🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
68. باب : إباحة التزوج بغير صداق
باب: بغیر مہر کے نکاح کے جواز کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3356
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ زَائِدَةَ بْنِ قُدَامَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ , قَالَا: أُتِيَ عَبْدُ اللَّهِ فِي رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا، فَتُوُفِّيَ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: سَلُوا هَلْ تَجِدُونَ فِيهَا أَثَرًا , قَالُوا: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ: مَا نَجِدُ فِيهَا، يَعْنِي أَثَرًا، قَالَ: أَقُولُ بِرَأْيِي , فَإِنْ كَانَ صَوَابًا، فَمِنَ اللَّهِ: لَهَا كَمَهْرِ نِسَائِهَا لَا وَكْسَ وَلَا شَطَطَ وَلَهَا الْمِيرَاثُ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ، فَقَامَ رَجُلٌ مَنْ أَشْجَعَ، فَقَالَ: فِي مِثْلِ هَذَا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِينَا فِي امْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا بَرْوَعُ بِنْتُ وَاشِقٍ تَزَوَّجَتْ رَجُلًا، فَمَاتَ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا،" فَقَضَى لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ صَدَاقِ نِسَائِهَا وَلَهَا الْمِيرَاثُ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ"، فَرَفَعَ عَبْدُ اللَّهِ يَدَيْهِ، وَكَبَّرَ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: لَا أَعْلَمُ أَحَدًا قَالَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ الْأَسْوَدُ غَيْرَ زَائِدَةَ.
علقمہ اور اسود کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک ایسے شخص کا معاملہ پیش کیا گیا جس نے ایک عورت سے شادی تو کی لیکن اس کا مہر متعین نہ کیا اور اس سے خلوت سے پہلے مر گیا؟ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگوں سے پوچھو کہ کیا تم لوگوں کے سامنے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں) ایسا کوئی معاملہ پیش آیا ہے؟ لوگوں نے کہا: عبداللہ! ہم کوئی ایسی نظیر نہیں پاتے۔ تو انہوں نے کہا: میں اپنی عقل و رائے سے کہتا ہوں اگر درست ہو تو سمجھو کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے۔ اسے مہر مثل دیا جائے گا ۱؎، نہ کم اور نہ زیادہ، اسے میراث میں اس کا حق و حصہ دیا جائے گا اور اسے عدت بھی گزارنی ہو گی۔ (یہ سن کر) اشجع (قبیلے کا) ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہا: ہمارے یہاں کی ایک عورت بروع بنت واشق رضی اللہ عنہا کے معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی فیصلہ دیا تھا، اس عورت نے ایک شخص سے نکاح کیا، وہ شخص اس کے پاس (خلوت میں) جانے سے پہلے مر گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے خاندان کی عورتوں کی مہر کے مطابق اس کی مہر کا فیصلہ کیا اور (بتایا کہ) اسے میراث بھی ملے گی اور عدت بھی گزارے گی۔ (یہ سن کر) عبداللہ بن مسعود نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا دیئے (اور خوش ہو کر اللہ کا شکر ادا کیا کہ ان کا فیصلہ صحیح ہوا) اور اللہ اکبر کہا (یعنی اللہ کی بڑائی بیان کی)۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں کہ اس حدیث میں اسود کا ذکر زائدہ کے سوا کسی نے نہیں کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3356]
حضرت علقمہ اور اسود رحمہما اللہ سے منقول ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایک ایسے آدمی کے بارے میں سوال کیا گیا جس نے کسی عورت سے نکاح کیا مگر مہر مقرر نہ کیا، نیز وہ بیوی کے ساتھ صحبت کرنے سے پہلے ہی فوت ہو گیا۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگوں سے پوچھو کیا اس بارے میں کوئی فرمانِ رسول موجود ہے؟ لوگوں نے کہا: اے ابو عبدالرحمن! ہم اس بارے میں کوئی فرمان نہیں پاتے۔ انہوں نے فرمایا: (اب) میں اپنی رائے سے بات کرتا ہوں، اگر میری بات درست ہے تو اللہ کی طرف سے ہو گی، (میری رائے یہ ہے کہ) اس عورت کو اس جیسی دوسری عورتوں کے مطابق مہر ملے گا (یعنی مہر مثل) نہ کم نہ زیادہ، اسے وراثت بھی ملے گی اور اسے عدتِ وفات بھی گزارنی ہو گی۔ اتنے میں اشجع قبیلے کا آدمی کھڑا ہو کر کہنے لگا: ہمارے قبیلے کی ایک عورت بروع بنت واشق رضی اللہ عنہا کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی فیصلہ فرمایا تھا، اس عورت نے ایک آدمی سے نکاح کیا تھا اور وہ اس کے ساتھ صحبت کرنے سے پہلے ہی فوت ہو گیا تھا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ: عورت کو اس جیسی دوسری عورتوں کے مطابق مہر ملے گا، اسے وراثت بھی ملے گی اور اسے عدت بھی گزارنی ہو گی۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے (بطور تشکر و خوشی) اپنے ہاتھ اٹھائے اور «اللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے کہا۔ ابو عبدالرحمن (امام نسائی رحمہ اللہ) بیان کرتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ زائدہ کے علاوہ کسی اور راوی نے اس حدیث میں اسود کا ذکر کیا ہو۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3356]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/النکاح 32 (2114، 2115) مختصراً، سنن الترمذی/النکاح 43 (1145)، سنن ابن ماجہ/النکاح 18 (1891)، (تحفة الأشراف: 11461)، مسند احمد (3/480، 4/280، 479)، سنن الدارمی/النکاح 47 (2292)، ویأتی عند المؤلف فیما بعد: 3357-3360 و فی الطلاق57 (برقم3554) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اس کے کنبے اور قبیلے کی عورتوں کا جو مہر ہوتا ہے اسی اعتبار سے اس کا مہر بھی مقرر کر کے دیا جائے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3359
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , مِثْلَهُ.
علقمہ نے عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے اسی طرح روایت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3359]
حضرت علقمہ رحمہ اللہ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایسا ہی واقعہ بیان کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3359]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3356 (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں