🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
99. باب : النهى عن أن يحنط المحرم إذا مات
باب: محرم مر جائے تو اسے خوشبو نہ لگائی جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2859
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: وَقَصَتْ رَجُلًا مُحْرِمًا نَاقَتُهُ، فَقَتَلَتْهُ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" اغْسِلُوهُ، وَكَفِّنُوهُ، وَلَا تُغَطُّوا رَأْسَهُ وَلَا تُقَرِّبُوهُ طِيبًا، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يُهِلُّ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک محرم شخص کو اس کی اونٹنی نے گرا کر اس کی گردن توڑ دی اور اسے ہلاک کر دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو آپ نے فرمایا: اسے نہلاؤ، اور کفناؤ، (لیکن) اس کا سر نہ ڈھانپنا اور نہ اسے خوشبو لگانا کیونکہ وہ (قیامت کے دن) لبیک پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2859]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک محرم کو اس کی اونٹنی نے گرا کر مار دیا۔ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو آپ نے فرمایا: اسے غسل اور کفن دو مگر اس کا سر نہ ڈھانپو اور نہ خوشبو لگاؤ، یقیناً یہ «لَبَّيْكَ» لبیک کہتا ہوا اٹھے گا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2859]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/جزاء الصید 13 (1839)، سنن ابی داود/المناسک 84 (3241)، (تحفة الأشراف: 5497)، مسند احمد (1/266) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1905
أَخْبَرَنَا عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اغْسِلُوا الْمُحْرِمَ فِي ثَوْبَيْهِ اللَّذَيْنِ أَحْرَمَ فِيهِمَا , وَاغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ , وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ وَلَا تُمِسُّوهُ بِطِيبٍ , وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُحْرِمًا".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: محرم کو اس کے ان ہی دونوں کپڑوں میں غسل دو جن میں وہ احرام باندھے ہوئے تھا، اور اسے پانی اور بیر (کے پتوں) سے نہلاؤ، اور اسے اس کے دونوں کپڑوں ہی میں کفناؤ، نہ اسے خوشبو لگاؤ، اور نہ ہی اس کا سر ڈھکو، کیونکہ وہ قیامت کے دن احرام باندھے ہوئے اٹھے گا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 1905]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: محرم کو اس کے انہی دو کپڑوں میں غسل دو جن میں اس نے احرام باندھا تھا اور اسے پانی اور بیری (کے پتوں) سے غسل دو، اس کو انہی دو کپڑوں میں کفن دو اور اسے خوشبو نہ لگاؤ اور نہ اس کا سر ڈھانپو کیونکہ وہ قیامت کے دن احرام کی حالت میں اٹھایا جائے گا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 1905]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 21 (1268)، وجزاء الصید 13 (1839)، 20 (1849)، 21 (1851)، صحیح مسلم/الحج 14 (1206)، سنن ابی داود/الجنائز 84 (3238، 3239)، سنن الترمذی/الحج 105 (951)، سنن ابن ماجہ/الحج 89 (3084)، (تحفة الأشراف: 5582)، مسند احمد 1/215، 220، 266، 286، 346، سنن الدارمی/المناسک 35 (1894)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 2715، 2861 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2714
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بِشْرٍ يُحَدِّثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ رَجُلًا وَقَعَ عَنْ رَاحِلَتِهِ فَأَقْعَصَتْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَيُكَفَّنُ فِي ثَوْبَيْنِ خَارِجًا رَأْسُهُ وَوَجْهُهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص اپنی سواری سے گر پڑا تو سواری نے اسے کچل کر ہلاک کر دیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے پانی اور بیر کے پتوں سے غسل دو، اور اسے دو کپڑوں میں کفنایا جائے، اور اس کا سر اور چہرہ کھلا رکھا جائے کیونکہ وہ قیامت کے دن لبیک کہتا ہوا اٹھایا جائے گا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2714]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی (احرام کی حالت میں) اپنی سواری سے گر پڑا، اس (سواری) نے اسے فوراً مار ڈالا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور اسے (احرام والے) دو کپڑوں میں کفن دیا جائے، سر اور چہرہ ننگا رہے کیونکہ یہ قیامت کے دن «لَبَّيْكَ» لبیک کہتا ہوا اٹھے گا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2714]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 20 (1267)، الصید 21 (1851)، صحیح مسلم/الحج 14 (1206)، سنن ابن ماجہ/الحج 89 (3084م)، (تحفة الأشراف: 5453)، مسند احمد (1/215، 286، 328، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 2856، 2857، 2860) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2715
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ يَعْنِي الْحَفَرِيَّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَاتَ رَجُلٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثِيَابِهِ، وَلَا تُخَمِّرُوا وَجْهَهُ وَرَأْسَهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص (حالت احرام میں) مر گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے پانی اور بیر کے پتے سے غسل دو اور اسے اس کے کپڑوں ہی میں کفنا دو، اور اس کے سر اور چہرے کونہ ڈھانپو کیونکہ قیامت کے دن وہ لبیک کہتا ہوا اٹھایا جائے گا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2715]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک (محرم) آدمی فوت ہو گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور اس کے (احرام کے) کپڑوں میں اسے کفنا دو اور اس کے چہرے اور سر کو نہ ڈھانپو، یہ قیامت کے دن «لَبَّيْكَ» لبیک کہتا ہوا اٹھے گا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2715]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1905 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2856
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَقَصَتْهُ نَاقَتُهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ، وَلَا تُمِسُّوهُ بِطِيبٍ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، اس کی اونٹنی نے گرا کر اس کی گردن توڑ دی، اور وہ محرم تھا تو وہ مر گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے پانی اور بیری کے پتے سے غسل دو اور اسے اس کے (احرام کے) دونوں کپڑوں ہی میں کفنا دو، نہ اسے خوشبو لگاؤ، اور نہ اس کا سر ڈھانپو کیونکہ وہ قیامت کے دن لبیک پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2856]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا کہ اسے اس کی اونٹنی نے گرا کر اس کی گردن توڑ دی، جبکہ وہ محرم تھا۔ وہ فوت ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور اسے اس کے (احرام والے) دو کپڑوں میں کفن دے دو۔ اسے خوشبو نہ لگاؤ، نہ اس کے سر کو ڈھانپو کیونکہ یہ قیامت کے دن «لَبَّيْكَ» لبیک کہتا ہوا اٹھے گا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2856]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1905 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2857
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا مُحْرِمًا صُرِعَ عَنْ نَاقَتِهِ فَأُوقِصَ، ذُكِرَ أَنَّهُ قَدْ مَاتَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: عَلَى إِثْرِهِ خَارِجًا رَأْسُهُ، قَالَ: وَلَا تُمِسُّوهُ طِيبًا، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا" , قَالَ شُعْبَةُ: فَسَأَلْتُهُ بَعْدَ عَشْرِ سِنِينَ، فَجَاءَ بِالْحَدِيثِ كَمَا كَانَ يَجِيءُ بِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" وَلَا تُخَمِّرُوا وَجْهَهُ وَرَأْسَهُ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک محرم اپنی اونٹنی سے گر گیا، تو اس کی گردن ٹوٹ گئی، ذکر کیا گیا کہ وہ مر گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے پانی اور بیر کی پتی سے غسل دو، اور دو کپڑوں ہی میں اسے کفنا دو، اس کے بعد یہ بھی فرمایا: اس کا سر کفن سے باہر رہے، فرمایا: اور اسے کوئی خوشبو نہ لگانا کیونکہ وہ قیامت کے دن تلبیہ پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا۔ شعبہ (جو اس حدیث کے راوی ہیں) کہتے ہیں: میں نے ان سے (یعنی اپنے استاد ابوبشر سے) دس سال بعد پوچھا تو انہوں نے یہ حدیث اسی طرح بیان کی جیسے پہلے کی تھی البتہ انہوں نے (اس بار اتنا مزید) کہا کہ اس کا منہ اور سر نہ ڈھانپو۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2857]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک محرم آدمی اپنی اونٹنی سے گر پڑا، اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ مر گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور اسے دو کپڑوں میں کفن دو۔ پھر اس کے بعد فرمایا: اس کا سر ننگا رہے اور اسے خوشبو نہ لگانا کیونکہ یہ قیامت کے دن «لَبَّيْكَ» لبیک پڑھتا اٹھے گا۔ (راویِ حدیث) شعبہ نے کہا کہ میں نے دس سال بعد اس (استاد ابوالبشر) سے پھر یہ حدیث پوچھی تو انہوں نے اسی طرح بیان کیا جس طرح (دس سال پہلے) وہ یہ حدیث بیان کرتے تھے، صرف اتنا زیادہ کہا: اس کے سر اور چہرے کو نہ ڈھانپو۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2857]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2714 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2858
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بَيْنَا رَجُلٌ وَاقِفٌ بِعَرَفَةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ وَقَعَ مِنْ رَاحِلَتِهِ، فَأَقْعَصَهُ أَوْ قَالَ: فَأَقْعَصَتْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ، وَلَا تُحَنِّطُوهُ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص عرفہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑا تھا کہ وہ اپنی سواری سے گر گیا اور اس کی اونٹنی نے اسے کچل کر ہلاک کر دیا۔ (راوی کو شک ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے «فأقعصه» (مذکر کے صیغہ کے ساتھ) کہا یا «فأقعصته» (مونث کے صیغہ کے ساتھ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے پانی اور بیر کی پتی سے غسل دو، اور اسے اس کے دونوں کپڑوں ہی میں کفنا دو، نہ اسے خوشبو لگاؤ، اور نہ اس کے سر کو ڈھانپو، اس لیے کہ اللہ عزوجل اسے قیامت کے دن لبیک پکارتا ہوا اٹھائے گا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2858]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی عرفہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وقوف کر رہا تھا کہ وہ اپنی اونٹنی سے گر پڑا اور اس (سواری) نے اس کی گردن توڑ ڈالی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو، اسے دو کپڑوں میں کفن دو، اسے حنوط نہ لگاؤ اور نہ اس کا سر ڈھانپو کیونکہ اللہ تعالیٰ اسے اٹھائے گا تو وہ «لَبَّيْكَ» لبیک کہہ رہا ہو گا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2858]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 19 (1265)، 20 (1266)، 21 (1268)، جزاء الصید 20 (1850)، صحیح مسلم/الحج 14 (1206)، سنن الدارمی/المناسک 3239، 3240)، (تحفة الأشراف: 5437)، مسند احمد (1/333)، سنن الدارمی/المناسک 35 (1894) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2860
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفٌ يَعْنِي ابْنَ خَلِيفَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ حَاجًّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَّهُ لَفَظَهُ بَعِيرُهُ، فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُغَسَّلُ، وَيُكَفَّنُ فِي ثَوْبَيْنِ، وَلَا يُغَطَّى رَأْسُهُ وَوَجْهُهُ، فَإِنَّهُ يَقُومُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کر رہا تھا کہ اس کے اونٹ نے اسے گرا دیا جس سے وہ مر گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے غسل دیا جائے، اور دونوں کپڑوں ہی میں اسے کفنا دیا جائے، اور اس کا سر اور چہرہ نہ ڈھانپا جائے، کیونکہ وہ قیامت کے دن لبیک پکارتا ہوا اٹھے گا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2860]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کر رہا تھا۔ اسے اس کے اونٹ نے گرا دیا اور وہ مر گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے غسل دیا جائے، دو کپڑوں میں کفن دیا جائے اور اس کے سر اور چہرے کو نہ ڈھانپا جائے کیونکہ یہ قیامت کے دن «لَبَّيْكَ» میں حاضر ہوں کہتا ہوا اٹھے گا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2860]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2714 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2861
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاق، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ: أَقْبَلَ رَجُلٌ حَرَامًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَّ مِنْ فَوْقِ بَعِيرِهِ، فَوُقِصَ وَقْصًا، فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَأَلْبِسُوهُ ثَوْبَيْهِ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلَبِّي".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص احرام باندھے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آیا، تو وہ اپنے اونٹ پر سے گر پڑا تو اسے کچل ڈالا گیا اور وہ مر گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے پانی اور بیر کی پتی سے غسل دو، اور اسے اس کے یہی دونوں (احرام کے) کپڑے پہنا دو، اور اس کا سر نہ ڈھانپو کیونکہ وہ قیامت کے دن لبیک پکارتا ہوا آئے گا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2861]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک محرم شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (حج کو) آیا، (عرفات میں) وہ اپنے اونٹ سے گر پڑا، اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ مر گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور اسے (کفن میں) اسی کے (احرام والے) دو کپڑے پہنا دو اور اس کا سر نہ ڈھانپو، کیونکہ یہ قیامت کے دن «لَبَّيْكَ» میں حاضر ہوں کہتا ہوا آئے گا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2861]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1905 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں