سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب : ما افترض الله عز وجل على رسوله عليه السلام وحرمه على خلقه ليزيده إن شاء الله قربة إليه
باب: اس چیز کا بیان جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے اپنی قربت دکھانے کے لیے حلال رکھا اور اپنی مخلوق کے لیے حرام کر دیا۔
حدیث نمبر: 3205
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيل، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاخْتَرْنَاهُ، فَلَمْ يَكُنْ طَلَاقًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (انتخاب کا) اختیار دیا، تو ہم سب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چن لیا تو یہ (اختیار) طلاق نہیں تھا۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3205]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں طلاق کا اختیار دیا تھا مگر ہم سب نے آپ کو ترجیح دی، لہٰذا یہ اختیار دینا طلاق نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3205]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الطلاق 5 (5263)، صحیح مسلم/الطلاق 4 (1476)، سنن الترمذی/الطلاق 4 (1179)، (تحفة الأشراف: 17614)، مسند احمد (6/97، 202، 205، سنن الدارمی/الطلاق 5 (2315)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 3471، 3472، 3473) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 3204
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ:" قَدْ خَيَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ أَوْ كَانَ طَلَاقًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو اختیار دیا۔ کیا وہ طلاق تھا؟ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3204]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق کا اختیار دیا تھا، تو کیا یہ طلاق ہو گی؟ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3204]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الطلاق 5 (5262)، صحیح مسلم/الطلاق 4 (1477)، سنن ابی داود/الطلاق 12 (2203)، سنن الترمذی/الطلاق 4 (1179م)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 12 (2052)، (تحفة الأشراف: 17634)، مسند احمد (6/45، 47، 173، 239، 240، 264، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 3474، 3475) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: نہیں، طلاق نہیں تھا گویا بیوی جب شوہر کو اختیار کر لے تو تخییر طلاق نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 3471
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاخْتَرْنَاهُ، فَهَلْ كَانَ طَلَاقًا؟".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم (ازواج مطہرات) کو اختیار دیا تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو چن لیا، تو کیا یہ طلاق ہوئی؟ (نہیں، یہ طلاق نہیں ہوئی)۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3471]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اختیار دیا تھا اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو پسند کیا تھا، تو کیا یہ طلاق بن گئی؟ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3471]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3205 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3472
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، قَالَ: قَالَ الشَّعْبِيُّ: عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" قَدْ خَيَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ، فَلَمْ يَكُنْ طَلَاقًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو اختیار دیا تو یہ اختیار دینا طلاق نہیں ہوا۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3472]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو اختیار دیا تھا، لیکن یہ اختیار طلاق نہیں بنا۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3472]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3205 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3473
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ صُدْرَانَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَشْعَثُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ , عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" قَدْ خَيَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ، فَلَمْ يَكُنْ طَلَاقًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو اختیار دیا تو یہ اختیار طلاق نہیں تھا۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3473]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو اختیار دیا تھا، لیکن یہ اختیار طلاق نہیں بنا۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3473]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3203 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3474
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" قَدْ خَيَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ، أَفَكَانَ طَلَاقًا؟".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو (انتخاب کا) اختیار دیا تو کیا یہ (اختیار) طلاق تھا؟ (نہیں، یہ طلاق نہیں تھا)۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3474]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات کو طلاق کا اختیار دیا تھا، تو کیا یہ طلاق بن گیا؟ (جب کہ انہوں نے آپ کو اختیار کیا تھا)۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3474]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3204 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3475
أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الضَّعِيفُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَرْنَاهُ، فَلَمْ يَعُدَّهَا عَلَيْنَا شَيْئًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اختیار دیا تو ہم سب نے آپ کو منتخب اور قبول کر لیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہم سے متعلق کچھ بھی شمار نہ کیا۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3475]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار دیا تھا، ہم سب نے (طلاق کے بجائے) آپ کو پسند کیا، چنانچہ آپ نے اس عمل کو ہمارے خلاف طلاق شمار نہیں فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3475]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3304 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن