🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
39. باب : دية جنين المرأة
باب: عورت کے پیٹ کے بچے کی دیت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4825
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفٌ وَهُوَ ابْنُ تَمِيمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ: أَنَّ امْرَأَةً ضَرَبَتْ ضَرَّتَهَا بِعَمُودِ فُسْطَاطٍ فَقَتَلَتْهَا وَهِيَ حُبْلَى، فَأُتِيَ فِيهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ," فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ، بِالدِّيَةِ وَفِي الْجَنِينِ غُرَّةً"، فَقَالَ عَصَبَتُهَا: أَدِي مَنْ لَا طَعِمَ، وَلَا شَرِبَ، وَلَا صَاحَ، فَاسْتَهَلَّ فَمِثْلُ هَذَا يُطَلَّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الْأَعْرَابِ؟".
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنی سوکن کو خیمے کی لکڑی (کھونٹی) سے مارا، جس سے وہ مر گئی، وہ حمل سے تھی، چنانچہ معاملہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، تو آپ نے مارنے والی عورت کے عصبہ پر دیت کا اور جنین (پیٹ کے بچہ) کے بدلے ایک «غرہ» (غلام یا ایک لونڈی) دینے کا فیصلہ کیا۔ اس کے خاندان والے بولے: کیا اس کی بھی دیت ادا کی جائے گی، جس نے نہ کھایا، نہ پیا، نہ چیخا اور نہ چلایا۔ ایسا خون تو لغو ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اعراب (دیہاتیوں) کی طرح مسجع کلام کرتے ہو۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4825]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت نے اپنی سوکن کو خیمے کی لکڑی دے ماری اور اسے قتل کر دیا جبکہ وہ حاملہ تھی۔ (لہٰذا حمل بھی ضائع ہو گیا)۔ یہ مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ قاتل عورت کے عصبہ (مقتولہ کی) دیت بھریں، نیز پیٹ کے بچے کے بدلے غرہ دیں۔ اس عورت کا عصبہ کہنے لگا: کیا میں ایسے بچے کی دیت دوں جس نے پیا نہ کھایا، چیخا نہ چلایا؟ ایسا بچہ تو کسی شمار و قطار میں نہیں ہونا چاہیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو اعرابیوں جیسی تک بندی کرتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4825]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/القسامة (الحدود) 11 (1682)، سنن ابی داود/الدیات 21 (4568)، سنن الترمذی/الدیات 15 (1411)، سنن ابن ماجہ/الدیات 7 (2633)، (تحفة الأشراف: 11510، 18417)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الدیات 25 (6910)، الاعتصام 13 (7317)، مسند احمد (4/224، 245، 246، 249)، سنن الدارمی/الدیات 20 (2425)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 4826-4831) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4826
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: ضَرَبَتِ امْرَأَةٌ ضَرَّتَهَا بِعَمُودِ الْفُسْطَاطِ، وَهِيَ حُبْلَى , فَقَتَلَتْهَا،" فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِيَةَ الْمَقْتُولَةِ عَلَى عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ، وَغُرَّةً لِمَا فِي بَطْنِهَا". فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ: أَنَغْرَمُ دِيَةَ مَنْ لَا أَكَلْ وَلَا شَرِبَ وَلَا اسْتَهَلَّ فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلَّ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الْأَعْرَابِ؟" فَجَعَلَ عَلَيْهِمُ الدِّيَةَ.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنی سوکن کو خیمے کی لکڑی کھونٹی سے مارا وہ حمل سے تھی، اور مر گئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتول عورت کی دیت اور پیٹ کے بچے کے بدلے ایک «غرہ» (ایک غلام یا لونڈی) قاتل عورت کے خاندان والوں پر مقرر فرمایا۔ تو قاتل عورت کے خاندان کا ایک شخص بولا: کیا ہم اس کی بھی دیت ادا کریں گے جس نے نہ کھایا نہ پیا اور نہ چیخا، ایسا خون تو معاف ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا یہ اعراب (دیہاتیوں) کی طرح سجع کرتا ہے، پھر ان پر دیت لازم ٹھہرائی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4826]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ایک عورت نے اپنی سوکن کو خیمے کا ستون کھینچ مارا جب کہ وہ حاملہ تھی، وہ مر گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتولہ کی دیت قاتلہ کے قریبی نسبی رشتہ داروں پر ڈال دی اور مقتولہ کے پیٹ کے بچے کی دیت میں ایک «غُرَّة» غرہ لازم کیا۔ قاتلہ کے رشتہ داروں میں سے ایک شخص کہنے لگا: کیا ہم ایسے بچے کی دیت بھریں جس نے کھایا نہ پیا اور نہ چوں کی؟ ایسا بچہ تو ضائع اور لغو ہوتا ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أَسَجْعًا كَسَجْعِ الْأَعْرَابِ؟» کیا اعرابیوں جیسی مسجع و مقفیٰ کلام بولتے ہو؟ پھر ان پر دیت لاگو کی۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4826]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث میں باب سے مناسبت اس طرح ہے کہ خیمے کی لکڑی سے عموماً آدمی کا قتل عمل نہیں آتا اس لیے جب اس کی مار سے وہ عورت مر گئی تو اس قتل کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قتل خطا یا قتل شبہ عمد (غلطی سے قتل) قرار دے کر اس کی دیت مقرر کی، نیز اس میں باب کے دوسرے جزء سے مناسبت اس طرح ہے کہ مقتول عورت اور جنین (ساقط حمل) کی دیت دونوں قاتلہ عورت کے خاندان کے ذمہ لگائی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4827
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَنَّ ضَرَّتَيْنِ ضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِعَمُودِ فُسْطَاطٍ فَقَتَلَتْهَا، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بِالدِّيَةِ عَلَى عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ , وَقَضَى لِمَا فِي بَطْنِهَا بِغُرَّةٍ"، فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: تُغَرِّمُنِي مَنْ لَا أَكَلْ , وَلَا شَرِبَ , وَلَا صَاحَ فَاسْتَهَلَّ فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلَّ؟ فَقَالَ:" سَجْعٌ كَسَجْعِ الْجَاهِلِيَّةِ"، وَقَضَى لِمَا فِي بَطْنِهَا بِغُرَّةٍ.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دو سوکنوں میں سے ایک نے دوسری کو خیمے کی لکڑی سے مارا، تو وہ مر گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قاتلہ کے خاندان والوں کی جانب سے دیت ادا کیے جانے کا فیصلہ کیا اور پیٹ کے بچے کے لیے ایک «غرہ» یعنی ایک غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ کیا۔ ایک اعرابی (دیہاتی) نے کہا: آپ مجھ سے ایسی جان کی دیت ادا کروا رہے ہیں جس نے نہ کھایا، نہ پیا، نہ چیخا، نہ چلایا۔ ایسا خون تو لغو ہے۔ آپ نے فرمایا: یہ تو جاہلیت کی سجع کی طرح ہے، اور پیٹ کے بچے کے لیے ایک «غرہ» یعنی ایک غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ کیا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4827]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو سوکنوں میں سے ایک نے دوسری کو خیمہ کی لکڑی دے ماری اور اسے قتل کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت قاتلہ کے نسبی رشتہ داروں پر ڈال دی اور مقتولہ کے پیٹ کے بچے کی دیت غرہ قرار دی۔ اعرابی کہنے لگا: آپ مجھ پر ایسے بچے کی دیت ڈال رہے ہیں جس نے نہ کھایا نہ پیا، نہ چیخا نہ چلایا؟ ایسا بچہ تو ضائع اور لغو ہوتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زمانہ جاہلیت جیسی مسجع و مقفیٰ گفتگو ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیٹ کے بچے کی دیت غرہ مقرر فرمائی۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4827]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4825 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4828
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ:" ضَرَبَتِ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي لِحْيَانَ ضَرَّتَهَا بِعَمُودِ الْفُسْطَاطِ فَقَتَلَتْهَا، وَكَانَ بِالْمَقْتُولَةِ حَمْلٌ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَى عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ بِالدِّيَةِ وَلِمَا فِي بَطْنِهَا بِغُرَّةٍ".
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بنی لحیان کی ایک عورت نے اپنی سوکن کو خیمے کی لکڑی سے مارا، جس سے وہ مر گئی، مقتولہ حمل سے تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قاتل عورت کے خاندان والوں پر دیت اور پیٹ کے بچے کے لیے ایک «غرہ» یعنی ایک غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ کیا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4828]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: بنو لحیان کی ایک عورت نے اپنی سوکن کو خیمے کی لکڑی دے ماری اور اسے قتل کر دیا۔ مقتولہ کو حمل تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دیت قاتلہ کے نسبی رشتہ داروں پر ڈال دی اور اس (مقتولہ) کے پیٹ کے بچے کی دیت «غُرَّة» غرہ مقرر فرمائی۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4828]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4825 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4829
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ: أَنَّ امْرَأَتَيْنِ كَانَتَا تَحْتَ رَجُلٍ مِنْ هُذَيْلٍ فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِعَمُودِ فُسْطَاطٍ فَأَسْقَطَتْ، فَاخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: كَيْفَ نَدِي مَنْ لَا صَاحَ وَلَا اسْتَهَلَّ وَلَا شَرِبَ وَلَا أَكَلْ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الْأَعْرَابِ"، فَقَضَى:" بِالْغُرَّةِ عَلَى عَاقِلَةِ الْمَرْأَةِ".
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دو عورتیں ہذیل کے ایک شخص کے نکاح میں تھیں۔ ایک نے دوسری کو خیمے کا ڈنڈا پھینک کر مارا جس سے اس کا حمل ساقط ہو گیا، فریقین جھگڑا لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے، لوگوں نے کہا: ہم اس کی دیت کیوں کر ادا کریں جو نہ چیخا، نہ چلایا، نہ پیا، نہ کھایا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا دیہاتیوں کی طرح سجع کرتا ہے؟ اور آپ نے عورت کے کنبے والوں پر «غرہ» یعنی ایک غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ کیا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4829]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو ہذیل کے ایک آدمی کے نکاح میں دو عورتیں تھیں۔ ایک نے دوسری کو خیمے کی لکڑی دے ماری اور اس کے پیٹ کا بچہ گرا دیا۔ فریقین جھگڑتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ قاتل فریق کہنے لگا: ہم اس بچے کی کیسے دیت ادا کریں جس نے پیا نہ کھایا، نہ چیخا نہ چلایا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا اعرابیوں کی طرح تک بندی کر رہے ہو؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «غُرَّة» غلام یا لونڈی بطور دیت قاتل عورت کے نسبی رشتہ داروں کے ذمے ڈال دی۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4829]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4825 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4830
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، قَالَ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ: أَنَّ رَجُلًا مِنْ هُذَيْلٍ كَانَ لَهُ امْرَأَتَانِ , فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِعَمُودِ الْفُسْطَاطِ فَأَسْقَطَتْ، فَقِيلَ: أَرَأَيْتَ مَنْ لَا أَكَلْ وَلَا شَرِبَ وَلَا صَاحَ فَاسْتَهَلَّ؟ فَقَالَ:" أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الْأَعْرَابِ؟"، فَقَضَى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ , وَجُعِلَتْ عَلَى عَاقِلَةِ الْمَرْأَةِ". أَرْسَلَهُ الْأَعْمَشُ.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہذیل کے ایک شخص کی دو بیویاں تھیں، ان میں سے ایک نے دوسری کو خیمے کی لکڑی سے مارا، جس سے اس کا حمل ساقط ہو گیا، عرض کیا گیا: جس نے نہ کھایا، نہ پیا، جو نہ چیخا نہ چلایا، اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ تو دیہاتیوں کی سی سجع ہے؟ پھر آپ نے اس میں ایک «غرہ» یعنی ایک غلام یا ایک لونڈی دینے کا فیصلہ کیا، اور اس کی ذمہ داری (قاتل) عورت کے کنبے والوں پر ٹھہرائی۔ اعمش نے اسے مرسل روایت کیا ہے۔ (ان کی روایت آگے آ رہی ہے) [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4830]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو ہذیل کے ایک آدمی کی دو بیویاں تھیں۔ ایک نے دوسری کو خیمے کا ستون دے مارا اور اس کا حمل گرا دیا۔ (جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کی دیت بیان فرمائی تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: بتائیں تو بھلا جس بچے نے نہ پیا نہ کھایا، نہ چیخا نہ چلایا (کیا اس کی بھی دیت ہوگی؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کیا اعرابیوں جیسی تک بندی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دیت «غُرَّة»، یعنی ایک غلام یا لوندی مقرر فرمائی اور اسے عورت کے نسبی رشتہ داروں کے ذمے ڈال دیا۔ اعمش نے اسے مرسل بیان کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4830]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4825 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں