2358
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَحِيرٌ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پورے شعبان روزہ رکھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2358]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (تقریباً) مکمل شعبان کے روزے رکھا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2358]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16051) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 2359
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ أَبُو الْغُصْنِ شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! لَمْ أَرَكَ تَصُومُ شَهْرًا مِنَ الشُّهُورِ مَا تَصُومُ مِنْ شَعْبَانَ , قَالَ:" ذَلِكَ شَهْرٌ يَغْفُلُ النَّاسُ عَنْهُ بَيْنَ رَجَبٍ وَرَمَضَانَ، وَهُوَ شَهْرٌ تُرْفَعُ فِيهِ الْأَعْمَالُ إِلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ، فَأُحِبُّ أَنْ يُرْفَعَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ".
اسامہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جتنا میں آپ کو شعبان کے مہینے میں روزہ رکھتے ہوئے دیکھتا ہوں اتنا کسی اور مہینے میں نہیں دیکھتا، آپ نے فرمایا: ”رجب و رمضان کے درمیان یہ ایسا مہینہ ہے جس سے لوگ غفلت برتتے ہیں، یہ ایسا مہینہ ہے جس میں آدمی کے اعمال رب العالمین کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں، تو میں چاہتا ہوں کہ جب میرا عمل پیش ہو تو میں روزہ سے رہوں“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2359]
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ میں نے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے) عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے آپ کو کسی مہینے میں اتنے روزے رکھتے نہیں دیکھا جتنے آپ شعبان میں رکھتے ہیں۔ (کیا وجہ ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہ مہینہ ہے کہ رجب اور رمضان المبارک کے درمیان آنے کی وجہ سے لوگ اس سے غفلت کر جاتے ہیں، حالانکہ یہ وہ مہینہ ہے کہ اس میں رب العالمین کے ہاں انسانوں کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ میرے عمل پیش ہوں تو میں روزے سے ہوں۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2359]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 120)، مسند احمد 5/201 (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن