سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. باب : الإنسية تستوحش
باب: اگر مانوس اور پالتو جانور وحشی ہو جائے تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 4302
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذِي الْحُلَيْفَةِ مِنْ تِهَامَةَ، فَأَصَابُوا إِبِلًا وَغَنَمًا، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُخْرَيَاتِ الْقَوْمِ، فَعَجَّلَ أَوَّلُهُمْ فَذَبَحُوا، وَنَصَبُوا الْقُدُورَ، فَدُفِعَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ بِالْقُدُورِ فَأُكْفِئَتْ، ثُمَّ قَسَّمَ بَيْنَهُمْ فَعَدَلَ عَشْرًا مِنَ الشَّاءِ بِبَعِيرٍ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ نَدَّ بَعِيرٌ وَلَيْسَ فِي الْقَوْمِ إِلَّا خَيْلٌ يَسِيرَةٌ، فَطَلَبُوهُ فَأَعْيَاهُمْ، فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ اللَّهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لِهَذِهِ الْبَهَائِمِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ، فَمَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اسی دوران کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تہامہ کے ذی الحلیفہ میں تھے تو لوگوں کو کچھ اونٹ ملے اور کچھ بکریاں (بطور مال غنیمت) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں کے پیچھے تھے، تو آگے کے لوگوں نے جلدی کی اور (تقسیم غنیمت سے پہلے) انہیں ذبح کیا اور ہانڈیاں چڑھا دیں، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہنچے، آپ نے حکم دیا تو ہانڈیاں الٹ دی گئیں، پھر آپ نے ان کے درمیان مال غنیمت تقسیم کیا اور دس بکریوں کو ایک اونٹ کے برابر قرار دیا، ابھی وہ اسی میں مصروف تھے کہ اچانک ایک اونٹ بھاگ نکلا، لوگوں کے پاس گھوڑے بہت کم تھے، وہ اس کو پکڑنے دوڑے تو اس نے انہیں تھکا دیا، ایک شخص نے ایک تیر پھینکا تو اللہ تعالیٰ نے اسے روک دیا (تیر لگ جانے سے) اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان چوپایوں میں بعض وحشی ہو جاتے ہیں جنگلی جانوروں کی طرح، لہٰذا جو تم پر غالب آ جائے (یعنی تمہارے ہاتھ نہ آئے) اس کے ساتھ ایسا ہی کرو ۱؎“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4302]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تہامہ کے ذوالحلیفہ میں تھے۔ لوگوں کو کچھ اونٹ اور بکریاں ملیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخر میں تھے۔ لشکر کے ابتدائی لوگوں نے جلدی کرتے ہوئے ان جانوروں کو ذبح کیا اور ہانڈیاں (یا دیگیں) چڑھا دیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس پہنچے تو آپ نے حکم دیا کہ دیگیں الٹ دی جائیں، پھر آپ نے غنیمت ان میں تقسیم فرمائی اور دس بکریوں کو ایک اونٹ کے برابر قرار دیا۔ اس دوران میں ایک اونٹ بھاگ کھڑا ہوا۔ لوگوں کے پاس خال خال گھوڑے تھے۔ لوگوں نے اس کو پکڑنے کی کوشش کی لیکن وہ قابو نہ آسکا۔ ایک آدمی نے اس کو تیر مارا تو وہ رک گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان گھریلو جانوروں میں بھی بعض کبھی کبھی وحشی بن جاتے (جنگلی جانوروں کی طرح انسانوں سے بھاگنے لگتے) ہیں، لہٰذا اگر کوئی جانور قابو نہ آئے تو اس سے یہی سلوک کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4302]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الشرکة 3 (2488)، 16(2507)، الجہاد 191(3075مطولا)، الذبائح 15 (5498)، 18 (5503)، 23 (5509)، 36 (5543)، 37 (5544)، صحیح مسلم/الأضاحي 4 (1968)، سنن ابی داود/4الأضاحي 15 (2821)، سنن الترمذی/الصید 19(1492)، السیر 40 (1600) (مختصراً)، سنن ابن ماجہ/الذبائح 9 (3183)، (تحفة الأشراف: 3561)، مسند احمد (3/463، 464، و4/140، سنن الدارمی/الأضاحي 15 (2020)، ویأتي عند المؤلف في الضحایا 15، 26 (بأرقام4396، 4408، 4415، 4416) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی: جب اختیاری طور پر ذبح نہ کر سکو تو ذبح کی اضطراری شکل اختیار کرو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4414
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ رَافِعٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَاقُو الْعَدُوِّ غَدًا، وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى؟، قَالَ:" مَا أَنْهَرَ الدَّمَ، وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَكُلْ مَا خَلَا السِّنَّ، وَالظُّفُرَ"، قَالَ: فَأَصَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهْبًا فَنَدَّ بَعِيرٌ، فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ، فَقَالَ:" إِنَّ لِهَذِهِ النَّعَمِ، أَوْ قَالَ: الْإِبِلِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ، فَمَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا , فَافْعَلُوا بِهِ هَكَذَا".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کل دشمن سے ملیں گے اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں، آپ نے فرمایا: ”دانت اور ناخن کے علاوہ جس کسی آلہ سے (جانور کا) خون بہہ جائے اور اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو تو اسے کھاؤ“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ اونٹ اور غنیمت کا مال ملا، ان میں سے ایک اونٹ بدک کر بھاگ گیا، ایک شخص نے اسے تیر مارا، جس سے وہ رک گیا، آپ نے فرمایا: ”ان جانوروں میں، یا یوں فرمایا: ان اونٹوں میں، جنگل کے وحشی جانوروں کی طرح بعض بدکنے والے ہوتے ہیں تو جو تم کو ان میں سے کوئی (پکڑنے میں) تھکا دے، تو اس کے ساتھ اسی طرح کرو“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4414]
حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کل ہمارا دشمن سے مقابلہ ہو گا، ہمارے پاس چھری قسم کی کوئی چیز نہیں (تو ذبح کیسے کریں؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو چیز بھی خون بہا دے اور اللہ تعالیٰ کا نام ذکر کر دیا جائے تو (ایسا ذبیحہ) کھایا جا سکتا ہے، علاوہ دانت اور ناخن کے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غنیمت میں اونٹ حاصل ہوئے، ان میں سے ایک اونٹ بھاگ گیا، ایک آدمی نے اس کو (پیچھے سے) تیر مارا جس سے وہ رک گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ گھریلو جانور یا اونٹ بھی کبھی جنگلی جانوروں کی طرح بے قابو ہو جاتے ہیں، لہٰذا جو جانور تم سے بے قابو ہو جائے، اس سے یہی سلوک کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4414]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4302 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4415
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَاقُو الْعَدُوِّ غَدًا، وَلَيْسَتْ مَعَنَا مُدًى؟، قَالَ:" مَا أَنْهَرَ الدَّمَ، وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَكُلْ لَيْسَ السِّنَّ، وَالظُّفُرَ، وَسَأُحَدِّثُكُمْ، أَمَّا السِّنُّ: فَعَظْمٌ، وَأَمَّا الظُّفُرُ: فَمُدَى الْحَبَشَةِ"، وَأَصَبْنَا نَهْبَةَ إِبِلٍ، أَوْ غَنَمٍ فَنَدَّ مِنْهَا بَعِيرٌ فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لِهَذِهِ الْإِبِلِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ، فَإِذَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا شَيْءٌ فَافْعَلُوا بِهِ هَكَذَا".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ کل دشمن سے ملیں گے، اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں، آپ نے فرمایا: ”جس آلہ سے خون بہہ جائے اور وہ دانت ناخن نہ ہو اور اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو تو اسے کھاؤ، اور جلد ہی میں تمہیں اس کا سبب بتاتا ہوں، رہا دانت تو وہ ہڈی ہے اور رہا ناخن تو وہ حبشہ والوں کی چھری ہے“، پھر مال غنیمت میں ہمیں کچھ بکریاں یا اونٹ ملے، ان میں سے ایک اونٹ بدک کر بھاگ گیا، ایک شخص نے ایک تیر اسے مارا جس سے وہ رک گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان اونٹوں میں کچھ جنگلی وحشیوں کی طرح بدکنے والے ہیں، لہٰذا جب تم کو ان میں سے کوئی تھکا دے تو اس کے ساتھ ایسا ہی کرو“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4415]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کل دشمن سے ہماری ملاقات ہو گی اور ہمارے پاس چھری (وغیرہ کچھ) نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو چیز بھی خون بہا دے بشرطیکہ اللہ کا نام لیا گیا ہو، اسے کھا سکتے ہو۔ علاوہ دانت اور ناخن کے۔ اور اس کی وجہ بھی میں تمہیں بیان کرتا ہوں: دانت تو ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے۔“ ہمیں اس جنگ میں اونٹ اور بکریاں مال غنیمت میں حاصل ہوئیں، ان میں سے ایک اونٹ بھاگ گیا تو ایک آدمی نے تیر مار کر اسے روک دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اونٹ بھی کبھی جنگلی جانوروں کی طرح بھاگ اٹھتے ہیں۔ جب وہ تم سے بے قابو ہو جائیں تو تم ان سے یہی سلوک کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4415]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4302 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن